بلدیاتی حد بندیوں سے متعلق سندھ حکومت کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کے بعد فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کے بعد فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کیلیے حد بندیوں سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کی اپیل پرفیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پرفریقین کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔


عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ دونوں مقدمات کا فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا۔حکومت پنجاب نے ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج نہ کرتے ہوئے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حد بندیوں کے بارے میں سپریم کورٹ جو بھی گائیڈ لائن دے گی حکومت اس کے مطابق قانون سازی کرے گی۔سندھ حکومت کے وکیل نے موقف اپنایا کہ حد بندیوں کا اختیار صوبائی حکومت سے لینے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی، چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ریمارکس دیے عدالت کو آئین میں ترمیم کااختیار حاصل نہیں لیکن تشریح کا اختیارحاصل ہے، چیف جسٹس نے کہا کس کا کیا اختیار ہوگا اس کا تعین مقننہ کرتی ہے لیکن اختیار کیسے استعمال ہوگا عدالت اس کی تشریح کی مجاز ہے،اختیارسے تجاوز ہوگا توعدالت مداخلت کرے گی،انھوں نے کہاکہ حد بندیاںکرنے والا ادارہ جانبدار ہو تو شفاف الیکشن کیسے ہو سکتے ہیں؟

عدالت نے خواجہ حارث سے پوچھاکہ کیا1974کا حلقہ بندی ایکٹ بلدیاتی حکومتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے؟ انھوں نے کہاالیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جس معاملے میں آئین خاموش ہو تو وہ اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔اٹارنی جنرل نے اختلاف کیا اورکہاکہ قانون بنانا صوبائی حکومت کا اختیار ہے، اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا چاہے وہ حد بندیوں میں جھاڑو پھیر دے ۔سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جواب الجواب میں کہاکہ 18ویں ترمیم کا مقصد صوبوںکو خود مختاری دینا تھا اسی وجہ سے آرٹیکل 140Aآئین میں شامل کیا گیا اور بلدیاتی سسٹم فراہم کرنے کا اختیار صوبوں کو دیا گیا،سسٹم فراہم کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں اور حد بندیاں اس سسٹم کا حصہ ہیں۔الیکشن کمیشن کو صرف الیکشن کرانے کا اختیارہے ۔فاروق نائیک نے میثاق جمہوریت کی نقل عدالت میں پیش کی اورکہاکہ اس میثاق کی بنیاد عدم مرکزیت اور صوبائی خود مختاری تھی،جسٹس عظمت نے کہاکہ شفاف الیکشن صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب حد بندیوں کا عمل شفاف ہوگا جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ۔
Load Next Story