روس یوکرین جنگ عالمی معاشی بحران کے خدشات

انسانوں کی آزادی کا تقاضا ہے کہ روس نام کے عفریت کو معاشی میدان میں مل کر شکست دی جائے

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ اگر نیٹو اور روس کا تصادم ہوا تو تیسری جنگ عظیم شروع ہوجائے گی، صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے روس کے یوکرین پر حملے کو روکنے کے لیے امریکا کی طرف سے کسی بھی براہ راست مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس طرح کا تنازع نیٹو کو روس کے خلاف کھڑا کرنا تیسری عالمی جنگ ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روسی فوج کی کارروائیوں کے دوران مارے گئے شہریوں کی تعداد 564 ہوگئی ہے۔ یوکرین کے صدر نے کہا روسی افواج کے دارالحکومت کا محاصرہ کرنے سے اب جنگ میں ٹرننگ پوائنٹ آگیا ہے جب کہ روس نے کہا ہے کہ وہ یوکرین میں مغربی ہتھیار سپلائی کرنے والوں کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔

امریکی صدر نے جس جانب اشارہ کیا ہے وہ درست ہے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ روس اور یوکرین کا بحران زیادہ بڑھا تو یہ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ روس کے ذریعے لادی گئی اس جنگ میں یوکرین ہی تباہ نہیں ہوگا بلکہ عالمی معیشت بھی بدترین صورتحال سے دوچار ہونے جارہی ہے ۔

اس بحث سے قطع نظر کہ اس جنگ میں جیت کس کی ہوتی ہے لیکن سردست یہ سوال زیادہ ہے کہ روس ، امریکا مخاصمت کی قیمت چکا رہے یوکرین کا مستقبل کیا ہوگا ؟ اس کے ساتھ ہی ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ عالمی معیشت پر اس جنگ کے جو منفی اثرات ہو رہے ہیں، اس سے دنیا کیسے نمٹے گی؟ روس پر مختلف مغربی ممالک بھی پہلے ہی کئی طرح کی پابندیاں لگا چکے ہیں۔

روس اور یوکرین کے مابین جاری جنگ درحقیقت روس اور امریکا کی مخاصمت کا نتیجہ ہے۔ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو بالواسطہ طور پر یہ جنگ روس اور امریکا کے مابین ہو رہی ہے اور میدان جنگ یوکرین بنا ہوا ہے۔

یہ درست ہے کہ یوکرین پر روس کا حملہ کسی ملک کی ' قومی خود مختاری' اور 'عالمی قانون' کی خلاف ورزی کے زمرہ میں آتا ہے لیکن روس کے لیے یہ جنگ ناگزیر ہوچکی تھی۔ امریکی سامراج نے روس کی گھیرا بندی کا جو منصوبہ بنایا تھا اگر وہ کامیاب ہوجاتا توروس کے جغرافیہ کے ایک بار پھر بدل جانے کے سنگین خطرات تھے۔

اس سے انکار نہیں کہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد روس بہت زیادہ کمزور ہو گیا تھا۔ تمام وعدوں کے برعکس امریکی سامراج نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرق کی جانب اپنے اثرورسوخ کو بڑھاتے ہوئے نیٹو کو روس کی سرحد پر لا کر کھڑا کر دیا۔

روس کی سرحد پر جنگی مشقیں کی گئیں اور دیگر اشتعال انگیز کارروائیاؒں کی جاتی رہیں۔ امریکا اپنا حلقہ اثر روس کے پڑوسی ممالک پر بڑھاتا گیا، یوکرین میں بھی امریکی تسلط میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ معیشت اور سیاسی طاقت کے تمام کلیدی عہدوں پر بدعنوان امرا اور امریکی سامراج کے مہرے بٹھائے گئے۔ تھوڑا وقت اور گزرتا کہ یوکرین بھی نیٹو کا حصہ بن گیا ہوتا لیکن روس نے یوکرین پر حملہ کرکے امریکا کا منصوبہ ہی الٹ دیا اور آج دو ہفتوں سے یہ جنگ مسلسل جاری ہے۔

دنیا کے کم و بیش تمام ممالک کی معاشی صورتحال بہت نازک ہے، ایسے میں روس پر لگائی جانے والی پابندیاں دنیا میں کساد بازاری کی نئی لہر ابھار سکتی ہیں اور اس کا اشارہ بھی مسلسل مل رہاہے۔ پابندیوں کی وجہ سے جہاں روسی معیشت کمزور ہورہی ہے اور روبل کی قدر میں گراوٹ آرہی ہے تو وہیں جنگ کی وجہ سے تیل اور گیس کی قیمتیں بے قابو ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے عالمی معیشت میں افراط زر اور دیگر عوامل پر دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دنیا بھر کے اسٹاک ایکسچینج خسارہ پر خسارہ کا نیا ریکارڈ بنارہے ہیں اور قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔


پابندیاں دو دھاری تلوار کی طرح ہوتی ہیں، ایک طرف جہاں اس سے روس کی معیشت کمزور ہوگی تو دوسری جانب خود امریکا اور مغربی ممالک بھی تلوار کے اس وار سے خود کو بچا نہیں پائیں گے۔ ابھی امریکا اور دیگر مغربی ممالک تیل اور قدرتی گیس کی اپنی ضرورت کا ایک تہائی حصہ روس سے ہی حاصل کرتے ہیں۔

