2 غیر ملکیوں کا اغوا ضمانت پر رہا ہونیوالا پولیس افسردوبارہ تعینات
اعلیٰ افسران کی آشیربادحاصل کرنے کے بعد تفتیشی افسرنثاراعوان نے دوبارہ اے وی سی سی میں پوسٹنگ کرالی
اعلیٰ افسران کی آشیربادحاصل کرنے کے بعد تفتیشی افسرنثاراعوان نے دوبارہ اے وی سی سی میں پوسٹنگ کرالی (فوٹو : فائل)
DUBAI:
غیرملکیوں کے اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں گرفتار انسپکٹرضمانت پررہا ہونے کے بعد دوبارہ اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل یونٹ میں تعینات کردیا گیا۔
گزشتہ سال ڈیفنس پولیس نے گزری تھانے کے علاقے میں چھاپہ مار کر 2غیرملکی باشندوں کوبازیاب کرایا تھا جبکہ اغوا میں ملوث ملزمان فرار ہو گئے تھے،اغوا کا مقدمہ ڈیفنس تھانے میں درج کیا گیا تھا جس کی تفتیش ڈیفنس آپریشن اورڈیفنس انویسٹی گیشن پولیس نے مشترکہ طورپرکررہی تھی اسی دوران ڈیفنس پولیس نے مبینہ طور پربھاری رشوت لیکربازیاب کرائے گئے غیرملکیوں کو کسی نامعلوم افراد کے حوالے کردیا تھا۔
بعدازاں غیرملکیوں کے اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی تفتیش اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل منتقل کردی گئی ،دوران سماعت عدالت نے جب ڈیفنس پولیس اورمقدمے کے تفتیشی افسر انسپکٹر نثار اعوان سے استفسار کیا کہ بازیاب کرائے گئے غیرملکی باشندے کہاں ہیں توڈیفنس پولیس اورتفتیشی افسر نثاراعوان عدالت کو مطمئن نہ کرسکے اورعدالت کوبتایا کہ بازیاب کرائے جانے والے دونوں غیرملکی باشندوں کو رہا کردیا گیا ہے۔
عدالت نے ڈیفنس پولیس اورتفتیشی افسر نثاراعوان پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کراچی پولیس چیف کوعدالت طلب کرلیا اورکہاں کہ اہم ترین مقدمے کی تفتیش ناقص سمت کی جانب لے جائی جارہی ہے، تفتیشی افسر نثار اعوان اور ڈیفنس آپریشن اورانویسٹی گیشن پولیس کے خلاف کارروائی کی جائے،تفتیشی افسر نثاراعوان، ایس ایچ اوڈیفنس سب انسپکٹرمحمد علی نیازی ،ایس آئی او ڈیفنس سب انسپکٹروسیم ابڑوکوغیرملکیوں کے اغوا برائے تاوان کے ہی مقدمے میں گرفتارکرلیا گیا۔
اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی ناقص تفتیش کرنے والے ملزم تفتیشی افسر انسپکٹر نثار اعوان عدالت سے ضانت پر رہا ہونے کے بعد اعلیٰ پولیس افسران کی آشیرباد حاصل کرنے کے بعد دوبارہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل میں تعینات ہوگیا جس سے محکمہ پولیس کے افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس میں دو قانون موجود ہیں ،طاقتور کے لیے الگ قانون اور دوسرے کے لیے الگ قانون ہے۔
غیرملکیوں کے اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں گرفتار انسپکٹرضمانت پررہا ہونے کے بعد دوبارہ اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل یونٹ میں تعینات کردیا گیا۔
گزشتہ سال ڈیفنس پولیس نے گزری تھانے کے علاقے میں چھاپہ مار کر 2غیرملکی باشندوں کوبازیاب کرایا تھا جبکہ اغوا میں ملوث ملزمان فرار ہو گئے تھے،اغوا کا مقدمہ ڈیفنس تھانے میں درج کیا گیا تھا جس کی تفتیش ڈیفنس آپریشن اورڈیفنس انویسٹی گیشن پولیس نے مشترکہ طورپرکررہی تھی اسی دوران ڈیفنس پولیس نے مبینہ طور پربھاری رشوت لیکربازیاب کرائے گئے غیرملکیوں کو کسی نامعلوم افراد کے حوالے کردیا تھا۔
بعدازاں غیرملکیوں کے اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی تفتیش اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل منتقل کردی گئی ،دوران سماعت عدالت نے جب ڈیفنس پولیس اورمقدمے کے تفتیشی افسر انسپکٹر نثار اعوان سے استفسار کیا کہ بازیاب کرائے گئے غیرملکی باشندے کہاں ہیں توڈیفنس پولیس اورتفتیشی افسر نثاراعوان عدالت کو مطمئن نہ کرسکے اورعدالت کوبتایا کہ بازیاب کرائے جانے والے دونوں غیرملکی باشندوں کو رہا کردیا گیا ہے۔
عدالت نے ڈیفنس پولیس اورتفتیشی افسر نثاراعوان پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کراچی پولیس چیف کوعدالت طلب کرلیا اورکہاں کہ اہم ترین مقدمے کی تفتیش ناقص سمت کی جانب لے جائی جارہی ہے، تفتیشی افسر نثار اعوان اور ڈیفنس آپریشن اورانویسٹی گیشن پولیس کے خلاف کارروائی کی جائے،تفتیشی افسر نثاراعوان، ایس ایچ اوڈیفنس سب انسپکٹرمحمد علی نیازی ،ایس آئی او ڈیفنس سب انسپکٹروسیم ابڑوکوغیرملکیوں کے اغوا برائے تاوان کے ہی مقدمے میں گرفتارکرلیا گیا۔
اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی ناقص تفتیش کرنے والے ملزم تفتیشی افسر انسپکٹر نثار اعوان عدالت سے ضانت پر رہا ہونے کے بعد اعلیٰ پولیس افسران کی آشیرباد حاصل کرنے کے بعد دوبارہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل میں تعینات ہوگیا جس سے محکمہ پولیس کے افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس میں دو قانون موجود ہیں ،طاقتور کے لیے الگ قانون اور دوسرے کے لیے الگ قانون ہے۔