فیڈریشن نے وزیرتجارت سے ٹی ڈیپ کاکنٹرول مانگ لیا
خرم دستگیرکی فیڈریشن ہاؤس آمد پربیرون ملک نمائشوں کا انتظام بھی سپرد کرنے پر زور
ٹریڈڈیولپمنٹ اتھارٹی کیخلاف شکایتوں کاانبارلگ گیا،ڈی ٹی اوکوبھی ختم کرنے کامطالبہ ۔ فوٹو: فائل
لاہور:
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حوالے کرنے اور وفاقی وزارت تجارت کے تحت بین الاقوامی سطح پر تمام نمائشوں کا انتظام فیڈریشن کے سپرد کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر کی فیڈریشن ہاؤس آمد کے موقع پر ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے خلاف شکایات کا ڈھیر لگادیا۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر زکریا عثمان اور سابق صدر طارق سعید نے کہا کہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی اور امور میں شفافیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تین سابق سربراہان، سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل اربوں روپے کی خردبرد کی تحقیقات کے لیے زیر حراست ہیں، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہے، ٹی ڈی اے پی کا کام ایکسپورٹرز کو سہولتیں مہیا کرنا ہے لیکن یہ ادارہ بزنس کمیونٹی کا کام کرتے ہوئے بیرون ملک نمائشیں منعقد کرتا ہے۔
بیرون ملک نمائشوں اور وفود میں غیرمتعلقہ افراد کو شامل کیا جاتا ہے، اسی طرح ایکسپو پاکستان نمائش میں بھی بیرون ملک سے دوست اور رشتے داروں کو بلوایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے بھی ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو فعال کرنا ضروری ہے۔ طارق سعید نے کہا کہ اس وقت ڈی ٹی او ایک تاجر مخالف فرد کے ہاتھ میں ہے جہاں کرپشن اور بدعنوانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا بلکہ پاکستان کے تاجر و صنعتکار اور خصوصاً خواتین کے ساتھ موجودہ ڈی ٹی او توہین آمیز سلوک کر رہا ہے جس سے موجودہ حکومت کی بدنامی ہو رہی ہے اس لیے ایسے شخص کو جو کسی آداب کو بھی نہیں جانتا ہو اس کو فوراً اس اہم ادارے سے ہٹایا جائے بلکہ یہ ادارہ ہی غیر ضروری ہے اس لیے اسے ختم کیا جائے کیونکہ ملک کے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کو لائسنس دینا فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ذمے داری ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حوالے کرنے اور وفاقی وزارت تجارت کے تحت بین الاقوامی سطح پر تمام نمائشوں کا انتظام فیڈریشن کے سپرد کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر کی فیڈریشن ہاؤس آمد کے موقع پر ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے خلاف شکایات کا ڈھیر لگادیا۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر زکریا عثمان اور سابق صدر طارق سعید نے کہا کہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی اور امور میں شفافیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تین سابق سربراہان، سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل اربوں روپے کی خردبرد کی تحقیقات کے لیے زیر حراست ہیں، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہے، ٹی ڈی اے پی کا کام ایکسپورٹرز کو سہولتیں مہیا کرنا ہے لیکن یہ ادارہ بزنس کمیونٹی کا کام کرتے ہوئے بیرون ملک نمائشیں منعقد کرتا ہے۔
بیرون ملک نمائشوں اور وفود میں غیرمتعلقہ افراد کو شامل کیا جاتا ہے، اسی طرح ایکسپو پاکستان نمائش میں بھی بیرون ملک سے دوست اور رشتے داروں کو بلوایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے بھی ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو فعال کرنا ضروری ہے۔ طارق سعید نے کہا کہ اس وقت ڈی ٹی او ایک تاجر مخالف فرد کے ہاتھ میں ہے جہاں کرپشن اور بدعنوانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا بلکہ پاکستان کے تاجر و صنعتکار اور خصوصاً خواتین کے ساتھ موجودہ ڈی ٹی او توہین آمیز سلوک کر رہا ہے جس سے موجودہ حکومت کی بدنامی ہو رہی ہے اس لیے ایسے شخص کو جو کسی آداب کو بھی نہیں جانتا ہو اس کو فوراً اس اہم ادارے سے ہٹایا جائے بلکہ یہ ادارہ ہی غیر ضروری ہے اس لیے اسے ختم کیا جائے کیونکہ ملک کے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کو لائسنس دینا فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ذمے داری ہے۔