مہنگائی کے ملکی معیشت پر اثرات

ہماری حکومتوں کا مطمع نظر کبھی بھی اقتصادی استحکام نہیں رہا

ہماری حکومتوں کا مطمع نظر کبھی بھی اقتصادی استحکام نہیں رہا- فوٹو:فائل

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، پالیسی ریٹ 9.75فیصد کی موجودہ سطح پر برقرار ر ہے گا ، مانیٹری پالیسی کے حوالے سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے پچھلے ہفتے حکومت کے اعلان کردہ ریلیف پیکیج کے تحت ایندھن کی قیمتوں اور بجلی کے نرخوں میں کمی کے بعد مہنگائی کا منظر نامہ بہتر ہوا ہے۔

روس یو کرین بحران کے باعث غیر یقینی عالمی حالات میں شرح سود بڑھ سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اس مالی سال میں مہنگائی اوسطا 9تا 11فیصد کے درمیان رہے گی، مانیٹری پالیسی کے مطابق گاڑیوں کی فروخت اور بجلی کی پیداوار میں ماہ بہ ماہ کمی آئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات اور سیمنٹ کی فروخت کی رفتار بھی کم ہوئی ہے۔

پچھلے سال کے مقابلے میں زرعی امکانات کسی قدر کمزور ہو گئے ہیں ۔ کپاس اور گندم کی پیداوار پچھلے تخمینوں سے کم ہونے کا امکان ہے۔ مالی سال 22ء میں نمو اب بھی 4تا5فیصد کی سابقہ پیش گوئی کی حدود کے وسط کے آس پاس متوقع ہے۔

سیاسی مخالفین کی مہم اور بین الاقوامی چیلنجز سے نبرد آزما حکومت کے لیے مہنگائی میں مسلسل اضافہ پریشان کن سطح تک جا پہنچا ہے، جس عام آدمی کی زندگی سے دکھ کے کانٹے چننے کی یقین دہانی وزیراعظم عمران خان کراتے ہیں، وہ اذیت کا شکار ہے۔ تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ وزیراعظم عوامی مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہیں لیکن ان کی دلچسپی کے باوجود اشیائے ضروریہ کے نرخ کم ہونے میں نہیں آ رہے گویا کوئی متوازی نظام ہے جو حکومت کی عملداری کو للکار رہا ہے۔ طلب و رسد کا اصول عموماً چیزوں کے نرخ متعین کرتا ہے۔

اصول کے مطابق ایک چیز کی مارکیٹ میں قلت ہو اور اس کے طلب گار زیادہ ہوں تو نرخوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ نرخ میں اضافے سے جو رقم حاصل ہوتی ہے وہ کاشت کار کی بجائے آڑھتی اور ڈیلر کی جیب میں چلی جاتی ہے۔ اس سے ایک بری روایت نے فروغ پایا۔ آڑھتی اور ڈیلر اشیاء کو ذخیرہ کرلیتے ہیں' مارکیٹ میں جب ان چیزوں کی کمی واقع ہو جاتی ہے تو پھر ذخیرہ کردہ مال کو من چاہے داموں پر فروخت کیا جانے لگتا ہے۔ عرف عام میں اس عمل کو ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کہا جاتا ہے۔

مہنگائی بڑھتی ہے تو ساتھ ہی کئی خرابیوں کی پرورش ہوتی ہے۔ لوگ ضروریات پوری کرنے کے لیے ذرائع آمدن کو محدود دیکھتے ہیں تو بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیاں انھیں متوجہ کرتی ہیں۔ معاشرے کا معاشی سکون ایک ہیجان میں ڈھلنے لگتا ہے اور سماج کے تانے بانے کو خطرات لاحق ہونے لگتے ہیں، درمیانے طبقات ختم ہوتے ہیں، دو انتہاؤں پر طبقاتی تقسیم ہو جاتی ہے۔ بہت غریب اور بہت امیر۔ توازن رخصت ہوتا ہے تو سماج کی ثقافت، معیشت اور روحانی اقدار بھی بری طرح سے متاثر ہونے لگتی ہیں۔

کابینہ میں ایسے افراد کی خاصی تعداد ہے جو کئی بار وزیر رہے۔ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ انتظامی مشینری سے حکومت کیسے کام لیتی ہے۔ اس کے باوجود دیکھا گیا کہ گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آنے سے چند ہفتے قبل یکایک گندم کی قلت پیدا ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ سرکاری گوداموں میں گزشتہ سال کی جمع گندم کو اضافی سمجھ کر برآمد کردیا گیا۔

افراتفری کی حالت میں گندم کی درآمد کے آرڈر دیے گئے جس قیمت پر اپنی گندم برآمد کی تھی اس سے زیادہ نرخوں پر خریدنا پڑی۔ چھ ماہ سے حالت یہ ہے کہ درآمدی گندم آنے کے باوجود گندم اور آٹے کے نرخ اوپر جا رہے ہیں۔

