سندھ اسمبلی بچوں کی خواندگی میں اضافے سے متعلق قرارداد منظور

سندھ کے اسکولوں میں بچوں کی 100 فیصد داخلے یقینی بناکر تعلیم کے معیار کومزید بہتر بنایا جائے گا،اراکین اسمبلی

صوبے کے 60 لاکھ بچے اسکولوں میں داخل نہیں ہوئے، 43 ہزار میں سے 38 ہزار اسکول فعال ہیں،صوبائی وزیر تعلیم۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
سندھ اسمبلی نے جمعہ کو ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے '' سیاسی چارٹر'' کی منظوری دے دی ، جس میں یہ عہد کیا گیا کہ سندھ میں اسکولوں میں بچوں کی 100 فیصدداخلے یقینی بناکر تعلیم کے معیار کومزید بہتر بنایا جائے گا۔

یہ قرارداد سینئر وزیر برائے تعلیم و خواندگی نثار احمد کھوڑو نے پیش کی تھی ،نثار کھوڑو نے کہا کہ ہم نے یہ چارٹر جمعرات کو کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں منظور کیا تھا اور اس عہد کی سندھ اسمبلی سے بھی منظوری لے رہے ہیں،ہمارا یہ عہد 2 نکات پر مشتمل ہے یعنی سندھ میں 100 فیصد داخلے ہوں اور معیار تعلیم بہتر ہو، انھوں نے کہا کہ اس وقت سندھ کے 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور تعلیم حاصل نہیں کررہے ،اس کے مختلف اسباب ہیں لیکن ہمیں ان بچوں کواسکولوں میں لانا ہے،سندھ کے 43 ہزار میں سے 38 ہزار اسکول فعال ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ان اسکولوں میں جو بچے پڑھ رہے ہیں، وہ کچھ کرنے کے اہل بن جائیں ،انھوں نے کہا کہ جس طرح سندھ اسمبلی نے قراردادیں منظور کرکے یہ عہد کیا تھا کہ کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیں گے،اسی طرح آج ہم یہ عہد کریں کہ سندھ میں تعلیم کا معیار بہتربنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔


دریں اثناسندھ اسمبلی نے جمعہ کو ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی،جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایم پی اے ہاسٹل کراچی کے عقب میں واقع پاک سیکریٹریٹ کے تین بیرکس سندھ اسمبلی کو دیے جائیں، کیونکہ ایم پی اے ہاسٹل کے لیے جگہ کم ہے، یہ قرارداد پیپلز پارٹی کے رکن سید ناصر حسین شاہ نے پیش کی تھی، وزیر ورکس اینڈ سروسز میر ہزار خان بجارانی نے کہا کہ کلفٹن میں تین تلوار کے قریب ایک پلاٹ پر ارکان سندھ اسمبلی کی رہائش گاہ بنانے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی ، میں بھی اسی کمیٹی کا رکن ہوں ، وہ جگہ زیادہ بہتر ہے، اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ فی الحال موجودہ ایم پی اے ہاسٹل کا کام شروع ہونے والا ہے ، اس کے عقب میں تین بیرکس ویران پڑی ہوئی ہیں ، وہ مل جائیں تو بیرکس کی توسیع ہوسکے گی اور ارکان کو بہتر سہولتیں میسر آئیں گی۔

دریں اثناء وقفہ سوالات کے دوران محکمہ جنگلی حیات کے پارلیمانی سیکرٹری سید ناصر حسین شاہ نے ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن دیوان چند کے ضمنی سوال پر کہا کہ سمندری کچھووں کے انڈوں کی حفاظت کی جاتی ہے ، دریا اور نہروں میں کچھوے جو انڈے دیتے ہیں وہ شاید بازاروں میں فروخت ہوتے ہیں ، ناصر شاہ نے مزید بتایا کہ سندھ میں 35 نایاب پرندوں اور 23 نایاب جانوروں کے شکار پر پابندی ہے،غیر ملکی شخصیات کو بھی ان کے شکار کی اجازت نہیں دی جاتی ،تھرپارکر میں 6 ہزار ہرن ،250 بارہ سنگھا ، 4 ہزار تیتر ، 150 تلور اور 98 ہزار مور موجود ہیں ، بعدازاں سندھ اسمبلی نے متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان خواجہ اظہار الحسن اور عبدالحسیب کی تحریک استحقاق بالآخر سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سپرد کردی ہے ۔
Load Next Story