بچوں کا ادبی میلہ ختم ہزاروں طلبا کی تقریبات اور رنگا رنگ پروگراموں میں شرکت
آرٹس کونسل میں گیارہواں ادبی میلہ خوبصورت یادوں کے ساتھ اختتام پذیر،شہر کے تمام اسکولوں کے طلبا، اساتذہ نے میلہ دیکھا
ادبی میلے میں بچے تھیٹرڈرامے میں فن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
آرٹس کونسل میں بچوں کا گیارہواں ادبی میلہ خوبصورت یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا آخری دن مختلف تقریبات ، مجالس اور نشستوں اور رنگا رنگ پروگراموں میں ہزاروں بچے، والدین اور اساتذہ شریک ہوئے ان میں کراچی کے تمام اسکولوں کے بچے شامل تھے۔
لیاری، کورنگی اور ابراہیم حیدری سے بھی بچے اس میلے میں شرکت کے لیے آئے تھے،ہفتہ کے دن بچوں کے ادبی میلے کے آخری دن داستان سرائے داستان گوئی نشست میں بچوں کو سندھی ،بلوچی، پشتو، گجراتی، اردو اور انگلش زبانوں میں کہانیاں سنائی گئیں، ادارہ تعلیم و آگہی کی پروگرام ڈائریکٹر بیلہ رضا جمیل نے کہا کہ ہم بچوں اور والدین میںکتابیں پڑھنے کی عادت کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب انھیں مختلف سرگرمیوں سے اس کی ترغیب دیں، والدین اساتذہ اور بچوں نے میلے کے بارے میں جو رائے دی ہے وہ بہت مثبت اور دلچسپ ہے، ہم آئندہ بھی اس قسم کے ادبی میلے کا اہتمام کرتے رہیں گے،بچوں میں پڑھنے کی عادت پیدا کرنے کے مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے آج بچوں کے ادبی میلے کے آخری دن کے لیے رنگا رنگ سرگرمیوں کا انتظام کیا گیا۔
اسکولوں کے بچوں کے لیے اداکار اور گلوکار خالد انعم نے موسیقی کی خاص نشست منعقد کی، بچوں کے لیے ڈرامے علی بابا چالیس چور، چلغوزے اور موزے، ٹوفی ٹی وی،کہانی ٹائم، سنگ اے سانگ اور پتلی تماشا پیش کیا گیا، مختلف پلینریز بھی آج کے پروگراموں کا حصہ تھے جن کا تعلق نوجوانوں کے کردار، مطالعے کو فروغ دینے کے نئے طریقے شہری علاقوں میں لائبریریوں کے قیام سے تھا،ادیبہ رومانہ حسین نے کہا کہ انھیں بچوں کیلیے کام کرکے اور کہانیاں لکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے، سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن، فوزیہ من اللہ اور خدا بخش ابڑو کے رنگا رنگ اسٹالوں نے فیسٹیول کی رونق دوبالا کر دی، بچوں کے ادبی میلے کی ٹیم نے بچوں کی تعلیم سے متعلق ہر پہلو کو سمونے کے لیے بہترین کوشش کی جس کا اظہار ٹوفی ٹی وی کہانی ٹائم اور دوسری سرگرمیوں سے ہوتا ہے ۔
لیاری، کورنگی اور ابراہیم حیدری سے بھی بچے اس میلے میں شرکت کے لیے آئے تھے،ہفتہ کے دن بچوں کے ادبی میلے کے آخری دن داستان سرائے داستان گوئی نشست میں بچوں کو سندھی ،بلوچی، پشتو، گجراتی، اردو اور انگلش زبانوں میں کہانیاں سنائی گئیں، ادارہ تعلیم و آگہی کی پروگرام ڈائریکٹر بیلہ رضا جمیل نے کہا کہ ہم بچوں اور والدین میںکتابیں پڑھنے کی عادت کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب انھیں مختلف سرگرمیوں سے اس کی ترغیب دیں، والدین اساتذہ اور بچوں نے میلے کے بارے میں جو رائے دی ہے وہ بہت مثبت اور دلچسپ ہے، ہم آئندہ بھی اس قسم کے ادبی میلے کا اہتمام کرتے رہیں گے،بچوں میں پڑھنے کی عادت پیدا کرنے کے مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے آج بچوں کے ادبی میلے کے آخری دن کے لیے رنگا رنگ سرگرمیوں کا انتظام کیا گیا۔
اسکولوں کے بچوں کے لیے اداکار اور گلوکار خالد انعم نے موسیقی کی خاص نشست منعقد کی، بچوں کے لیے ڈرامے علی بابا چالیس چور، چلغوزے اور موزے، ٹوفی ٹی وی،کہانی ٹائم، سنگ اے سانگ اور پتلی تماشا پیش کیا گیا، مختلف پلینریز بھی آج کے پروگراموں کا حصہ تھے جن کا تعلق نوجوانوں کے کردار، مطالعے کو فروغ دینے کے نئے طریقے شہری علاقوں میں لائبریریوں کے قیام سے تھا،ادیبہ رومانہ حسین نے کہا کہ انھیں بچوں کیلیے کام کرکے اور کہانیاں لکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے، سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن، فوزیہ من اللہ اور خدا بخش ابڑو کے رنگا رنگ اسٹالوں نے فیسٹیول کی رونق دوبالا کر دی، بچوں کے ادبی میلے کی ٹیم نے بچوں کی تعلیم سے متعلق ہر پہلو کو سمونے کے لیے بہترین کوشش کی جس کا اظہار ٹوفی ٹی وی کہانی ٹائم اور دوسری سرگرمیوں سے ہوتا ہے ۔