تھری جی اسپیکٹرم لائسنس ملنے پر اتصالات 80 کروڑ ڈالر واجبات دینے پر تیار
اگر ہمیں تھری جی اسپیکٹرم کا لائسنس ملا تو واجبات اداکردیئے جائیں گے،اتصالات حکام کی یقین دہانی
اتصالات کے حکام نے تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم کے لائسنس کے حصول میںدلچسپی ظاہرکی ہے۔ فوٹو: فائل
اتصالات نے تھری جی اسپیکٹرم کے لائسنس کی فراہمی پر پاکستان کو پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے روکے گئے 80 کروڑ ڈالر ادا کرنے کی پیشکش کردی ہے۔
وزارت خزانہ کے سینئرافسر نے بتایاکہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ دبئی میں حالیہ مذاکرات کے موقع پروزیرخزانہ اسحاق ڈارکی سربراہی میں پاکستانی ٹیم سے ملاقات میں یہ پیشکش کی گئی ہے۔ اتصالات کے حکام نے تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم کے لائسنس کے حصول میںدلچسپی ظاہرکی اورکہا کہ اگرتھری جی اسپیکٹرم کی نیلامی میں اتصالات کوبھی لائسنس دیاجاتاہے تویہ واجبات اداکردیے جائینگے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی اقتصادی ٹیم نے آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ مذاکرات میں تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم کی نیلامی آئندہ ماہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، مارچ میں لائسنس نیلامی کے بعد ٹرانزیکشن 15 اپریل تک مکمل کرلی جائے گی۔آئی ایم ایف حکام کوبتایا گیاکہ تھری جی اسپیکٹرم کے لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کوفیس جمع کرانے کے 2 آپشن دیے جائیںگے، پہلے آپشن کے تحت یکمشت مکمل ادائیگی جبکہ دوسرے آپشن کے تحت 5 سال کے دوران مساوی اقساط میں ادائیگی کی جاسکے گی۔
قسطوں کے لیے 50 فیصد پیمنٹ فوری دینا ہوگی اورباقی رقم کی اقساط پرکمپنیوں کو مارک اپ بھی ادا کرنا ہوگا۔یہ لائسنس 15 سال کی مدت کے لیے جاری کیے جائیںگے۔ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ دورہ کے موقع پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے یواے ای کے وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ملاقات کی تھی اور انھیں وزیراعظم نوازشریف کا خط پہنچایا تھا جس میں اتصالات کے واجبات کی ادائیگیوں کا مسئلہ حل کرنے میں کردارادا کرنے کی درخواست کی گئی تھی ۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت آئندہ ماہ تھری جی کے 3 اور 4 جی کے 2 لائسنس جبکہ نئی کمپنیوں کے لیے ایک لائسنس نیلام کرنے کاارادہ رکھتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے لائسنس کی تعداد بڑھانے کی ایک وجہ اتصالات کی پیشکش بھی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ لائسنس کی نیلامی کے حوالے سے منگل 25 فروری کوہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی سمری پیش کی جارہی ہے،کابینہ اجلاس میں سمری کی منظوری دینے کاامکان ہے ۔
وزارت خزانہ کے سینئرافسر نے بتایاکہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ دبئی میں حالیہ مذاکرات کے موقع پروزیرخزانہ اسحاق ڈارکی سربراہی میں پاکستانی ٹیم سے ملاقات میں یہ پیشکش کی گئی ہے۔ اتصالات کے حکام نے تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم کے لائسنس کے حصول میںدلچسپی ظاہرکی اورکہا کہ اگرتھری جی اسپیکٹرم کی نیلامی میں اتصالات کوبھی لائسنس دیاجاتاہے تویہ واجبات اداکردیے جائینگے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی اقتصادی ٹیم نے آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ مذاکرات میں تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم کی نیلامی آئندہ ماہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، مارچ میں لائسنس نیلامی کے بعد ٹرانزیکشن 15 اپریل تک مکمل کرلی جائے گی۔آئی ایم ایف حکام کوبتایا گیاکہ تھری جی اسپیکٹرم کے لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کوفیس جمع کرانے کے 2 آپشن دیے جائیںگے، پہلے آپشن کے تحت یکمشت مکمل ادائیگی جبکہ دوسرے آپشن کے تحت 5 سال کے دوران مساوی اقساط میں ادائیگی کی جاسکے گی۔
قسطوں کے لیے 50 فیصد پیمنٹ فوری دینا ہوگی اورباقی رقم کی اقساط پرکمپنیوں کو مارک اپ بھی ادا کرنا ہوگا۔یہ لائسنس 15 سال کی مدت کے لیے جاری کیے جائیںگے۔ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ دورہ کے موقع پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے یواے ای کے وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ملاقات کی تھی اور انھیں وزیراعظم نوازشریف کا خط پہنچایا تھا جس میں اتصالات کے واجبات کی ادائیگیوں کا مسئلہ حل کرنے میں کردارادا کرنے کی درخواست کی گئی تھی ۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت آئندہ ماہ تھری جی کے 3 اور 4 جی کے 2 لائسنس جبکہ نئی کمپنیوں کے لیے ایک لائسنس نیلام کرنے کاارادہ رکھتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے لائسنس کی تعداد بڑھانے کی ایک وجہ اتصالات کی پیشکش بھی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ لائسنس کی نیلامی کے حوالے سے منگل 25 فروری کوہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی سمری پیش کی جارہی ہے،کابینہ اجلاس میں سمری کی منظوری دینے کاامکان ہے ۔