اسٹاک مارکیٹ میں مندی غالب رہی 26 ہزار کی حد بھی گرگئی
گزشتہ ہفتے میں 790 پوائنٹس کم ہوئے، سرمایہ کاروں کے 2 کھرب 8 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے
گزشتہ ہفتے میں 790 پوائنٹس کم، سرمایہ کاروں کے 2کھرب 8ارب روپے سے زائد ڈوب گئے۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل
کراچی اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے مندی غالب رہی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 26000 کی نفسیاتی حد بھی برقرار نہ رکھا سکا اور 25603 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ہفتے کے دوران سرمایہ کاروں کے 2 کھرب 8ارب روپے سے زائد ڈوب گئے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل میں کوئی مثبت خبر سامنے نہ آنے اور کمپنیوں کے اچھے مالیاتی نتائج نہ آنے کی وجہ سے گزشتہ ہفتے بھی مارکیٹ میں مندی کے بادل برستے رہے اور مارکیٹ میں ایک غیر یقینی کیفیت طاری رہی۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاروں نے پورا ہفتہ خریداری کی جگہ فروخت پر دھیان دیا۔ اسی وجہ سے کے ایس ای 100انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 790 پوائنٹس کمی کے بعد 26394 پوائنٹس سے گھٹ کر 25603پوائنٹس پربند ہوا۔ اس طرح ہفتے کے دوران سرمایہ کاری مجموعی مارکیٹ مالیت میں 2 کھرب 8 ارب روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی اورمجموعی سرمایہ کاری مالیت گھٹ کر 62 کھرب 28 ارب 81 کروڑ 59 ہزار 544 روپے رہ گئی۔مارکیٹ کے مجموعی سرمائے میں3.17فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
کاروباری سرگرمیوں کا یومیہ اوسط حجم بھی 20.32 فیصد کمی کے بعد25 کروڑ 47 لاکھ سے کم ہو کر 20کروڑ 39 لاکھ شیئرز رہا۔ ہفتے کے دوران مجموعی سودوں میں ایک ارب ایک کروڑ 46 لاکھ 66 ہزار 590 حصص کے سودوں میں زائد لین دین ریکارڈ رہا۔ ہفتے کے دوران مارکیٹ میں چار روزہ مندی اور ایک روزہ تیزی بھی ریکارڈ کی گئی۔ ہفتے کے دوران مارکیٹ میں سرگرم حصص کادائرہ کار 1890 کمپنیوں تک رہا۔ اس میں 677 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ 1133 میں کمی اور 80 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ گزشتہ ہفتے حبکو، کیپکو، نیسلے، اور این سی ایل کے مایوس کن مالیاتی نتیجے بھی مایوس کن رہے جس کی وجہ سے انڈیکس منفی زون میں رہا۔ماہرین کے مطابق ہفتے کے دوران بینکوں فرٹیلائزر کمپنیوں کے منافع میں توقع سے زائد کمی حکومت طالبان کے مابین مذاکرات میں پیشرفت دکھائی نہ دی اورکئی منفی عوامل کے باعث سرمایہ کار بیشتر حصص اونے پونے داموں فروخت کر کے اپنی پھنسی ہوئی سرمایہ کاری کے انخلا میں مصروف رہے۔
ہفتے کے دوران سرمایہ کاروں کے 2 کھرب 8ارب روپے سے زائد ڈوب گئے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل میں کوئی مثبت خبر سامنے نہ آنے اور کمپنیوں کے اچھے مالیاتی نتائج نہ آنے کی وجہ سے گزشتہ ہفتے بھی مارکیٹ میں مندی کے بادل برستے رہے اور مارکیٹ میں ایک غیر یقینی کیفیت طاری رہی۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاروں نے پورا ہفتہ خریداری کی جگہ فروخت پر دھیان دیا۔ اسی وجہ سے کے ایس ای 100انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 790 پوائنٹس کمی کے بعد 26394 پوائنٹس سے گھٹ کر 25603پوائنٹس پربند ہوا۔ اس طرح ہفتے کے دوران سرمایہ کاری مجموعی مارکیٹ مالیت میں 2 کھرب 8 ارب روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی اورمجموعی سرمایہ کاری مالیت گھٹ کر 62 کھرب 28 ارب 81 کروڑ 59 ہزار 544 روپے رہ گئی۔مارکیٹ کے مجموعی سرمائے میں3.17فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
کاروباری سرگرمیوں کا یومیہ اوسط حجم بھی 20.32 فیصد کمی کے بعد25 کروڑ 47 لاکھ سے کم ہو کر 20کروڑ 39 لاکھ شیئرز رہا۔ ہفتے کے دوران مجموعی سودوں میں ایک ارب ایک کروڑ 46 لاکھ 66 ہزار 590 حصص کے سودوں میں زائد لین دین ریکارڈ رہا۔ ہفتے کے دوران مارکیٹ میں چار روزہ مندی اور ایک روزہ تیزی بھی ریکارڈ کی گئی۔ ہفتے کے دوران مارکیٹ میں سرگرم حصص کادائرہ کار 1890 کمپنیوں تک رہا۔ اس میں 677 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ 1133 میں کمی اور 80 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ گزشتہ ہفتے حبکو، کیپکو، نیسلے، اور این سی ایل کے مایوس کن مالیاتی نتیجے بھی مایوس کن رہے جس کی وجہ سے انڈیکس منفی زون میں رہا۔ماہرین کے مطابق ہفتے کے دوران بینکوں فرٹیلائزر کمپنیوں کے منافع میں توقع سے زائد کمی حکومت طالبان کے مابین مذاکرات میں پیشرفت دکھائی نہ دی اورکئی منفی عوامل کے باعث سرمایہ کار بیشتر حصص اونے پونے داموں فروخت کر کے اپنی پھنسی ہوئی سرمایہ کاری کے انخلا میں مصروف رہے۔