اغوا اور قتل میں ملوث3مجرموں کو پھانسی کا حکم
شجاعت، شہزاداور فرحان نے4 اگست 2010 میں تاجر نوازکو اغوا کیا،19لاکھ وصول کیے
مجرموں کی منقولہ و غیرمنقولہ جائیدادبھی ضبط کرنے کا حکم،مقتول کی بیوہ اورمدعی نے مجسٹریٹ کے روبرو تینوں کو شناخت کیا تھا،ملزمان ٹاور سے گرفتار ہوئے تھے فوٹو: فائل
دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اغوا برائے تاوان اور قتل میں ملوث 3مجرموں کو پھانسی کی سزا سنادی، مجرموں نے4 اگست 2010 میں تاجر نوازکو اغوا کرکے 19لاکھ روپے وصول کیے، مزید رقم نہ ملنے پر قتل کردیا۔
تاجر کی لاش جیکسن تھانے کی حدود سے ملی تھی، عدالت نے مجرموں کی منقولہ و غیرمنقولہ جائیدادبھی ضبط کرنے کا حکم دیاہے،مقتول کی بیوہ اورمدعی مقدمہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو تینوں اغوا کاروں کو شناخت کیا تھا، تفصیلات کے مطابق پیر کوجیل حکام نے اغوا اور قتل میں ملوث شجاعت علی عرف شاہ جی ، شہزاد میمن اور فرحان کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر4کے روبرو پیش کیا ، سماعت کے موقع پر فاضل عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تینوں مجرموں کو موت کی سزا سناکر ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے، استغاثہ کے مطابق مجرموں نے4 اگست2010 کو ایئرپورٹ کے علاقے سے تاجر مقتول محمد نواز کو اغوا کیا تھا اوران کے اہل خانہ سے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا ۔
مجرموں نے 28 اگست کو مقتول کی بیوہ اور مدعی مقدمہ محمد یار سے ساڑھے 19لاکھ روپے تاوان وصول کیااور مزید رقم نہ ملنے پر31 اگست کو مغوی کو قتل کرکے لاش کیماڑی کے علاقے میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے، لاش تھانہ جیکسن کو ملی جسے مغوی کے اہل خانہ نے مغوی محمد نواز کو شناخت کیا ،17دسمبر 2010کو ٹاور کے قریب سے پولیس نے مجرموں کوگرفتارکیا تھا، مقتول کی بیوہ اورمدعی مقدمہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو تینوںمجرموں کو شناخت کیا اوردوران سماعت اپنے بیان میں بتایاکہ ان ہی مجرموں نے ان سے تاوان وصول کیا تھا ،میڈیکل رپورٹ اور دیگرگواہوں کے بیانات نے بھی استغاثہ کو جرم ثابت کرنے میں مدد دی ، ملزمان کے خلاف تھانہ ائیر پورٹ میں مقدمہ درج تھا۔
تاجر کی لاش جیکسن تھانے کی حدود سے ملی تھی، عدالت نے مجرموں کی منقولہ و غیرمنقولہ جائیدادبھی ضبط کرنے کا حکم دیاہے،مقتول کی بیوہ اورمدعی مقدمہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو تینوں اغوا کاروں کو شناخت کیا تھا، تفصیلات کے مطابق پیر کوجیل حکام نے اغوا اور قتل میں ملوث شجاعت علی عرف شاہ جی ، شہزاد میمن اور فرحان کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر4کے روبرو پیش کیا ، سماعت کے موقع پر فاضل عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تینوں مجرموں کو موت کی سزا سناکر ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے، استغاثہ کے مطابق مجرموں نے4 اگست2010 کو ایئرپورٹ کے علاقے سے تاجر مقتول محمد نواز کو اغوا کیا تھا اوران کے اہل خانہ سے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا ۔
مجرموں نے 28 اگست کو مقتول کی بیوہ اور مدعی مقدمہ محمد یار سے ساڑھے 19لاکھ روپے تاوان وصول کیااور مزید رقم نہ ملنے پر31 اگست کو مغوی کو قتل کرکے لاش کیماڑی کے علاقے میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے، لاش تھانہ جیکسن کو ملی جسے مغوی کے اہل خانہ نے مغوی محمد نواز کو شناخت کیا ،17دسمبر 2010کو ٹاور کے قریب سے پولیس نے مجرموں کوگرفتارکیا تھا، مقتول کی بیوہ اورمدعی مقدمہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو تینوںمجرموں کو شناخت کیا اوردوران سماعت اپنے بیان میں بتایاکہ ان ہی مجرموں نے ان سے تاوان وصول کیا تھا ،میڈیکل رپورٹ اور دیگرگواہوں کے بیانات نے بھی استغاثہ کو جرم ثابت کرنے میں مدد دی ، ملزمان کے خلاف تھانہ ائیر پورٹ میں مقدمہ درج تھا۔