شام میں اسامہ بن لادن کا دست راست ابو خالد خودکش حملے میں مارا گیا
حلب میں داعش کےجنگجونےدھماکاکیا،5دیگر افراد بھی ہلاک، ابوخالد سعودی عرب کو مطلوب تھا، القاعدہ کمانڈر عبدالمحسن کا ٹویٹ
امداد کیلیے تعاون کوتیار ہیں، شامی وزارت خارجہ،خانہ جنگی سے 65 لاکھ افراد بے گھر25لاکھ مہاجرہو چکے،اقوام متحدہ ۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
شام کے شہرحلب میں ایک خودکش حملے میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سینئرکمانڈر ابو خالد السوری سمیت متعددافراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
القاعدہ کے ایک رکن عبدالمحسن الشارخ نے ٹویٹرپر ایک بیان میں ابو خالدکی ایک خودکش حملے میں ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ القاعدہ رکن ابوخالد کوعراق اورشام میں دولتِ اسلامیہ فی العراق والشام(آئی ایس آئی ایس) داعش کے ایک جنگجونے شام کے شہرحلب میں احرارالشام کے ہیڈکوارٹرز میں گھس کر ایک خودکش دھماکے میں ہلاک کیا۔ حملے میں دیگر 5افراد بھی مارے گئے تاہم داعش کی جانب سے اس کارروائی کی ذمے داری قبول نہیں کی گئی۔ عبدالمحسن الشارخ نے کہاکہ القاعدہ کے مقتول کمانڈرابو خالدالسوری کانام 2009میں سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے اشتہاری قراردیے گئے 85عسکریت پسندوں کی فہرست میں بھی شامل تھا۔ خالدالسوری کا اصل نام محمدبہیہ بیان کیاجاتا ہے۔
وہ القاعدہ کے سرکردہ جنگجواور ایمن الظواہری کے شام میںمرکزی نمائندے تھے۔ اطلاعات کے مطابق خالدالسوری افغانستان اورعراق میں امریکا کیخلاف لڑے اورانھوں نے اسامہ بن لادن کے بہت قریب وقت گزارا۔ بی بی سی کے مطابق خالدالسوری آئی ایس آئی ایس کے مخالف ہوگئے تھے۔ انکی موت سے آئی ایس آئی ایس اور دیگرشدت پسندگروپوں کے درمیان کشیدگی مزیدبڑھ جائے گی۔ اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق شام میں جاری کشیدگی کی وجہ سے اب تک تقریباً 65 لاکھ افرادبے گھرہو چکے ہیں جبکہ 25لاکھ افرادکا مہاجرین کے طورپر اندراج کیاگیا ہے۔ سب سے زیادہ مہاجرین لبنان گئے ہیں جبکہ مہاجرین کوپناہ دینے والے ممالک میں اردن دوسرے اورترکی تیسرے نمبرپر ہے۔ دریں اثنا شام کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی ایک غیرمعمولی قرارداد پرتعاون کیلیے تیار ہے جسکے تحت انسانی ہمدردی کی بنیادپر رسائی دینے کی اجازت کامطالبہ کیاگیا ہے تاہم ریاست کی سالمیت کااحترام یقینی بنانا ہوگا۔
شام کے شہرحلب میں ایک خودکش حملے میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سینئرکمانڈر ابو خالد السوری سمیت متعددافراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
القاعدہ کے ایک رکن عبدالمحسن الشارخ نے ٹویٹرپر ایک بیان میں ابو خالدکی ایک خودکش حملے میں ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ القاعدہ رکن ابوخالد کوعراق اورشام میں دولتِ اسلامیہ فی العراق والشام(آئی ایس آئی ایس) داعش کے ایک جنگجونے شام کے شہرحلب میں احرارالشام کے ہیڈکوارٹرز میں گھس کر ایک خودکش دھماکے میں ہلاک کیا۔ حملے میں دیگر 5افراد بھی مارے گئے تاہم داعش کی جانب سے اس کارروائی کی ذمے داری قبول نہیں کی گئی۔ عبدالمحسن الشارخ نے کہاکہ القاعدہ کے مقتول کمانڈرابو خالدالسوری کانام 2009میں سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے اشتہاری قراردیے گئے 85عسکریت پسندوں کی فہرست میں بھی شامل تھا۔ خالدالسوری کا اصل نام محمدبہیہ بیان کیاجاتا ہے۔
وہ القاعدہ کے سرکردہ جنگجواور ایمن الظواہری کے شام میںمرکزی نمائندے تھے۔ اطلاعات کے مطابق خالدالسوری افغانستان اورعراق میں امریکا کیخلاف لڑے اورانھوں نے اسامہ بن لادن کے بہت قریب وقت گزارا۔ بی بی سی کے مطابق خالدالسوری آئی ایس آئی ایس کے مخالف ہوگئے تھے۔ انکی موت سے آئی ایس آئی ایس اور دیگرشدت پسندگروپوں کے درمیان کشیدگی مزیدبڑھ جائے گی۔ اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق شام میں جاری کشیدگی کی وجہ سے اب تک تقریباً 65 لاکھ افرادبے گھرہو چکے ہیں جبکہ 25لاکھ افرادکا مہاجرین کے طورپر اندراج کیاگیا ہے۔ سب سے زیادہ مہاجرین لبنان گئے ہیں جبکہ مہاجرین کوپناہ دینے والے ممالک میں اردن دوسرے اورترکی تیسرے نمبرپر ہے۔ دریں اثنا شام کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی ایک غیرمعمولی قرارداد پرتعاون کیلیے تیار ہے جسکے تحت انسانی ہمدردی کی بنیادپر رسائی دینے کی اجازت کامطالبہ کیاگیا ہے تاہم ریاست کی سالمیت کااحترام یقینی بنانا ہوگا۔