سیاسی عدم استحکام کے ملکی معیشت پر اثرات
تاریخ گواہ ہے کہ سیاست دانوں نے ذاتی مفادات کو ہمیشہ ترجیح دی ہے کبھی ملکی مفاد کو مقدم نہیں جانا
تاریخ گواہ ہے کہ سیاست دانوں نے ذاتی مفادات کو ہمیشہ ترجیح دی ہے کبھی ملکی مفاد کو مقدم نہیں جانا- فوٹو:فائل
ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوتا جارہا ہے ،اس عدم استحکام کا براہ راست اثر زندگی کے تمام شعبوں پر منتقل ہورہا ہے، ریاستی ادارے مختلف سطحوں پر ملک کا انتظام چلاتے ہیں، معیشت کی حالت، ملکی سلامتی اور ہر شہری کی فلاح و بہبود ان کے کام پر منحصر ہے۔
ایک مستحکم سیاسی صورتحال آپ کومعیشت میں توازن قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے، اور اس نظام کے ٹوٹنے سے تباہی ہوتی ہے، سیاسی عدم استحکام بنیادی طور پر قومی کرنسی کی قدر میں کمی اور آبادی کے معیار زندگی میں بگاڑ کا باعث ہے۔اس وقت ملک کی بیوروکریسی ''دیکھو اور انتظار کرو'' کی پالیسی پر عمل کررہی ہے ، جس سے امور حکومت مکمل طور پر مفلوج ہوچکے ہیں۔
اس وقت ہمارے سیاست دان ملک کی معاشی صورتحال اور دنیا میں بدلتے ہوئے تقاضوں کو نظر انداز کر کے صرف اپنے سیاسی فوائد کے لیے مصروف عمل ہیں۔ کمزور ملکی معیشت کی کسی کو فکر نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائرکی مالیت ایک ہفتہ میں 38کروڑ ڈالرکمی سے 15 ارب 83کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی ہے ، جب کہ ڈالر 180روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔
آنے والے دنوں میں پاکستان میں گندم کا ایک نیا بحران سراٹھانے والا ہے ، اس بحران کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ گندم کی گزشتہ فصل سرکاری تخمینوں کے برعکس کم رہی۔ حکومت نے اُنھی تخمینوں کی بنیاد پر گندم برآمد کرنے کی منظوری دی تھی جس کی وجہ سے ملک کے اندر گندم کی کمی ہو گئی ہے ، اسی وجہ سے آئے روز آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔حالت یہ ہوگئی ہے کہ اس بار گندم کی کھڑی فصل ، کٹائی سے قبل خرید لی گئی ہے ، جو کہ الارمنگ صورتحال ہے۔
حکومت فوری طور پر گندم کی برآمد پر پابندی عائد کردے، ورنہ ایک ایسا بحران جنم لے گا جس پر قابو پانا ناممکن ہوجائے گا ۔حکومت کو زراعت کے شعبے میں سبسڈی فراہم کرنی چاہیے جیسا پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت ہم اپنی زرعی اجناس بھارت برآمد کرتے تھے۔کسان تنظیموں نے کھاد کی عدم دستیابی پرحکومت کو خبردارکردیا ہے کہ اس صورتحال میں رواں سال گندم کی اوسط پیداوار 50 فیصد کم ہونے کا خدشہ ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو قحط تیزی سے اس ریاست کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر کھاد نہیں ہو گی تو کپاس،چاول،گنا، دالیں اور سبزیاں کیسے تیار ہونگی؟
تعمیراتی صنعت نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ اسے ڈیفالٹ سے بچایا جائے کیونکہ یہ شعبہ تباہی کے دہانے پر ہے،پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے ایک کروڑ سے ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی کل آبادی کا 52 فیصد کچی آبادیوں میں رہتا ہے۔
جب تعمیرات میں بے پناہ اضافہ ہوا تو تعمیراتی اشیا کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا، جس کے ساتھ سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر اشیا کی قیمت انتہائی بڑھ گئی ہیں۔ فی ٹن اسٹیل پر آٹھ ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے ، ایک رپورٹ کے مطابق اسٹیل کی قیمت اب دو لاکھ فی ٹن سے بڑھ کر دو لاکھ آٹھ ہزار روپے ہوگئی ہے۔ سیمنٹ کے فیکٹری مالکان بڑھتی قیمت کا الزام عالمی سطح پر خام مال کی قیمت اور ایندھن کی قیمت میں اضافے سے جوڑتے ہیں۔ عالمی طور پر تیل اور کوئلے میں اضافے کے بعد سیمنٹ کی پیداواری لاگت اور خام مال کی قیمت میں اضافے کے بعد سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے ۔
