بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ایم سی آر سے ورک فورس کی فراہمی کا معاہدہ

انور بیگ اور سی ای اوایم سی آرعقیل حسن نے معاہدے پر دستخط کیے

چیئرمین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام انوربیگ اور ایم سی آر پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او عقیل حسن ایم سی آر ہیڈ آفس میں ایم او یو پر دستخط کررہے ہیں۔ فوٹو: آن لائن

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اورایم سی آر پرائیویٹ لمیٹڈ کے مابین مفاہمتی یاداشت پردستخط کیے گئے۔

ایم سی آر پرائیویٹ لمیٹڈ پیزاہٹ کی بین الاقوامی خوراک کی سیریز کی فرنچائزڈ ہے اور پاکستان بھر میں برگر کنگ اورٹی جی آئی ایف فراہم کرتی ہے۔ معاہدے کی رُو سے بی آئی ایس پی خوراک کی صنعت کے لیے مستحقین کو پیشہ وارانہ تربیت سے بہرہ مند کر کے تربیت یافتہ لیبر ورک فورس فراہم کریگا۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)اورایم سی آر پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیان دستخط کی تقریب ایم سی آر، ہیڈ آفس کراچی میں منعقد ہوئی۔ چیئرمین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام انور بیگ اور ایم سی آر کے چیف ایگزیکٹو عقیل حسن نے معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریب کے دوران چیئرمین بی آئی ایس پی انور بیگ نے کہا کہ مفاہمت کی یاداشت کے اس تاریخی معاہدے کی وجہ سے بی آئی ایس پی کے مستحقین ملک کی سب سے بڑی فوڈ چینز میں کام کر کے معاشی طور پر مستحکم ہوں گے۔


انہوںنے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا اولین نقطہ نظر بھی یہی ہے کہ نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے اور بی آئی ایس پی پاکستان کے غریب نوجوانوں کو غربت کے چنگل سے نکالنے کیلیے روزگار کے نت نئے مواقعوں میں اضافہ کرنے کی خاطر اُن کے مقصد کو پورا کرنے میں اہم کردار اداکررہا ہے۔ اس موقع پر ایم سی آر کے چیف ایگزیکٹو عقیل حسن نے کہا کہ ایم سی آر خوراک کی صنعت کے لحاظ سے سب سے بڑا گروپ ہے اور فی الوقت ہم پاکستان بھر میںبین الاقوامی برانڈز یعنی کہ پیزا ہٹ، برگر کنگ اور ٹی جی آئی ایس پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم سی آر بی آئی ایس پی کے تربیت یافتہ مستحقین کو روزگار فراہم کرنے میں ہر لمحہ مصروف عمل رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مستحقین میں غربت کی کمی کو دور کرنے کیلیے انہیں روزگار کی فراہمی کے سلسلے میں زبردست کردار ادا کررہا ہے اور ایم سی آر کو بی آئی ایس پی کے ساتھ پارٹنر بننے پر فخر ہے۔مفاہمت کی یاداشت کا بنیادی مقصد بی آئی ایس پی کے مستحقین کو پیشہ وارانہ تربیت اور ٹریننگ پروگرام کے ذریعے سود مند تربیت دیکر معاشرے میں غربت میں کمی لانا، خوراک کی صنعت کیلیے تربیت یافتہ لیبر فورس فراہم کرنا اور معاشرے میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی کو دور کرنا ہے۔
Load Next Story