شاہین کمپلیکس فلائی اوور کی تعمیر کیلیے زمین کی جانچ کا آغاز

شہر میں رواں سال 7 فلائی اوورز اورایک انڈر پاس تعمیر کرینگے،ایڈمنسٹریٹر رؤف اختر فاروقی

شہر میں رواں سال 7 فلائی اوورز اورایک انڈر پاس تعمیر کرینگے،ایڈمنسٹریٹر رؤف اختر فاروقی۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر رؤف اختر فاروقی نے کہا ہے کہ شاہین کمپلیکس فلائی اوور کے تعمیراتی کاموں کا آغاز کرنے کیلیے زمین کی جانچ (سوائل انویسٹی گیشن ) کا آغاز کردیا ہے، لیبارٹری سے رپورٹ آتے ہی تعمیراتی کاموں کا آغاز کردیا جائے گا۔

یہ بات انھوں نے مختلف علاقوں میں تعمیر کیے جانے والے فلائی اوورز کے دورے کے موقع پر کہی،اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل محکمہ انجینئرنگ نیاز احمد سومرو،چیف انجینئر خالد مسرور، ایس ایم طحٰہ اور پروجیکٹ ڈائریکٹرز بھی ان کے ہمراہ تھے ،انھوں نے کہا کہ آئی آئی چندریگر روڈ کراچی کی ایک اہم شاہراہ ہے،تمام بینکوں ، اخبارات او ر مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوںکے مرکزی دفاتر اسی شاہراہ پر واقع ہیں اس لیے صبح اور شام کے دفتری اوقات میں شاہین کمپلیکس چوراہے پر ٹریفک جام رہنا شہریوں کے لیے تکلیف دہ ہے ، انھوں نے کہا کہ آئی آئی چندریگر روڈ اور ڈاکٹر ضیا الدین احمد روڈ پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کیلیے یہاں فلائی اوور کی تعمیر انتہائی ضروری ہے ، شاہراہ پاکستان پر بننے والے فلائی اوورز کے دورے کے موقع پر انھوں نے تین ہٹی فلائی اوورکوجلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ پاکستان پر بنائے جانے والے چاروں فلائی اوورز کا باقی ماندہ تعمیراتی کام اس مہینے کے آخر تک مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ اس کوریڈورکو سگنل فری کردیا جائے۔


انھوں نے کہا کہ جو تین فلائی اوورز مکمل کیے جاچکے ہیں ان کے ایڈ گریڈ کا کام بھی ساتھ ساتھ مکمل کیا جائے تاکہ جو ٹریفک ان فلائی اوور کے نیچے سے گزرے گی اسے بھی رواں رکھا جاسکے،ایڈ منسٹریٹر کراچی نے کہا کہ رواں مالی سال میں کراچی میں 7فلائی اوورز اورایک انڈر پاس تعمیر کیا جانا ہے جن پر کام جاری ہے، انھوںنے کہا کہ ملیر 15 اور ملیر ہالٹ پر فلائی اوور کے کاموں میں تیزی لائی گئی ہے ، ٹریفک کو متبادل راستے فراہم کردیے گئے ہیں پائلنگ کاکام شروع کردیا گیا ہے جبکہ وہیں پر گارڈرز تیار کرنے کیلیے اسی مقام پر پلیٹ فارم بنا دیے گئے ہیں تاکہ پائلنگ کے کام کے ساتھ ساتھ گارڈرز بھی تیار ہوسکیں، توقع ہے کہ دونوں فلائی اوورز کو مقررہ مدت سے پہلے ہی مکمل کرلیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ شارع فیصل پر ان دونوں فلائی اوورز کی تعمیر کے بعد شہریوں کو سہولت میسر آئے گی اور ان مقامات پر ٹریفک جام کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوجائے گا،ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ اندرون سندھ کو جانے والے دونوں راستے جن میں سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے شامل ہے اس پر ٹریفک تیزی کے ساتھ نکل سکے گی،ا نھوں نے کہا کہ ملیر ہالٹ اور ملیر 15فلائی اوورز سمیت تمام ترقیاتی منصوبوں پر بلاتعطل کام جاری رکھاجائے گا تاکہ ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت میں مکمل ہوں اور شہریوں کو جلد از جلد بہتر سہولیات مہیا ہوسکیں انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کاموں کی جلد تکمیل کے ساتھ ساتھ تمام ترقیاتی منصوبوں میں تعمیراتی کام کے معیار کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے تاکہ ترقیاتی منصوبے پائیدار ثابت ہوں اور طویل عرصے تک کراچی کے شہری ان سے مستفید ہوتے رہیں ۔
Load Next Story