اس وقت سیمنٹ کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ ہوچکا ہے ۔ سیمنٹ اور سریے کی قیمت میں بے پناہ اضافے کے ساتھ تعمیرات کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ان میں ایلمونیم، کھڑکیوں اور دروازوں میں استعمال ہونے والی لکڑی کا سامان، سینیٹری کے سامان اور ٹائلز اور ماربل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔
ہر نئی آنے والی حکومت اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے یہ جواز پیش کرتی ہے کہ سابق حکومت نے خزانہ خالی کر دیا اور اس نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا، اس لیے اب معیشت کی بہتری کے لیے سخت فیصلے ضروری ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے یکم مارچ کو ایک لیٹر پٹرول اور ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں دس روپے جب کہ بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت میں پانچ روپے کمی کی تھی۔پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی جون تک جاری رہے گی۔ روس پر امریکی پابندی کے باعث کہا جا رہا ہے کہ خام تیل کی قیمت میں کمی عارضی ہے اس میں پھر اضافہ ہو گا۔
صنعتی ترقی کے لیے حکومت کا کردار نہایت اہم ہے لیکن اس کی حدود کا تعین ہونا چاہیے ،مافیا اور اجارہ داروں سے نپٹنے کے لیے ضوابط بنائے جائیں۔ چینی، آٹو موبائلز، سیمنٹ، فارماسوٹیکل اور بے شمار ایسی بڑی صنعتیں ہیں جنھوں نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور قیمتوں میں ردوبدل کرتے رہتے ہیں جب کہ سرکاری ادارے اس معاملے پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
بیرونی اکاؤنٹس کو منظم کرنے کے لیے درآمد پر توجہ دے کر ہم مطلوبہ اہداف حاصل کر سکتے ہیں، ہم نے ماضی میں بھی کچھ اقدامات کرنے کی کوشش کی تھی۔ سب سے پہلے ہمیں درآمدات کو قابو میں لانے کے لیے منافع کی شرح میں اضافہ کرنا چاہیے، ہمیں پٹرولیم مصنوعات، زراعت اور ادویات کے علاوہ تمام مصنوعات کی درآمد پر 10 سے 30فیصد نقد رقم جمع کروانے کا نظام متعارف کرانا چاہیے۔ ہم نے پرتعیش مصنوعات کے لیے اس قسم کا نظام متعارف کروایا ہے لیکن یہ درآمدات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے اور ہمیں اس کا دائرہ کار بڑھانا چاہیے۔
دوسرا یہ کہ ہمیں چینی مصنوعات پر کم از کم درآمدی قیمت لاگو کر کے انڈر انوائسنگ کو جانچنا چاہیے۔ ہمیں چین سے بڑی مصنوعات جیسے لوہا اور اسٹیل کی کم از کم قیمت پر درآمد کرنی چاہیے۔ بھارت 28 مصنوعات کم از کم قیمت پر درآمد کرتا ہے جس میں سے کچھ مصنوعات چین سے اور کچھ سری لنکا کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدوں کی مد میں درآمد کرتا ہے۔ یہ عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد و ضوابط کے لیے قابل قبول ہے۔ ہمیں ایک مضبوط نیشنل ٹیرف کمیشن کی ضرورت ہے جو واضح طور پر انڈر انوائسنگ کی نشاندہی کر سکے۔
