بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کا معاملہ

پاکستان نے بھارت سے اپنی سزا پوری کر لینے والے تمام پاکستانی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔

پاکستانی ہائی کمشنرنے قیدی کی ہلاکت کی تفصیلات کے حصول کیلیے بھارتی حکام سے رابطہ کیاہے، پاکستانی قیدیوں کی حالت پراظہارتشویش۔ فوٹو: فائل

MULTAN:
پاکستان نے بھارت سے اپنی سزا پوری کر لینے والے تمام پاکستانی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے' یہ مطالبہ دفتر خارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جیل میں ایک پاکستانی قیدی کی ہلاکت کے بعد کیا۔ 22 فروری ہفتہ کو مقبوضہ کشمیر میں امپالہ ڈسٹرکٹ جیل میں تشدد سے ایک بیالیس سالہ پاکستانی قیدی شوکت علی جاں بحق ہو گیا تھا۔ بھارتی جیل انتظامیہ نے اپنی مکروہ حرکت پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے خودکشی قرار دے دیا۔ سیالکوٹ کا رہائشی شوکت علی فروری 2011ء میں غلطی سے سرحد عبور کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا جس پر بھارتی فوج نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے اسے جیل منتقل کر دیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کی طویل سرحد پر گائے بھینسیں اور بکریاں چراتے ہوئے یا غلطی سے کچھ افراد کا سرحد عبور کرجانا معمول کے واقعات ہیں مگر بھارتی فوجی سرحد پار کرنے والے ہر پاکستانی کو رہا کرنے کے بجائے جاسوس قرار دے کر اس پر اتنا تشدد کرتے ہیں کہ یا تو وہ شخص ہلاک ہو جاتا ہے یا پھر ذہنی حواس کھو بیٹھتا ہے۔ سیالکوٹ کا رہائشی شوکت علی غلطی سے سرحد عبور کرنے پر بھارتی فوج کے ہتھے چڑھ گیا جو بالآخر جیل میں تشدد کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ بی بی سی کے مطابق گزشتہ ایک سال میں بھارتی جیلوں میں پاکستانی قیدی کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بھی ایک بیان میں بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان قیدیوں پر بھارتی حکام اتنا تشدد کرتے ہیں کہ یا تو وہ اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں یا خود کشی کر لیتے ہیں۔ پاکستانی قیدیوں کا غلطی سے سرحد پار کرکے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے پناہ تشدد کا نشانہ بننا کسی المیہ سے کم نہیں مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستانی حکام ان قیدیوں کی رہائی کے لیے کوئی موثر کردار ادا نہیں کرتے اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔


دفتر خارجہ نے بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو پاکستانی قیدی کی ہلاکت کے بارے میں تفصیلی معلومات کے حصول کے لیے بھارتی حکام سے رابطہ کے لیے کہا ہے۔ مگر کیا بھارتی حکام یہ تسلیم کر لیں گے کہ پاکستانی قیدی نے خود کشی نہیں کی بلکہ وہ ان کے تشدد سے ہلاک ہوا ہے اور اگر یہ ثابت بھی ہو جائے کہ پاکستانی قیدی تشدد سے ہلاک ہوا ہے تو اس پر پاکستانی حکومت کا کیا ردعمل ہو گا اور واقعہ میں ملوث بھارتی جیل اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی ہو گی' اس کے بارے میں صورت حال مبہم ہے اور حکومت کی جانب سے کسی لائحہ عمل کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔ اس وقت بھی پاکستانی ماہی گیر اور غلطی سے سرحد عبور کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد بھارتی جیلوں میں پچھلے کئی سال سے بے گناہ قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ دفتر خارجہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ بھارتی حکام ان بے گناہ پاکستانیوں پر انسانیت سوز ظلم کرتے ہیں مگر دفتر خارجہ نے ان پاکستانیوں کے تحفظ کے لیے کوئی پالیسی نہیں بنائی جس سے واضح ہوتا ہے کہ مستقبل میں بھی ان پاکستانیوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا اور وہ اسی طرح بھارتی حکام کے تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے اپنی زندگی سے محروم ہوتے رہیں یا ذہنی حواس کھو بیٹھیں گے۔

حکومت پاکستان فوری طور پر وکلاء پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جو بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوشش کرے بلکہ مزید پیشرفت کرتے ہوئے بھارت کے اندر وکلا پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی ہونی چاہیے جونہی کوئی ماہی گیر یا غلطی سے سرحد عبور کرنے والا شخص بھارتی فوج کے ہاتھوں پکڑا جائے تو اس سے قبل کہ یہ افراد تشدد کا نشانہ بنیں، وکلاء کی یہ کمیٹی عدالتی کارروائی کے ذریعے ان کی رہائی کا فوری بندوبست کرے۔ پاکستانی حکومت کو بھارت سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے صرف مطالبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی طور پر ان قیدیوں کی رہائی کے لیے کوشش کرنا ہو گی۔ پاکستانی حکومت کو بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہیے کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں انسانی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ عالمی قوانین کے مطابق بھی بھارتی حکام پاکستانی قیدیوں کے ساتھ اس ظالمانہ سلوک کو روا نہیں رکھ سکتے۔ بھارتی حکام کی جانب سے پاکستانی قیدیوں پر انسانیت سوز مظالم پاکستانی حکومت کی بے حسی اور کمزوری پر دلالت کرتی ہے۔ بھارتی عدالتیں بھی پاکستانی قیدیوں کا تحفظ کرنے میں جانب داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اگر بھارتی عدالتیں ہی پاکستانی قیدیوں کے حقوق کا تحفظ کرتیں تو بھارتی جیل حکام کو کبھی ان قیدیوں پر اتنا تشدد کرنے کی جرات نہ ہوتی۔

بھارتی حکومت کا یہ شروع سے وتیرہ رہا ہے کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی ایشو چھیڑ دیتی اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر دیتی ہے۔ پہلے اس نے ممبئی حملے کا ڈرامہ رچایا اور اس کا الزام پاکستان پر دھرتے ہوئے اس کے خلاف عالمی سطح پر مہم چلا دی' اب اس نے نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر حکومت پاکستان کی اشیر باد سے بھارت مخالف ریلیوں کا انعقاد کر کے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حکومت پاکستان کو بھارت کی اس سازش کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ مولانا مسعود اظہر کی آڑ میں بھارتی حکومت آنے والے دنوں میں پاکستان کے خلاف نئی مہم شروع کر سکتی ہے۔ دوسری جانب اس امر کا بھی امکان ہے کہ افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے کشمیر میں داخل ہونے کا شوشہ چھوڑ کر بھارتی حکومت پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی مذموم کوشش کر سکتی ہے۔ پاکستانی پالیسی سازوں کو ابھی سے اس معاملے پر کوئی ٹھوس حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ ہر پاکستانی خواہ وہ اپنے وطن میں رہتا ہو یا بیرون ملک یا وہ غلطی سے سرحد پار کر کے دوسرے ملک میں پکڑا جاتا ہو' اس کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا حکومت پاکستان کی ذمے داری ہے اور اسے اپنی اس ذمے داری سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستانی حکومت بھارت سے مل کر کوئی مشترکہ کمیٹی تشکیل دے جو غلطی سے سرحد پار کرنے والے افراد کا تحفظ یقینی بنائے ورنہ یہ بے گناہ افراد اسی طرح سیکیورٹی اداروں کے تشدد کا نشانہ بن کر مرتے رہیں گے۔
Load Next Story