عراق میں فائرنگ اور جھڑپوں کے دوران مزید 19 افراد ہلاک

صوبہ دیالہ میں مسلح افراد نے ریپڈ ری ایکشن فورس کے بیس پر حملہ کردیا، کمانڈرسمیت 6 اہلکار،4 حملہ آوربھی مارے گئے

صوبہ صلاح الدین میں آپریشن،تکریت میں2 پولیس افسروں کے گھراڑادیے گئے،سلیمان بیک کاکنٹرول واپس لے لیا گیا۔ فوٹو: فائل

عراق میں مسلح افراد کی فائرنگ اور عراقی سیکیورٹی فورسزکی ٹارگٹ کلنگ میں 19 افرادہلاک اور29 زخمی ہوگئے۔


عراقی صوبہ صلاح الدین میں مسلح افراج نے علی الصباح عراقی پولیس کی متعددچیک پوسٹوں پرحملے کیے جس کے نتیجے میں شدید لڑائی میں 4 پولیس اہلکارہلاک اور6 زخمی ہوگئے۔ مقامی حکام نے کرفیولگاکرتازہ دم نفری کے آنے پرجنگجوئوں کے پیچھا کرنے کے لیے آپریشن شروع کردیا۔ تکریت میں مسلح افرادنے2 پولیس افسروں کے گھردھماکے سے اڑا دیے جس میں ایک پولیس اہلکار اور 2 شہری ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے۔ صوبہ دیالہ میں مسلح افراد نے رات کے وقت ریپڈ ری ایکشن پولیس فورس کی بیس پر حملہ کر کے 6 پولیس اہلکاروں کو ہلاک' 6 کو زخمی کر دیا جبکہ جوابی کارروائی میں 4 مسلح افراد بھی ہلاک ہوئے' بیس کاکمانڈر عدنان فاروق اور ایک اعلیٰ پولیس افسر بھی ہلاک شدگان میں شامل ہیں، اس واقعے میں 6مسلح افراد کوگرفتار کر لیا گیا۔

بغداد کے علاقے تاجی میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے 2 مسلح افراد ہلاک ہو گئے۔ ادھر صوبہ انبار میں حکومتی کنٹرول وزیراعظم نوری المالکی کیلیے چیلنج بنا ہوا ہے جبکہ وزارت دفاع کے ایک بیان کے مطابق فلوجہ میں 72 گھنٹوں کیلیے القاعدہ شدت پسندوں کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن روک دیا گیا ہے، ایسا لوگوں کی طرف سے امن کی اپیل پر کیا گیا ہے۔ این این آئی کے مطابق عراقی سرکاری افواج نے ملک کے شمالی قصبے سلیمان بیک کا کنٹرول ایک ہفتے کے بعد عسکریت پسندوں سے واپس لے لیا۔
Load Next Story