ہمیں اپنے زرمبادلہ کی شرح کو منظم کرنے کے لیے حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی صورت میں ہماری زرمبادلہ کی اصل شرح پر زیادہ اثر نہیں پڑنا چاہیے، ایسے بہت سے اقدامات ہیں جن سے ملکی آمدن میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمیں (ٹیکسوں کی وصولی کے لیے) ریونیو اتھارٹی کی بحالی کی ضرورت ہے جس کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔پاکستان میں ٹیکس خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا 3 سے 4 فیصد ہے۔ آمدن میں اضافے کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت نہیں بلکہ مناسب اور بروقت اقدامات سے ہم مجموعی قومی پیداوار پر ٹیکس کی شرح کو بہتر کر سکتے ہیں اور قومی خزانے کے لیے کم از کم10 کھرب روپے حاصل کر سکتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ سیاست دانوں نے ذاتی مفادات کو ہمیشہ ترجیح دی ہے کبھی ملکی مفاد کو مقدم نہیں جانا، عوام کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھا غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہر شہری کو مقروض کر دیا۔ آج بھی وہی پرانا طرز سیاست غالب ہے۔ نعرے ہیں، جھوٹ ہے، وعدے ہیں اور ٹانگیں کھینچنے کا سلسلہ عروج پر ہے۔ سیاست دانوں کی غلطیوں کا خمیازہ عام شہری بھگت رہا ہے اور نجانے کب تک بھگتے گا۔
تاریخ عالم کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف وہی ممالک اور اقوام کامیاب ہوئے، جنھوں نے مستقل بنیادوں پر جد وجہد کی۔ حکومت کے آنے جانے سے جن کے رخ اور لگن تبدیل نہیں ہوئے' کسی جماعت کی حکومت چند برس کے لیے آتی ہے، مگر قومی اور ملکی تعمیر وترقی دیرپا اور مستقل منصوبوں کا تقاضہ کرتی ہے، ملکی تاریخ کے 75ویں برس میں ہمیں اس کی سمجھ آ جانی چاہیے، ہم دوسروں کو دیکھ کر ہی کچھ سمجھ اور سیکھ سکتے ہیں۔
قومیں اپنے رہنماؤں کی پیروی کرتی ہیں، یہ ذمے داری رہنماؤں کی ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے حالات دیکھ کر کچھ سبق حاصل کریں اور قوم کی رہنمائی کا حق ادا کریں، سیاست دانوں کو صرف اور صرف قوم اور ملک کا مفاد پیش نظر رکھنا چاہیے اور اسی صورت میں ہی ملک ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہو سکتا ہے اور اس سے سماجی سطح پر جو مثبت اثرات سامنے آئیں گے اس سے یقیناً جمہوری نظام بھی مضبوط ہو گا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہے۔
ایک مستحکم سیاسی صورتحال آپ کومعیشت میں توازن قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے، اور اس نظام کے ٹوٹنے سے تباہی ہوتی ہے، سیاسی عدم استحکام بنیادی طور پر قومی کرنسی کی قدر میں کمی اور آبادی کے معیار زندگی میں بگاڑ کا باعث ہے۔اس وقت ملک کی بیوروکریسی ''دیکھو اور انتظار کرو'' کی پالیسی پر عمل کررہی ہے ، جس سے امور حکومت مکمل طور پر مفلوج ہوچکے ہیں۔
اس وقت ہمارے سیاست دان ملک کی معاشی صورتحال اور دنیا میں بدلتے ہوئے تقاضوں کو نظر انداز کر کے صرف اپنے سیاسی فوائد کے لیے مصروف عمل ہیں۔ کمزور ملکی معیشت کی کسی کو فکر نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائرکی مالیت ایک ہفتہ میں 38کروڑ ڈالرکمی سے 15 ارب 83کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی ہے ، جب کہ ڈالر 180روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔
آنے والے دنوں میں پاکستان میں گندم کا ایک نیا بحران سراٹھانے والا ہے ، اس بحران کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ گندم کی گزشتہ فصل سرکاری تخمینوں کے برعکس کم رہی۔ حکومت نے اُنھی تخمینوں کی بنیاد پر گندم برآمد کرنے کی منظوری دی تھی جس کی وجہ سے ملک کے اندر گندم کی کمی ہو گئی ہے ، اسی وجہ سے آئے روز آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔حالت یہ ہوگئی ہے کہ اس بار گندم کی کھڑی فصل ، کٹائی سے قبل خرید لی گئی ہے ، جو کہ الارمنگ صورتحال ہے۔
