انڈر 19 ورلڈ کپ پاکستانی ٹیم انگلش دیوار گرانے کیلیے بے تاب
سیمی فائنل جیت کر ٹرافی سے فاصلہ کم کرنا چاہیں گے، پرعزم کپتان سمیع اسلم
سیمی فائنل جیت کر ٹرافی سے فاصلہ کم کرنا چاہیں گے، پرعزم کپتان سمیع اسلم۔ فوٹو: فائل
انڈر19 ورلڈ کپ کا پہلا سیمی فائنل آج پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دبئی میں کھیلا جائے گا، پرعزم گرین شرٹس انگلش دیوار گرانے کو بیتاب ہیں، پوری ٹیم ٹرافی سے فاصلہ کم کرنے کی خاطر جان لڑانے کو تیار ہے۔
کپتان سمیع اسلم کا کہنا ہے کہ فتح کے لیے پوری توانائیاں صرف کردیں گے۔ اسی روز بھارت اور سری لنکا کے درمیان پلے آف سیمی فائنل بھی کھیلا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان 2004 اور 2006 میں انڈر 19 ورلڈ کپ ٹائٹل اپنے ہاتھوں میں اٹھا چکا ہے اور اب اس کی نگاہیں تیسری میگا ٹرافی پر مرکوز ہیں جوکہ اب اس سے صرف دو قدم کی دوری پرہے، گرین شرٹس نے کوارٹر فائنل میں سری لنکا کو121 رنز کے بڑے مارجن سے پچھاڑ کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی جہاں اب اس کا مقابلہ انگلینڈ سے ہونے والا ہے، انگلش ٹیم دفاعی چیمپئن بھارت کو تین وکٹ سے پچھاڑ کر یہاں تک پہنچی ہے۔پاکستان کا ٹاپ بیٹنگ آرڈر اب تک کامیاب ثابت ہوا ہے خاص طور پر اوپنرز کپتان سمیع اسلم اور امام الحق نے کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔
دونوں ہی ٹاپ اسکوررز میں شامل ہیں، انگلینڈ کے خلاف میچ میں بھی توقعات کا بوجھ ایک بار پھر اسی اوپننگ جوڑی پر ہوگا جوکہ چار میچز میں تین مرتبہ ٹیم کو سنچری اسٹینڈ فراہم کرچکی ہے، کپتان سمیع کا کہنا ہے کہ ہم متحدہ عرب امارات میں کچھ وقت سے کھیل رہے ہیں، موجودہ ایونٹ سے دو ماہ قبل سے ان کنڈیشنز میں کھیلنے کا ہمیں کافی فائدہ ہوا اور ہمارے اعتماد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ہم اس سے قبل انگلینڈ کے خلاف کئی بار کھیل چکے اور ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں یہ ایک انتہائی دلچسپ میچ ثابت ہونے والا ہے۔ دوسری جانب انگلینڈ کے کپتان ول رہوڈز بھی گرین شرٹس کو آسان حریف سمجھنے کی غلطی کرنے کو تیار نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک بہترین ٹیم اور ہمیں ان کے خلاف ایک مشکل میچ کھیلنا ہے، یہ کافی کانٹے دار مقابلہ ثابت ہوسکتا اور ہم اس سے بھرپور لطف اندوز ہوں گے۔
کپتان سمیع اسلم کا کہنا ہے کہ فتح کے لیے پوری توانائیاں صرف کردیں گے۔ اسی روز بھارت اور سری لنکا کے درمیان پلے آف سیمی فائنل بھی کھیلا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان 2004 اور 2006 میں انڈر 19 ورلڈ کپ ٹائٹل اپنے ہاتھوں میں اٹھا چکا ہے اور اب اس کی نگاہیں تیسری میگا ٹرافی پر مرکوز ہیں جوکہ اب اس سے صرف دو قدم کی دوری پرہے، گرین شرٹس نے کوارٹر فائنل میں سری لنکا کو121 رنز کے بڑے مارجن سے پچھاڑ کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی جہاں اب اس کا مقابلہ انگلینڈ سے ہونے والا ہے، انگلش ٹیم دفاعی چیمپئن بھارت کو تین وکٹ سے پچھاڑ کر یہاں تک پہنچی ہے۔پاکستان کا ٹاپ بیٹنگ آرڈر اب تک کامیاب ثابت ہوا ہے خاص طور پر اوپنرز کپتان سمیع اسلم اور امام الحق نے کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔
دونوں ہی ٹاپ اسکوررز میں شامل ہیں، انگلینڈ کے خلاف میچ میں بھی توقعات کا بوجھ ایک بار پھر اسی اوپننگ جوڑی پر ہوگا جوکہ چار میچز میں تین مرتبہ ٹیم کو سنچری اسٹینڈ فراہم کرچکی ہے، کپتان سمیع کا کہنا ہے کہ ہم متحدہ عرب امارات میں کچھ وقت سے کھیل رہے ہیں، موجودہ ایونٹ سے دو ماہ قبل سے ان کنڈیشنز میں کھیلنے کا ہمیں کافی فائدہ ہوا اور ہمارے اعتماد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ہم اس سے قبل انگلینڈ کے خلاف کئی بار کھیل چکے اور ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں یہ ایک انتہائی دلچسپ میچ ثابت ہونے والا ہے۔ دوسری جانب انگلینڈ کے کپتان ول رہوڈز بھی گرین شرٹس کو آسان حریف سمجھنے کی غلطی کرنے کو تیار نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک بہترین ٹیم اور ہمیں ان کے خلاف ایک مشکل میچ کھیلنا ہے، یہ کافی کانٹے دار مقابلہ ثابت ہوسکتا اور ہم اس سے بھرپور لطف اندوز ہوں گے۔