ایشیا کپ کوچ نے فیلڈنگ میں بہتری کا دعویٰ کردیا
تربیتی کیمپ کے دوران سینئرز میں جونیئرز سے زیادہ جذبہ نظر آیا، شعیب محمد
تربیتی کیمپ کے دوران سینئرز میں جونیئرز سے زیادہ جذبہ نظر آیا، شعیب محمد۔ فوٹو: فائل
نئے فیلڈنگ کوچ شعیب محمد نے ایشیا کپ کے دوران اس شعبے میں بہتری کا دعویٰ کر دیا، ان کے مطابق تربیتی کیمپ کے دوران سینئرز میں جونیئرز سے زیادہ جذبہ نظر آیا، پریکٹس میں کیچز کو غیر اہم سمجھنے کی غلطی نہ کریں تو میچز میں پریشانی نہیں ہوتی۔
لاہور میں نمائندہ ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے شعیب محمد نے کہا کہ بعض اوقات ایک اچھا کیچ میچ میں کامیابی دلا دیتا جبکہ موقع گنوانے کی صورت میں بازی ہاتھ سے نکل جاتی ہے، اسی لیے بیٹنگ اور بولنگ کے ساتھ بہترین فیلڈنگ بھی ٹیم کی بہت اہم ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایشیا کپ کیلیے مختصر دورانیہ کا کیمپ لگایا گیا، اتنے تھوڑے وقت میں تمام خامیوں کو دور کرنا بہت مشکل تھا لیکن پھر بھی کھلاڑیوں کو کافی محنت کرائی گئی،ایونٹ کے دوران فیلڈنگ کے شعبے میں بہتری ضرور نظر آئے گی۔ سابق اوپنر نے کہا کہ بطور کوچ میرے لیے سب سے بڑی خوشی کی بات یہ تھی کہ فیلڈنگ بہتر بنانے کیلیے سینئرز میں جونیئرز سے زیادہ جوش اور جذبہ نظر آیا، امید ہے کہ اسی اسپرٹ کا مظاہرہ وہ میدان میں بھی کرینگے۔
شعیب محمد نے کہاکہ غیر ملکی کرکٹرز کم عمری میں ہی فیلڈنگ کی طرف بھی خاص توجہ دیتے ہیں، ہمارے ڈومیسٹک کرکٹ میں کھلاڑی بہترین بیٹسمین اور بولر کے طور پر تو پہچان بنانا چاہتے ہیں،اچھا فیلڈر بننے کی ترجیحات کہیں دور دور تک نظر نہیں آتیں،اس شعبے میں پریکٹس کو ایک فضول چیز سمجھنے کی وجہ سے وہ جسمانی طور پر اتنے مستعد ہی نہیں ہوتے کہ ڈائیو لگانے کیلیے بہتر پوزیشن میں آسکیں، بدن میں مطلوبہ لچک نہ ہونے کے سبب ان کا جھکائو اتنا نہیں ہوتا کہ گیند پکڑ سکیں،یہی صورتحال کیچ تھامتے ہوئے ہاتھوں کی ہوتی ہے، سختی سے گیند پکڑنے اور نظریں ہٹانے پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، فیلڈنگ کے دوران کھلاڑی کی گیند پکڑنے کیلیے پوزیشن صحیح ہوگی تو وہ کم غلطی کریگا، کیمپ کے دوران پوزیشننگ پر زور دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ محنت کرائی گئی ہے، شعیب محمد نے کہا کہ کرکٹرز کو یہ بتا دیا گیا کہ پریکٹس کے دوران کسی بھی کیچ کو غیر اہم سمجھنے کی غلطی نہیں کرینگے تو مستعد رہنے کی عادت میچ میں بھی کام آئے گی، یوں مشکل ترین لمحات میں بھی اضافی دبائو نہیں ہوگا۔
لاہور میں نمائندہ ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے شعیب محمد نے کہا کہ بعض اوقات ایک اچھا کیچ میچ میں کامیابی دلا دیتا جبکہ موقع گنوانے کی صورت میں بازی ہاتھ سے نکل جاتی ہے، اسی لیے بیٹنگ اور بولنگ کے ساتھ بہترین فیلڈنگ بھی ٹیم کی بہت اہم ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایشیا کپ کیلیے مختصر دورانیہ کا کیمپ لگایا گیا، اتنے تھوڑے وقت میں تمام خامیوں کو دور کرنا بہت مشکل تھا لیکن پھر بھی کھلاڑیوں کو کافی محنت کرائی گئی،ایونٹ کے دوران فیلڈنگ کے شعبے میں بہتری ضرور نظر آئے گی۔ سابق اوپنر نے کہا کہ بطور کوچ میرے لیے سب سے بڑی خوشی کی بات یہ تھی کہ فیلڈنگ بہتر بنانے کیلیے سینئرز میں جونیئرز سے زیادہ جوش اور جذبہ نظر آیا، امید ہے کہ اسی اسپرٹ کا مظاہرہ وہ میدان میں بھی کرینگے۔
شعیب محمد نے کہاکہ غیر ملکی کرکٹرز کم عمری میں ہی فیلڈنگ کی طرف بھی خاص توجہ دیتے ہیں، ہمارے ڈومیسٹک کرکٹ میں کھلاڑی بہترین بیٹسمین اور بولر کے طور پر تو پہچان بنانا چاہتے ہیں،اچھا فیلڈر بننے کی ترجیحات کہیں دور دور تک نظر نہیں آتیں،اس شعبے میں پریکٹس کو ایک فضول چیز سمجھنے کی وجہ سے وہ جسمانی طور پر اتنے مستعد ہی نہیں ہوتے کہ ڈائیو لگانے کیلیے بہتر پوزیشن میں آسکیں، بدن میں مطلوبہ لچک نہ ہونے کے سبب ان کا جھکائو اتنا نہیں ہوتا کہ گیند پکڑ سکیں،یہی صورتحال کیچ تھامتے ہوئے ہاتھوں کی ہوتی ہے، سختی سے گیند پکڑنے اور نظریں ہٹانے پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، فیلڈنگ کے دوران کھلاڑی کی گیند پکڑنے کیلیے پوزیشن صحیح ہوگی تو وہ کم غلطی کریگا، کیمپ کے دوران پوزیشننگ پر زور دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ محنت کرائی گئی ہے، شعیب محمد نے کہا کہ کرکٹرز کو یہ بتا دیا گیا کہ پریکٹس کے دوران کسی بھی کیچ کو غیر اہم سمجھنے کی غلطی نہیں کرینگے تو مستعد رہنے کی عادت میچ میں بھی کام آئے گی، یوں مشکل ترین لمحات میں بھی اضافی دبائو نہیں ہوگا۔