ان پابندیوں کی وجہ سے یہ سپلائی متاثر ہوگی اور قیمتیں مزید بڑھیں گی۔ موجودہ حالت اشتعال میں روس سے یہ بعید نہیں ہے کہ وہ ان پابندیوں کا جواب دے اور اس کا بھی خدشہ ہے کہ وہ یورپ تک جانے والی گیس کی سپلائی پائپ لائن ہی کاٹ ڈالے ، اگر ایسا ہوا تو یہ صورتحال مزید سنگین کرنے کا سبب ہوسکتا ہے۔

روس، یوکرین تنازع مشرق وسطی میں گندم کی قیمت بڑھنے اور دیگر اشیا کی فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کے مطابق تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ گندم کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافے سے صورتحال سنگین ہو سکتی ہے اور خطے کے ممالک میں ہنگامے پھوٹ سکتے ہیں۔ روس اور یوکرین اناج کی عالمی منڈی کو 14 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ رواں برس کے آغاز کے ساتھ ہی گندم کی قیمتوں میں 37 فیصد اضافہ ہوا اور قیمتوں میں اتنا اضافہ 2008 کے بعد سے نہیں دیکھا گیا۔

عالمی ریسرچ فرم بی سی اے نے کہا ہے کہ بحیرہ اسود سے مشرق وسطیٰ تک سپلائی لائن پر اثرات پڑے ہیں۔ روس، یوکرین اور بیلاروس دنیا بھر میں کھاد برآمد کرنے کے حوالے سے بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ بوائی کا عمل فروری کے آخر میں عموماً شروع ہوتا ہے تاہم اب فصل کی کٹائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

بی سی اے ریسرچ کا کہنا ہے کہ بیرون ملک ذخائر میں تیزی سے کمی آ سکتی ہے اور کسی بھی قسم کی پیشرفت بدامنی کا باعث بن سکتی ہے جیسے کہ 2011 میں عرب اسپرنگ کے دوران خوراک کی قیمتوں سے متعلق دیکھا گیا۔ لبنان اسی خطے سے اپنے گندم کا 40 فیصد امپورٹ کرتا ہے اور اس وقت معاشی، سماجی اور سیاسی بحران کی گرفت میں ہے۔ غیر سرکاری ادارے ڈریگن فلائی نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں گندم کے صرف ایک ماہ کے لیے ذخائر ہیں اور 'درپیش مشکلات سے متعلق احتجاج اور بدامنی کا امکان' پایا جاتا ہے۔ جنگ زدہ شام اور یمن میں بھی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی میں کمی کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔

یوکرین کے حکام نے اہم سامان کو دیگر یورپی بندرگاہوں تک برآمد کرنے کے لیے ملک کے فعال ریلوے نیٹ ورک کو استعمال کرنے کے امکان پر بات کی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگی صورتحال کی وجہ سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے، جس کا اثر ضروریات زندگی کی تمام بنیادی اشیا پر ہوگا۔

اس بحران سے تیل برآمد کرنیوالے ایشیائی ممالک کو فائدہ بھی ہوسکتا ہے مگر اس سے عالمی معیشت پر زبردست منفی اثرات پڑیں گے کیونکہ جنگ میں شدت کی وجہ سے خام تیل کی قیمت کئی سالوں کے مقابلے میں سب سے اونچائی پر پہنچ گئی ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت افراط زر پیدا کرے گی اور اس کو قابو میں کرنے کے لیے ٹیکس کی وصولی بری طرح متاثر ہوگی۔ اس سے پاکستانی کرنسی بھی مزید دباؤ میں آجائے گی۔ دوسری طرف کریسیل کے مطابق گزشتہ تین مہینوں سے اوپیک ممالک اپنی پیداوار کے ہدف کو حاصل نہیں کر پارہے تھے۔ اس سے خام تیل کی قیمت بھی متاثر ہوئی ہے۔ جتنی زیادہ یہ جنگ طویل ہوگی۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

واشنگٹن میں امریکی صدر جوبائیڈن نے یہ اعلان کیا ہے کہ روس سے تیل کی کسی بھی قسم کی مصنوعات درآمد نہیں کی جائیں گی اور اپنے دوست ممالک سے بھی ان کا یہی اصرار ہے۔ اس پابندی کا جواز فراہم کرتے ہوئے جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ روس، یوکرین جنگ کو دو ہفتے ہوچکے ہیں اور اس دوران یوکرین کے کئی شہر تباہ ہوچکے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

انسانوں کی آزادی کا تقاضا ہے کہ روس نام کے عفریت کو معاشی میدان میں مل کر شکست دی جائے اور اس کی درآمدات ختم کی جائیں۔ جوبائیڈن کی اس اپیل کا دنیا کیا جواب دیتی ہے، اس سے قطع نظر یہ دیکھنا اہم ہے کہ روس پر لگائی جانے والی موجودہ پابندیاں دنیا کی معیشت کو کہاں لے جائیں گی۔دو عالمی طاقتوں کی مخاصمت ایک نیا عالمی معاشی بحران پیدا کرے گی اور اس کا خمیازہ دوسرے ممالک کو بھگتنا ہوگا۔ اس لیے ضرورت ہے کہ حالات میں تبدیلی کے لیے دنیا اپنا بامعنی مثبت کردار ادا کرے۔
Load Next Story