ضلعی اسپتالوں کو ٹیچنگ اسپتال کا درجہ دینے کا فیصلہ
شہر کی ضلعی اسپتالوں کا جناح سندھ یونیورسٹی، ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی اور دیگر نجی جامعات سے الحاق کیا جائے گا
سرکاری اخراجات پر پوسٹ گریجویشن کی تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے ڈاکٹر محکمے کی ضرورت کے مطابق شعبہ منتخب کریں گے، ڈاکٹر عاصم حسین۔فوٹو:فائل
صوبائی محکمہ صحت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اجلاس میں کراچی کے تمام ضلعی اسپتالوں کو ٹیچنگ اسپتال کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان اسپتالوں کا جناح سندھ یونیورسٹی، ڈائو میڈیکل یونیورسٹی اور دیگر نجی یونیورسٹیوں سے الحاق کیا جائے گا، میڈیکل کالجوں اور ٹیچنگ اسپتالوں کا انتظامی سربراہ ایک ہی ہوگا، اجلاس میں مزید طے پایا کہ سرکاری اخراجات پر پوسٹ گریجویشن کی تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے محکمے کی ضرورت کے مطابق مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں گے اور اپنی مرضی سے کسی ایک مضمون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کو سرکاری ماہانہ اعزازیہ نہیں دیا جائے گا، اجلاس کی صدارت چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عاصم حسین نے کی، اجلاس میں محکمہ صحت کے سیکریٹری اقبال درانی، اسپیشل سیکریٹری ڈاکٹر منصور عباس سمیت دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ گورنمنٹ سعود آباد اسپتال، سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد اسپتال، نیو کراچی اسپتال، سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال، ابراہیم حیدری سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں کو جناح سندھ میڈیکل، ڈائو اور دیگر نجی میڈیکل یونیورسٹیوں سے الحاق کرکے ان اسپتالوں کو ٹیچنگ اسپتالوں کا درجہ دیا جائے گا۔
اسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے ضلع اسپتالوں میں سینئر پروفیسر کے لیکچرز بھی شروع کیے جائیں گے، اجلاس میں محکمہ کے اسپیشل سیکریٹری ڈاکٹر منصور عباس کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے جس میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق رفیع، ڈائو یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر پروفیسر عمر فاروق، ای ڈی او ہیلتھ کراچی ڈاکٹر ظفر اعجاز، ڈاکٹر سلمیٰ کوثر سمیت دیگر شامل ہوں گے، کمیٹی 2 ہفتے میں اپنی رپورٹ تیار کرکے محکمے کو بھیجے گی، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وہ ڈاکٹر جو حکومت سندھ سے مراعات اور ماہانہ اعزازیہ لے کرپوسٹ گریجویشن کی تعلیم و تربیت حاصل کرتے ہیں وہ اب اپنی مرضی سے کسی ایک مضمون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بجائے حکومت سندھ کی ضروریات کے مطابق پوسٹ گریجویشن کی تعلیم و تربیت لے سکیں گے جو ڈاکٹر اپنی مرضی سے کسی بھی شعبے میں پوسٹ گریجویشن کرے گا حکومت سندھ اس ڈاکٹر کو ماہانہ اعزازیہ نہیں دے گی۔
اجلاس میں صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی اور کس شعبے میں ڈاکٹروں کی ضرورت ہے اس حوالے سے بھی ایک کمیٹی قائم کردی گئی ، اجلاس میں سرکاری اسپتالوں میں دہرے انتظامی معیار سے پیدا ہونے والی شکایات کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ سرکاری اسپتالوں میں ٹیچنگ کیڈر سے تعلق رکھنے والے پروفیسر اور دیگر ٹیچنگ عملہ اسپتال کے انتظامی سربراہ کا پابند نہیں ہوتا لہذا سرکاری ٹیچنگ اسپتالوں میں انتظامی سربراہ ایک ہونا چاہئے، اس سلسلے میں بھی ایک کمیٹی قائم کردی ہے جو اپنی رپورٹ محکمہ کو پش کرے گی، واضح رہے کہ سول اسپتال سمیت دیگر ٹیچنگ اسپتالوں میں دہرا انتظامی نظام موجود ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی شکایات میں اضافہ ہوگیا، ٹیچنگ اسپتالوں میں پروفیسر، ایسوسی ایٹ، اسسٹنٹ پروفیسر اور سینئر رجسٹرار ٹیچنگ کیڈر میں آتے ہیں جو اسپتال کے انتظامی سربراہ کو جواب دہ نہیں ہوتے بلکہ ٹیچنگ کیڈر اپنے میڈیکل یونیورسٹی کے پرنسپل کو جواب دہ ہوتے ہیں لہٰذا اسپتال انتظامیہ ٹیچنگ کیڈر عملے کے خلاف کوئی انتظامی کارروائی کرنے سے قاصر ہوتی ہیں، اجلاس میں طے پایا کہ اس سلسلے میں بھی ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو اس بات کا جائزہ لے کر اپنی حتمی رپورٹ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو پیش کرے گی۔