حکومت فوری طور پر گندم کی برآمد پر پابندی عائد کردے، ورنہ ایک ایسا بحران جنم لے گا جس پر قابو پانا ناممکن ہوجائے گا ۔حکومت کو زراعت کے شعبے میں سبسڈی فراہم کرنی چاہیے جیسا پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت ہم اپنی زرعی اجناس بھارت برآمد کرتے تھے۔کسان تنظیموں نے کھاد کی عدم دستیابی پرحکومت کو خبردارکردیا ہے کہ اس صورتحال میں رواں سال گندم کی اوسط پیداوار 50 فیصد کم ہونے کا خدشہ ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو قحط تیزی سے اس ریاست کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر کھاد نہیں ہو گی تو کپاس،چاول،گنا، دالیں اور سبزیاں کیسے تیار ہونگی؟
تعمیراتی صنعت نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ اسے ڈیفالٹ سے بچایا جائے کیونکہ یہ شعبہ تباہی کے دہانے پر ہے،پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے ایک کروڑ سے ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی کل آبادی کا 52 فیصد کچی آبادیوں میں رہتا ہے۔
جب تعمیرات میں بے پناہ اضافہ ہوا تو تعمیراتی اشیا کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا، جس کے ساتھ سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر اشیا کی قیمت انتہائی بڑھ گئی ہیں۔ فی ٹن اسٹیل پر آٹھ ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے ، ایک رپورٹ کے مطابق اسٹیل کی قیمت اب دو لاکھ فی ٹن سے بڑھ کر دو لاکھ آٹھ ہزار روپے ہوگئی ہے۔ سیمنٹ کے فیکٹری مالکان بڑھتی قیمت کا الزام عالمی سطح پر خام مال کی قیمت اور ایندھن کی قیمت میں اضافے سے جوڑتے ہیں۔ عالمی طور پر تیل اور کوئلے میں اضافے کے بعد سیمنٹ کی پیداواری لاگت اور خام مال کی قیمت میں اضافے کے بعد سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے ۔
اس وقت سیمنٹ کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ ہوچکا ہے ۔ سیمنٹ اور سریے کی قیمت میں بے پناہ اضافے کے ساتھ تعمیرات کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ان میں ایلمونیم، کھڑکیوں اور دروازوں میں استعمال ہونے والی لکڑی کا سامان، سینیٹری کے سامان اور ٹائلز اور ماربل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔
ہر نئی آنے والی حکومت اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے یہ جواز پیش کرتی ہے کہ سابق حکومت نے خزانہ خالی کر دیا اور اس نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا، اس لیے اب معیشت کی بہتری کے لیے سخت فیصلے ضروری ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے یکم مارچ کو ایک لیٹر پٹرول اور ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں دس روپے جب کہ بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت میں پانچ روپے کمی کی تھی۔پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی جون تک جاری رہے گی۔ روس پر امریکی پابندی کے باعث کہا جا رہا ہے کہ خام تیل کی قیمت میں کمی عارضی ہے اس میں پھر اضافہ ہو گا۔
صنعتی ترقی کے لیے حکومت کا کردار نہایت اہم ہے لیکن اس کی حدود کا تعین ہونا چاہیے ،مافیا اور اجارہ داروں سے نپٹنے کے لیے ضوابط بنائے جائیں۔ چینی، آٹو موبائلز، سیمنٹ، فارماسوٹیکل اور بے شمار ایسی بڑی صنعتیں ہیں جنھوں نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور قیمتوں میں ردوبدل کرتے رہتے ہیں جب کہ سرکاری ادارے اس معاملے پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
