پاکستان افغانستان میں موجود امریکی اسلحہ خریدنے کا خواہشمند

سیکریٹری دفاع کل سے شروع ہونیوالے 4 روزہ دورہ امریکاکے دوران باضابطہ بات کرینگے

سیکریٹری دفاع کل سے شروع ہونیوالے 4 روزہ دورہ امریکاکے دوران باضابطہ بات کرینگے۔فوٹو:فائل

پاکستان کی جانب سے افغانستان میں استعمال ہونے والے امریکی اسلحے کے حصول میں دلچسپی کے اظہارکے بعداس اہم معاملے پرامریکاکے ساتھ بات چیت کل پیر سے امریکی دارالحکومت میں شروع ہوگی۔


باخبرسفارتی ذرائع کے مطابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل(ر)آصف یاسین ملک کل سے امریکاکا4روزہ دورہ کرینگے۔اس دورے کامقصددونوں ملکوں کی''ڈیفنس ریسورسنگ کانفرنس''میں شرکت کرنا ہے۔سیکریٹری دفاع اہم امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں جہاں دفاعی شعبے میں تعاون سے متعلقہ معاملات پر تبادلہ خیال کریںگے وہاں وہ امریکاسے اس اسلحے کے حصول پربھی بات چیت کرینگے جوامریکانے افغانستان میں استعمال توکیامگراب اس کی واپسی انتہائی مشکل ہے،اس ہزاروں ٹن اسلحے کی واپسی پراٹھنے والی لاگت اس کی قیمت سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکانے فیصلہ کیاہے کہ یاتواس اسلحے کوافغان حکومت کو دے دیاجائے،اسکریپ میں بیچ دیاجائے یاپھرافغانستان کے پڑوسی ممالک جن میں وسطی ایشیاکے کچھ ممالک شامل ہیں کویہ اسلحہ فروخت کیاجائے۔ایک سفارتکارنے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایاکہ پاکستانی حکام نے اس اسلحے کے حصول کے حوالے سے حال میں پاکستان کادورہ کرنے والے امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈکے سربراہ جنرل لائیڈجے آسٹن سے بھی بات چیت کی اور فیصلہ کیاگیاکہ اس اہم معاملے پرآئندہ واشنگٹن میں بات چیت کی جائے۔ذرائع نے بتایاکہ سیکریٹری دفاع امریکی حکام کے ساتھ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈکی مدمیں ملنے والی رقم کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبے میں تربیت اورپاکستان کی جدید اسلحے کی فروخت پربھی بات چیت کرینگے۔
Load Next Story