ان اسپتالوں کا جناح سندھ یونیورسٹی، ڈائو میڈیکل یونیورسٹی اور دیگر نجی یونیورسٹیوں سے الحاق کیا جائے گا، میڈیکل کالجوں اور ٹیچنگ اسپتالوں کا انتظامی سربراہ ایک ہی ہوگا، اجلاس میں مزید طے پایا کہ سرکاری اخراجات پر پوسٹ گریجویشن کی تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے محکمے کی ضرورت کے مطابق مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں گے اور اپنی مرضی سے کسی ایک مضمون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کو سرکاری ماہانہ اعزازیہ نہیں دیا جائے گا، اجلاس کی صدارت چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عاصم حسین نے کی، اجلاس میں محکمہ صحت کے سیکریٹری اقبال درانی، اسپیشل سیکریٹری ڈاکٹر منصور عباس سمیت دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ گورنمنٹ سعود آباد اسپتال، سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد اسپتال، نیو کراچی اسپتال، سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال، ابراہیم حیدری سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں کو جناح سندھ میڈیکل، ڈائو اور دیگر نجی میڈیکل یونیورسٹیوں سے الحاق کرکے ان اسپتالوں کو ٹیچنگ اسپتالوں کا درجہ دیا جائے گا۔
اسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے ضلع اسپتالوں میں سینئر پروفیسر کے لیکچرز بھی شروع کیے جائیں گے، اجلاس میں محکمہ کے اسپیشل سیکریٹری ڈاکٹر منصور عباس کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے جس میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق رفیع، ڈائو یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر پروفیسر عمر فاروق، ای ڈی او ہیلتھ کراچی ڈاکٹر ظفر اعجاز، ڈاکٹر سلمیٰ کوثر سمیت دیگر شامل ہوں گے، کمیٹی 2 ہفتے میں اپنی رپورٹ تیار کرکے محکمے کو بھیجے گی، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وہ ڈاکٹر جو حکومت سندھ سے مراعات اور ماہانہ اعزازیہ لے کرپوسٹ گریجویشن کی تعلیم و تربیت حاصل کرتے ہیں وہ اب اپنی مرضی سے کسی ایک مضمون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بجائے حکومت سندھ کی ضروریات کے مطابق پوسٹ گریجویشن کی تعلیم و تربیت لے سکیں گے جو ڈاکٹر اپنی مرضی سے کسی بھی شعبے میں پوسٹ گریجویشن کرے گا حکومت سندھ اس ڈاکٹر کو ماہانہ اعزازیہ نہیں دے گی۔
اجلاس میں صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی اور کس شعبے میں ڈاکٹروں کی ضرورت ہے اس حوالے سے بھی ایک کمیٹی قائم کردی گئی ، اجلاس میں سرکاری اسپتالوں میں دہرے انتظامی معیار سے پیدا ہونے والی شکایات کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ سرکاری اسپتالوں میں ٹیچنگ کیڈر سے تعلق رکھنے والے پروفیسر اور دیگر ٹیچنگ عملہ اسپتال کے انتظامی سربراہ کا پابند نہیں ہوتا لہذا سرکاری ٹیچنگ اسپتالوں میں انتظامی سربراہ ایک ہونا چاہئے، اس سلسلے میں بھی ایک کمیٹی قائم کردی ہے جو اپنی رپورٹ محکمہ کو پش کرے گی، واضح رہے کہ سول اسپتال سمیت دیگر ٹیچنگ اسپتالوں میں دہرا انتظامی نظام موجود ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی شکایات میں اضافہ ہوگیا، ٹیچنگ اسپتالوں میں پروفیسر، ایسوسی ایٹ، اسسٹنٹ پروفیسر اور سینئر رجسٹرار ٹیچنگ کیڈر میں آتے ہیں جو اسپتال کے انتظامی سربراہ کو جواب دہ نہیں ہوتے بلکہ ٹیچنگ کیڈر اپنے میڈیکل یونیورسٹی کے پرنسپل کو جواب دہ ہوتے ہیں لہٰذا اسپتال انتظامیہ ٹیچنگ کیڈر عملے کے خلاف کوئی انتظامی کارروائی کرنے سے قاصر ہوتی ہیں، اجلاس میں طے پایا کہ اس سلسلے میں بھی ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو اس بات کا جائزہ لے کر اپنی حتمی رپورٹ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو پیش کرے گی۔