5 ہزار 789 میگاواٹ بجلی کے 5 منصوبے 2016 تک مکمل ہونگے
دیامر بھاشا ڈیم معیشت کیلیے ریڑھ کی ہڈی ہے،آبپاشی وبجلی کی ضروریات پوری ہوگی، واپڈا حکام
دیامر بھاشا ڈیم معیشت کیلیے ریڑھ کی ہڈی ہے،آبپاشی وبجلی کی ضروریات پوری ہوگی،واپڈا حکام۔ فوٹو: فائل
واپڈا حکام نے کہا ہے کہ 5ہزار 789میگا واٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے حامل پن بجلی کے 5منصوبوں پر کام 2016 تک مکمل ہو جائے گا۔
واپڈا حکام کے مطابق دریائے سندھ پر دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ ملکی معیشت کیلیے ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس کی تکمیل سے مستقبل میں آبپاشی اور بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ حکام نے بتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے 3اہم مقاصد ہیں جن میں فلڈ کنٹرول، پاور جنریشن اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت شامل ہیں جس سے 4500میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی اور 80لاکھ ایکڑ فٹ پانی بجلی پیدا کرنے اور آبپاشی کیلیے ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی۔ حکام نے بتایا کہ واپڈا خیبرپختونخوا میں گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کرائی ہے جس سے 106میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی اور اس منصوبے کو 2015 میں مکمل کر لیا جائے گا۔
گولن گول منصوبہ حکومت کے کم لاگت کے توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں کا حصہ ہے جس پر واپڈا ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہا ہے جس سے نہ صرف قومی گرڈ میں ہائیڈل پاور شامل ہوگی بلکہ بجلی کی قیمت کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی تا کہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے بجلی کے سسٹم میں 436ملین یونٹس بجلی شامل ہو گی۔ حکام نے بتایا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ دریائے نیلم پر تعمیر کیا جا رہا ہے جس کی تکمیل سے سالانہ 5.15بلین یونٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی اور منصوبے کے سالانہ منافع کا تخمینہ 30ارب روپے لگایا گیا ہے جس کی تکمیل 2016 تک ہو جائے گی۔
واپڈا حکام کے مطابق دریائے سندھ پر دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ ملکی معیشت کیلیے ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس کی تکمیل سے مستقبل میں آبپاشی اور بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ حکام نے بتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے 3اہم مقاصد ہیں جن میں فلڈ کنٹرول، پاور جنریشن اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت شامل ہیں جس سے 4500میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی اور 80لاکھ ایکڑ فٹ پانی بجلی پیدا کرنے اور آبپاشی کیلیے ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی۔ حکام نے بتایا کہ واپڈا خیبرپختونخوا میں گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کرائی ہے جس سے 106میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی اور اس منصوبے کو 2015 میں مکمل کر لیا جائے گا۔
گولن گول منصوبہ حکومت کے کم لاگت کے توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں کا حصہ ہے جس پر واپڈا ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہا ہے جس سے نہ صرف قومی گرڈ میں ہائیڈل پاور شامل ہوگی بلکہ بجلی کی قیمت کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی تا کہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے بجلی کے سسٹم میں 436ملین یونٹس بجلی شامل ہو گی۔ حکام نے بتایا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ دریائے نیلم پر تعمیر کیا جا رہا ہے جس کی تکمیل سے سالانہ 5.15بلین یونٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی اور منصوبے کے سالانہ منافع کا تخمینہ 30ارب روپے لگایا گیا ہے جس کی تکمیل 2016 تک ہو جائے گی۔