پوری قوم پاک فورسز کے ساتھ ہے
ملک بھر میں جاری امن و امان کی کشیدہ صورتحال اور فورسز کے جوانوں کی ہلاکت کے خلاف پاک فورسز سے اظہار...
پاکستان ایک آزاد اسلامی ریاست ہے، کسی ایک فرقہ، فقہہ، عقیدے یا مسلک کے ماننے والوں کی جاگیر نہیں۔ فوٹو: فائل
ملک بھر میں جاری امن و امان کی کشیدہ صورتحال اور فورسز کے جوانوں کی ہلاکت کے خلاف پاک فورسز سے اظہار یکجہتی کے لیے اتوار کو متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ریلی نکالی گئی، ریلی میں ایم کیو ایم کے علاوہ علمائے کرام، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، اے پی ایم ایل اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کا کہنا تھا کہ پوری قوم فوج کے ساتھ ہے، سیاسی جماعتیں اختلافات بھلا کر متحد ہوجائیں، اگر صحیح قدم نہیں اٹھایا گیا تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، امریکا نئے دوست تلاش کررہا ہے، پاکستان تنہائی کا شکار ہوچکا، سردجنگ کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے جوانوں کو ذبح کیا جارہا ہے۔ شاہراہ قائدین پر ایم کیو ایم کے تحت مسلح افواج، ایف سی، رینجرز اور پولیس سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ یکجہتی ریلی میں دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوںکو شرکت پر دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، کوئی اس کو مانے یا نہ مانے لیکن آج کی ریلی پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کی ریلی ہے اور اس میں صرف مسلح افواج شامل نہیں، اس میں رینجرز، ایف سی، لیویز اور پولیس کے مختلف شعبے بھی شامل ہیں، ہم آپس کے تمام تر اختلافات اور ناراضیوں کے باوجود ملک کی سلامتی اور ملک کے دفاع کے لیے ایک صف میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہیں۔ کراچی میں یہ ریلی جاری تھی کہ کوہاٹ میں پولیس لائن کے قریب سوزوکی اڈے میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں خاتون اور بچے سمیت 13 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوگئے۔
دھماکہ خیز مواد خالی کریٹ میں رکھا گیا تھا اور اسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا، دھماکے میں 5 کلو بارود استعمال کیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق دھماکے کی جگہ اپنی نوعیت کے اعتبارسے اہم ترین مقام تصورکی جاتی ہے جہاں ایک طرف گرلز کالج ہے تو قریب ہی کوہاٹ قلعہ واقع ہے، سیکیورٹی فورسز کے لیے سپلائی لائن اور گودام بھی اس چوک کے قریب واقع ہیں۔ ادھر مردان کے شہری علاقے چاٹوچوک میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کے قریبی ساتھی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اے این پی رہنما علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ عرس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے کہ دوپہر 2 بجے کے قریب ملزمان نے ان پر فائرنگ کردی۔ لیاری بدامنی کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ گزشتہ روز بھی گینگ وار تشدد سے 7 افراد جان بحق ہوگئے۔ انسانی اسمگلنگ میں پاکستان کو عالمی واچ لسٹ مین شامل کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا۔ سماج دشمن عناصر اور شرپسند اپنی تمام تر حشرسامانیوں کے ساتھ متحرک ہیں اور اس سلسلے میں کوئی دو رائے نہیں کہ امن و امان کے اس مسئلے پر متحدہ سمیت ملک بھر کے عوام ، جمہوری قوتیں ، اور وطن عزیز کا بچہ بچہ اپنی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
پاکستان ایک آزاد اسلامی ریاست ہے، کسی ایک فرقہ، فقہہ، عقیدے یا مسلک کے ماننے والوں کی جاگیر نہیں، پاکستان میں آباد سکھ، ہندو، عیسائی اور دیگر غیر مسلم بھی پاکستان کے مساوی شہری ہیں اور ان کا بھی پاکستان پر اتنا ہی حق ہے جتنا اس کے مسلم شہریوں کا۔ پاکستان کے غیرمسلم شہریوں کو اپنی عبادات قائم کرنے اور ان میں مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ عبادت کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا پاکستان کے مسلم شہریوں کو مساجد بنانے اور ان میں عبادت کرنے کاحق ہے۔ چنانچہ اسماعیلی اور کیلاش کمیونٹی کو دھمکیاں دینا ایک ناروا طرز عمل ہے۔ ریلی میں وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ریاست کی رٹ کو قائم کرنے کا راست مطالبہ بھی کیا گیا۔ پاک فوج نے قوم کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور آج اس نازک موقع پر پاکستانی قوم بھی اپنی افواج کے ساتھ ہے۔
دھماکہ خیز مواد خالی کریٹ میں رکھا گیا تھا اور اسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا، دھماکے میں 5 کلو بارود استعمال کیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق دھماکے کی جگہ اپنی نوعیت کے اعتبارسے اہم ترین مقام تصورکی جاتی ہے جہاں ایک طرف گرلز کالج ہے تو قریب ہی کوہاٹ قلعہ واقع ہے، سیکیورٹی فورسز کے لیے سپلائی لائن اور گودام بھی اس چوک کے قریب واقع ہیں۔ ادھر مردان کے شہری علاقے چاٹوچوک میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کے قریبی ساتھی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اے این پی رہنما علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ عرس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے کہ دوپہر 2 بجے کے قریب ملزمان نے ان پر فائرنگ کردی۔ لیاری بدامنی کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ گزشتہ روز بھی گینگ وار تشدد سے 7 افراد جان بحق ہوگئے۔ انسانی اسمگلنگ میں پاکستان کو عالمی واچ لسٹ مین شامل کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا۔ سماج دشمن عناصر اور شرپسند اپنی تمام تر حشرسامانیوں کے ساتھ متحرک ہیں اور اس سلسلے میں کوئی دو رائے نہیں کہ امن و امان کے اس مسئلے پر متحدہ سمیت ملک بھر کے عوام ، جمہوری قوتیں ، اور وطن عزیز کا بچہ بچہ اپنی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
پاکستان ایک آزاد اسلامی ریاست ہے، کسی ایک فرقہ، فقہہ، عقیدے یا مسلک کے ماننے والوں کی جاگیر نہیں، پاکستان میں آباد سکھ، ہندو، عیسائی اور دیگر غیر مسلم بھی پاکستان کے مساوی شہری ہیں اور ان کا بھی پاکستان پر اتنا ہی حق ہے جتنا اس کے مسلم شہریوں کا۔ پاکستان کے غیرمسلم شہریوں کو اپنی عبادات قائم کرنے اور ان میں مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ عبادت کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا پاکستان کے مسلم شہریوں کو مساجد بنانے اور ان میں عبادت کرنے کاحق ہے۔ چنانچہ اسماعیلی اور کیلاش کمیونٹی کو دھمکیاں دینا ایک ناروا طرز عمل ہے۔ ریلی میں وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ریاست کی رٹ کو قائم کرنے کا راست مطالبہ بھی کیا گیا۔ پاک فوج نے قوم کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور آج اس نازک موقع پر پاکستانی قوم بھی اپنی افواج کے ساتھ ہے۔