ویلیوایشن گائیڈ لائن کراچی تک محدود ہوکر رہ جانے سے قومی خزانے کو نقصان
لاہورسمیت ملک کی دیگرڈرائی پورٹس کی نسبت کراچی میں 100 فیصد کسٹم ڈیوٹی وٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد کلیئرنس کی جارہی ہے
کراچی اورلاہورمیں کنسائمنٹس پر عائد ڈیوٹی وٹیکسز میں 100فیصدکا فرق پیدا ہوگیا ہے۔ فوٹو: فائل
محکمہ کسٹمز میں دوماہ قبل متعارف کردہ 96 درآمدی اشیا کی ویلیوایشن گائیڈلائن کا اطلاق صرف کراچی تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔جس کے باعث قومی خزانے کو ریونیو کی مد میں ماہانہ کروڑوں روپے مالیت کا نقصان پہنچ رہا ہے،
ذرائع نے''ایکسپریس'' کو بتایاکہ لاہورسمیت ملک کی دیگرڈرائی پورٹس کی نسبت کراچی میں 100 فیصد کسٹم ڈیوٹی وٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد کلیئرنس کی جارہی ہے جبکہ لاہور و دیگر کسٹمزڈرائی پورٹس پر مذکورہ 96 اشیا کی کلیئرنس100 فیصد کسٹم ڈیوٹی وٹیکسوں کی کمی پر کی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ کراچی سے لاہورڈرائی پورٹ پر ''ٹی پی''کے ذریعے جانے والے جنریٹرزکے پارٹس''آلٹرنیٹر''کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس 1ڈالرفی کلو گرام میں کی جارہی ہے جبکہ کراچی میں محکمہ کسٹمزکی جانب سے جاری کردہ ویلیوایشن گائیڈلائن کے مطابق اسی آئٹم کی 2.50ڈالرفی کلوگرام کے حساب سے کی جارہی جس سے کراچی اورلاہورمیں کنسائمنٹس پر عائد ڈیوٹی وٹیکسز میں 100فیصدکا فرق پیدا ہوگیا ہے۔ اسی طرح دیگر درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس بھی کراچی کے مقابلے میں کم ویلیوپر کی جارہی ہے۔
کراچی کے مقابلے میں لاہور و دیگر ڈرائی پورٹس میں ڈیوٹی ٹیکس ٹیرف کم ہونے کے سبب کراچی کے بیشتردرآمدکنندگان کی جانب سے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس لاہورسمیت دیگرڈرائی پورٹس کو منتقل کرنے کا رحجان بڑھ گیا ہے۔ محکمہ کسٹمزکے اس دوہرے معیارپرکراچی کے تاجرودرآمدکنندگان میں زبردست اضطراب پایا جاتا ہے، جن کا کہنا ہے کہ کراچی میں محکمہ کسٹمزکی جانب سے جاری کردہ ویلیوایشن گائیڈلائن پر نہ تو کسی مجاز افسرکے دستخط ہیں اورنہ ہی کوئی افسراس ویلیوایشن گائیڈلائن کے اجرا کی ذمے داری قبول کررہا ہے جو تشویشناک امر ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ لاہورڈرائی پورٹ میں ''پی وی سی''رفلیکٹنگ شیٹ کے درآمدی کنسائمنٹس ''سی آراین نمبر LAPP-HC-5894،LAPP-HC-6974کی کلیئرنس 1ڈالرتا1.20ڈالرفی کلوگرام پر جبکہ کراچی میں یہی آئٹم 2ڈالرفی کلوگرام میں کلیئرکیا جارہا ہے جس سے اس امر کی بخوبی نشاندہی ہوتی ہے کہ لاہورڈرائی پورٹ میں''پی وی سی''رفلیکٹنگ شیٹ سمیت دیگردرآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس ویلیوایشن میںگائیڈلائن کونظراندازکرتے ہوئے کم ویلیوپرایسسمنٹ کی جارہی ہے، ذرائع کے مطابق چیف کلکٹرساؤتھ کی جانب سے نومبر 2013میں 96درآمدی اشیا کی ویلیوایشن گائیڈلائن کا اجرا کیاگیاتھا لیکن ان درآمدی اشیا کی تاحال ویلیویشن رولنگ کا اجرا نہیںکیاگیاجس کے باعث ویلیوایشن گائیڈلائن کا اطلاق صرف کراچی سے کلیئرہونے والے درآمدی کنسائمنٹس پر کیاجارہاہے جبکہ ملک بھرکی خشک گودیوں پر ''ٹی پی''کے ذریعے جانے والے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس پر ویلیوایشن گائیڈلائن کا اطلاق نہیں کیاجارہاجس کے باعث لاہور،اسلام آباد، پشاور سمیت ملک بھرکے ڈرائی پورٹس پر درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس کم ویلیوپر کی جارہی ہے۔