بیرونی اکاؤنٹس کو منظم کرنے کے لیے درآمد پر توجہ دے کر ہم مطلوبہ اہداف حاصل کر سکتے ہیں، ہم نے ماضی میں بھی کچھ اقدامات کرنے کی کوشش کی تھی۔ سب سے پہلے ہمیں درآمدات کو قابو میں لانے کے لیے منافع کی شرح میں اضافہ کرنا چاہیے، ہمیں پٹرولیم مصنوعات، زراعت اور ادویات کے علاوہ تمام مصنوعات کی درآمد پر 10 سے 30فیصد نقد رقم جمع کروانے کا نظام متعارف کرانا چاہیے۔ ہم نے پرتعیش مصنوعات کے لیے اس قسم کا نظام متعارف کروایا ہے لیکن یہ درآمدات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے اور ہمیں اس کا دائرہ کار بڑھانا چاہیے۔
دوسرا یہ کہ ہمیں چینی مصنوعات پر کم از کم درآمدی قیمت لاگو کر کے انڈر انوائسنگ کو جانچنا چاہیے۔ ہمیں چین سے بڑی مصنوعات جیسے لوہا اور اسٹیل کی کم از کم قیمت پر درآمد کرنی چاہیے۔ بھارت 28 مصنوعات کم از کم قیمت پر درآمد کرتا ہے جس میں سے کچھ مصنوعات چین سے اور کچھ سری لنکا کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدوں کی مد میں درآمد کرتا ہے۔ یہ عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد و ضوابط کے لیے قابل قبول ہے۔ ہمیں ایک مضبوط نیشنل ٹیرف کمیشن کی ضرورت ہے جو واضح طور پر انڈر انوائسنگ کی نشاندہی کر سکے۔
ہمیں اپنے زرمبادلہ کی شرح کو منظم کرنے کے لیے حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی صورت میں ہماری زرمبادلہ کی اصل شرح پر زیادہ اثر نہیں پڑنا چاہیے، ایسے بہت سے اقدامات ہیں جن سے ملکی آمدن میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمیں (ٹیکسوں کی وصولی کے لیے) ریونیو اتھارٹی کی بحالی کی ضرورت ہے جس کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔پاکستان میں ٹیکس خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا 3 سے 4 فیصد ہے۔ آمدن میں اضافے کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت نہیں بلکہ مناسب اور بروقت اقدامات سے ہم مجموعی قومی پیداوار پر ٹیکس کی شرح کو بہتر کر سکتے ہیں اور قومی خزانے کے لیے کم از کم10 کھرب روپے حاصل کر سکتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ سیاست دانوں نے ذاتی مفادات کو ہمیشہ ترجیح دی ہے کبھی ملکی مفاد کو مقدم نہیں جانا، عوام کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھا غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہر شہری کو مقروض کر دیا۔ آج بھی وہی پرانا طرز سیاست غالب ہے۔ نعرے ہیں، جھوٹ ہے، وعدے ہیں اور ٹانگیں کھینچنے کا سلسلہ عروج پر ہے۔ سیاست دانوں کی غلطیوں کا خمیازہ عام شہری بھگت رہا ہے اور نجانے کب تک بھگتے گا۔
تاریخ عالم کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف وہی ممالک اور اقوام کامیاب ہوئے، جنھوں نے مستقل بنیادوں پر جد وجہد کی۔ حکومت کے آنے جانے سے جن کے رخ اور لگن تبدیل نہیں ہوئے' کسی جماعت کی حکومت چند برس کے لیے آتی ہے، مگر قومی اور ملکی تعمیر وترقی دیرپا اور مستقل منصوبوں کا تقاضہ کرتی ہے، ملکی تاریخ کے 75ویں برس میں ہمیں اس کی سمجھ آ جانی چاہیے، ہم دوسروں کو دیکھ کر ہی کچھ سمجھ اور سیکھ سکتے ہیں۔
قومیں اپنے رہنماؤں کی پیروی کرتی ہیں، یہ ذمے داری رہنماؤں کی ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے حالات دیکھ کر کچھ سبق حاصل کریں اور قوم کی رہنمائی کا حق ادا کریں، سیاست دانوں کو صرف اور صرف قوم اور ملک کا مفاد پیش نظر رکھنا چاہیے اور اسی صورت میں ہی ملک ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہو سکتا ہے اور اس سے سماجی سطح پر جو مثبت اثرات سامنے آئیں گے اس سے یقیناً جمہوری نظام بھی مضبوط ہو گا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہے۔