جھوٹے وعدے اور دعویٰ کرنے والے پسند نہیں محمود بھٹی

سلجھی ہوئی اور پڑھی لڑکی کو اپنی شریک حیات بنانے کو ترجیح دونگا، محمود بھٹی

اوپی ڈی کمپلیکس بن گیا، مزید پراجیکٹس پرکام شروع ۔ فوٹو : طارق حسن

MULTAN:
جھوٹے وعدے اوردعووں کا سلسلہ توشوبزمیں چلتا رہتا ہے۔ کبھی کوئی دعوی کیا جاتا ہے توکبھی کوئی وعدہ لیکن جب ان کے پورے کرنے کا وقت قریب آتا ہے تو پھر زیادہ ترلوگ میڈیا سے جان چھڑانے لگتے ہیں یا پھرکوئی ایسا بہانہ پیش کردیا جاتا ہے کہ جس کا حل کسی کے پاس نہیں ہوتا۔

دیکھا جائے تویہ سلسلہ شوبز کی چمکتی دمکتی دنیا تک ہی محدود نہیں، ہمارے ملک میں توسیاستدان، سرمایہ کار اوردیگرشعبوں کے لوگ ملک کی ترقی کیلئے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، بے روزگاروں کو روزگار کی فراہمی کے وعدے کئے جاتے ہیں لیکن یہ سب کب پورے ہونگے کوئی نہیں جانتا ؟۔ فرانس سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کی شخصیت اس لحاظ سے خاصی مختلف ہے۔ کیونکہ وہ جو دعوے اور وعدے کرتے ہیں ان کو پورا کرکے ہی دم لیتے ہیں۔ یہی ان کی کامیابی کا راز ہے اور اس پر انہیں فخربھی ہے۔

چند ماہ قبل محمود بھٹی اپنے نجی دورے پر لاہور پہنچے تو انہوں نے ''روزنامہ ایکسپریس'' کوخصوصی انٹرویودیتے ہوئے کچھ دعوے اوروعدے کئے تھے کہ وہ جلد ہی پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے ہسپتال، اعلیٰ تعلیم کیلئے یونیورسٹی اورفیشن انڈسٹری میں نمایاں مقام بنانے کی خواہش رکھنے والے نوجوان ڈیزائنرز کو ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کرنے کیلئے ادارہ قائم کرینگے۔ یہ باتیں کہنے کوتوبہت آسان ہیں لیکن ان کوعملی جامہ پہنانا واقعی ایک مشکل کام ہے لیکن محمود بھٹی نے اپنے انٹرویومیں کہی باتوں کو عملی طورپرسچ ثابت کرتے ہوئے لاہورمیں علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک '' اوپی ڈی کمپلیکس'' تعمیر کروادیا۔ جس کا افتتاح گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور نے کیا تھا۔




اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم سیاسی، سماجی اورکاروباری شخصیات توموجود تھیں ، لیکن ' اوپی ڈی کمپلیکس' کی افتتاحی تقریب میں اداکارہ ریشم کی اچانک شرکت نے بھی ماحول کوخاصا گرما دیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی گورنر پنجاب کو محمود بھٹی اورہسپتال کی انتظامیہ نے بین الاقوامی معیار کے عین مطابق تیار کئے جانیوالے اس کمپلیکس کا دورہ کرایا اور پھر یہاں علاج کیلئے دی جانے والی سہولیات بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ جس طرح سے محمود بھٹی نے پاکستان میں صحت اورتعلیم کے شعبے میں کام کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے عملی کام کیا ہے، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ وہ رہتے تو فرانس میں ہیں لیکن ان کا دل ہرلمحہ پاکستان کیلئے دھڑکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ محمود بھٹی کی طرح دیارغیر میں بسنے والے دوسرے پاکستانی بھی اگر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں تو ایک دن پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ملکوں کی فہرست میں کھڑا ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں بھی تمام عمر بیرون ملک رہا ہوں لیکن میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس قدر جدید اور بہتر ہسپتال تویورپ میں بھی نہیں ہے۔



''ایکسپریس '' سے گفتگو کرتے ہوئے محمود بھٹی کا کہنا تھا کہ 'اوپی ڈی کمپلیکس' تو ابتداء ہے جلد ہی لاہورمیں ایک بہت بڑی یونیورسٹی کی تعمیر کی جائے گی۔ اس کیلئے ہم نے جگہ کی تلاش شروع کردی ہے۔ جہاں تک بات صحت کے شعبے کی ہے تو میں نے کمپلیکس میں علاج کی بہترین سہولیات کویقینی بنانے کیلئے دنیا کے مختلف ممالک سے جدید ٹیکنالوجی امپورٹ کروائی ہے، جبکہ ماہر ڈاکٹر اور قابل تکنیکی عملہ بھی لوگوں کو بہترعلاج کی فراہمی کیلئے ہروقت موجود ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے جھوٹے وعدے اوردعوے کرنے والے لوگ پسند نہیں ۔ میری زندگی کا یہی اصول رہا ہے کہ جو بھی کام کرنے کی ذمہ داری اٹھائی جائے اس کو بہت ذمہ داری سے پورا کیا جائے۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا سب کچھ ہے۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ پاک وطن کودنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لانے کیلئے کچھ ایسے پراجیکٹ شروع کروں جس سے پاکستان کے نام اور مقام میں اضافہ ہوسکے۔

سات برس بعد اداکارہ ریشم سے ملاقات اوران کی جانب سے شادی کی پیشکش کے متعلق پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں محمود بھٹی کا کہنا تھا کہ ریشم سے کافی وقت کے بعد ملاقات ہوئی اورانہوں نے شادی کی پیشکش بھی کی ہے لیکن میرا ریشم سے شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میری بہت سی مصروفیات ہیں اوراس وقت میری توجہ صرف اور صرف پاکستان میں ہسپتال، کالج، یونیورسٹی اور فیشن ہاؤسز بنانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے گہما پھرا کرباتیں کرنے کی عادت نہیں ہے۔ میں بہت سنجیدگی کے ساتھ کام کرتا ہوں اور اپنی زندگی کے فیصلے بھی اسی طرح لیتا ہوں، جہاں تک بات شادی کی ہے توفی الحال اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن اگر مستقبل میں اس کی ضرورت پیش بھی آئی تو پھر میں کسی اچھی سلجھی اور پڑھی لکھی لڑکی کواپنی شریک حیات بنانے کو ترجیح دونگا، جومیرے فلاحی کاموں میں میرے ساتھ شانہ بشانہ کام کرے اور ان پراجیکٹس کو کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہوسکے۔
Load Next Story