چینی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ بڑی مقدار میں چینی درآمد کی گئی ہے تاکہ چینی کی مقامی پیداوار میں کمی سے ظاہر ہونے والی خرابی دور کی جا سکے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے ملک میں گندم اور چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں لیکن عملی حالت یہ ہے کہ دونوں ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں، اگر درآمدی گندم اور چینی کی دستیابی کے باوجود قیمتوں میں کمی نہیں آ رہی تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ بحران قدرتی نہیں بلکہ کچھ مفاد پرست عناصر کا پیدا کردہ ہے۔


ادویات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ ہوا ہے۔ قانون کے تحت فارما سیوٹیکل کمپنیاں اس بات کی پابند ہیں کہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ یا دیگر حوالے سے پیداواری لاگت بڑھنے پر وہ سال میں ایک بار ادویات کی قیمتوں کا ازسرنو جائزہ لے کر حکومت سے قیمتیں بڑھانے کی درخواست کرسکتی ہیں۔ اس صورت میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔

دیکھا یہ گیا ہے کہ فارما سیوٹیکل کمپنیاں متعلقہ سرکاری اداروں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر کے مرضی کے فیصلے کروا لیتی ہیں۔ اس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں عوام کے مفادات بری طرح نظر انداز ہوتے ہیں۔

اس کا سیاسی خمیازہ یوں بھگتنا پڑتا ہے کہ عوام کا ریاست، حکومت اور انتظامی اداروں پر سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ کوئی ان کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ بلاشبہ پاکستان کے پاس زرعی، صنعتی اور پیداواری وسائل کی کمی نہیں۔ ملکی ضروریات سے زیادہ خوراک پیدا ہوتی ہے لیکن انتظامی بد تدبیری کی نذر ہوجاتی ہے۔ حکومت اعلان کرتی رہتی ہے کہ غریب آدمی کے مسائل حل کیے جائیں گے' بار بار اعلان کیا جاتا ہے کہ عام شہری کی مشکلات کم کی جائیں گی۔

وزیراعظم بارہا فرما چکے ہیں کہ عام آدمی کے لیے سہولت پیدا کرنے سے معذور نظام کو بدل دیا جائے گا مگر جب مہنگائی کی نئی لہر آتی ہے تو تمام سرکاری نظام بے بسی کا شکار دکھائی دینے لگتا ہے۔ پرائس کنٹرول نظام' مجسٹریٹ' ضلع انتظامیہ، حکمران جماعت کی تنظیم اور مارکیٹ کمیٹیاں عملی طور پر غیر فعال ہیں۔ مان لیا کہ وزیراعظم اور ان کے ساتھی خلوص کے ساتھ ملک کی خدمت کر رہے ہیں لیکن ہر روز بڑھتی مہنگائی یاد دہانی کراتی ہے کہ سرکاری نظام میں بڑی تبدیلی لائے بغیر عوام کی زندگی آسان نہیں بنائی جا سکتی۔

ملک میں ایک طرف مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، دوسری طرف روپے کی قدر کم ہونے سے فی کس آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے، صرف گھی، چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عام آدمی کا گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ 2018 ء میں چینی 55 روپے کلو فروخت ہو رہی تھی ، جو اب 110 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔

چکی کا آٹا، جو 30، 35 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا تھا وہ 80 روپے کلو ہے۔ گھی کا ایک لیٹر کا پیکٹ جو لوگ180روپے میں خرید رہے تھے، وہ 450روپے تک خریدنے پر مجبور ہیں۔

حکومت کے ساڑھے تین سالہ دور میں مہنگائی ایک عفریت کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اشیائے صرف کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ جس نے عوام کی ایک بڑی تعداد کو ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیا ہے، جس معاشرے میں ایسے مسائل بڑھتے ہیں، وہاں لوگ نشہ آور چیزوں میں سکون تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ملک میں مہنگائی کے سبب ہی رشوت، چور بازاری، کرپشن اور بے راہ روی بڑھ رہی ہے۔

لوگ اپنی روزمرہ ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے جائز ناجائز طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ اس وقت عوام کی ایک بڑی تعداد کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی کے ساتھ ساتھ رشوت، کرپشن، بے راہ روی، نفرت، لاقانونیت، غنڈہ گردی، شراب نوشی، منشیات اور نشے کا استعمال سمیت دیگر جرائم میں بھی روز بروز اضافہ ہورہا ہے، برائی کو برائی بھی نہیں سمجھا جا رہا ، جس کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہونا فطری امر ہے، اگر بادی النظر میں دکھا جائے تو ان برائیوں کی بڑھتی ہوئی بڑی وجہ مہنگائی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہماری حکومتوں کا مطمع نظر کبھی بھی اقتصادی استحکام نہیں رہا اور بلکہ ذاتی مفادات کا حصول بنیادی ضروریات اور معاشی مسائل کو نظر انداز کرتے چلے آنے کے باعث آج نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ معاشرتی و معاشی بے چینی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ حکومت کے لیے مہنگائی اور بے روزگاری بڑے چیلنجز ہیں، جن کے خاتمے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو معاشرے میں بگاڑ مزید بڑھ جائے گا ، جس کو سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا۔
Load Next Story