ذرائع نے''ایکسپریس'' کو بتایاکہ لاہورسمیت ملک کی دیگرڈرائی پورٹس کی نسبت کراچی میں 100 فیصد کسٹم ڈیوٹی وٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد کلیئرنس کی جارہی ہے جبکہ لاہور و دیگر کسٹمزڈرائی پورٹس پر مذکورہ 96 اشیا کی کلیئرنس100 فیصد کسٹم ڈیوٹی وٹیکسوں کی کمی پر کی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ کراچی سے لاہورڈرائی پورٹ پر ''ٹی پی''کے ذریعے جانے والے جنریٹرزکے پارٹس''آلٹرنیٹر''کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس 1ڈالرفی کلو گرام میں کی جارہی ہے جبکہ کراچی میں محکمہ کسٹمزکی جانب سے جاری کردہ ویلیوایشن گائیڈلائن کے مطابق اسی آئٹم کی 2.50ڈالرفی کلوگرام کے حساب سے کی جارہی جس سے کراچی اورلاہورمیں کنسائمنٹس پر عائد ڈیوٹی وٹیکسز میں 100فیصدکا فرق پیدا ہوگیا ہے۔ اسی طرح دیگر درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس بھی کراچی کے مقابلے میں کم ویلیوپر کی جارہی ہے۔
کراچی کے مقابلے میں لاہور و دیگر ڈرائی پورٹس میں ڈیوٹی ٹیکس ٹیرف کم ہونے کے سبب کراچی کے بیشتردرآمدکنندگان کی جانب سے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس لاہورسمیت دیگرڈرائی پورٹس کو منتقل کرنے کا رحجان بڑھ گیا ہے۔ محکمہ کسٹمزکے اس دوہرے معیارپرکراچی کے تاجرودرآمدکنندگان میں زبردست اضطراب پایا جاتا ہے، جن کا کہنا ہے کہ کراچی میں محکمہ کسٹمزکی جانب سے جاری کردہ ویلیوایشن گائیڈلائن پر نہ تو کسی مجاز افسرکے دستخط ہیں اورنہ ہی کوئی افسراس ویلیوایشن گائیڈلائن کے اجرا کی ذمے داری قبول کررہا ہے جو تشویشناک امر ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ لاہورڈرائی پورٹ میں ''پی وی سی''رفلیکٹنگ شیٹ کے درآمدی کنسائمنٹس ''سی آراین نمبر LAPP-HC-5894،LAPP-HC-6974کی کلیئرنس 1ڈالرتا1.20ڈالرفی کلوگرام پر جبکہ کراچی میں یہی آئٹم 2ڈالرفی کلوگرام میں کلیئرکیا جارہا ہے جس سے اس امر کی بخوبی نشاندہی ہوتی ہے کہ لاہورڈرائی پورٹ میں''پی وی سی''رفلیکٹنگ شیٹ سمیت دیگردرآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس ویلیوایشن میںگائیڈلائن کونظراندازکرتے ہوئے کم ویلیوپرایسسمنٹ کی جارہی ہے، ذرائع کے مطابق چیف کلکٹرساؤتھ کی جانب سے نومبر 2013میں 96درآمدی اشیا کی ویلیوایشن گائیڈلائن کا اجرا کیاگیاتھا لیکن ان درآمدی اشیا کی تاحال ویلیویشن رولنگ کا اجرا نہیںکیاگیاجس کے باعث ویلیوایشن گائیڈلائن کا اطلاق صرف کراچی سے کلیئرہونے والے درآمدی کنسائمنٹس پر کیاجارہاہے جبکہ ملک بھرکی خشک گودیوں پر ''ٹی پی''کے ذریعے جانے والے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس پر ویلیوایشن گائیڈلائن کا اطلاق نہیں کیاجارہاجس کے باعث لاہور،اسلام آباد، پشاور سمیت ملک بھرکے ڈرائی پورٹس پر درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس کم ویلیوپر کی جارہی ہے۔