پاک افغان اقتصادی کمیشن اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ
اگر افغانستان میں امن قائم ہو جاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے...
اگر افغانستان میں امن قائم ہو جاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ فوٹو: اے پی پی /فائل
پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کا 9 واں اجلاس پیر کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ اجلاس کے اختتام کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیے میں دونوں ملکوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی اقتصادی تعاون بڑھانے اور خطے میں امن واستحکام کے حصول کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں نے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان بجلی کی ترسیل اور تجارت کے پراجیکٹ (کاسا) 1000 اور ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار اور عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا۔
دونوں ملکوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان اہم منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ دونوں ممالک کے وفود نے اتفاق کیا کہ کنڑ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر مل کر کام کیا جائے اور اس سلسلے میں دوطرفہ تعاون کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے۔ فریقین نے رضا مندی ظاہر کی کہ افغانستان، پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے حوالے سے کابل نے جو معاملات اٹھائے ہیں ان پر پاکستان غور کرے گا، اس معاملے پر مارچ کے اواخر میں کسٹمز ماہرین کی ملاقات میں غور کیا جائے گا۔ پاکستانی وفد نے افغانستان میں شروع کردہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے اور اس سلسلے میں مالی تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا ، پاکستانی وفد نے افغان حکام کے ساتھ دہرے ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدے کے نئے مسودے پر بھی بات کی، اس کے علاوہ دونوں ممالک کے مابین توانائی کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیاگیا۔ پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے باہمی تجارت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی ٹرانزٹ ٹریڈ کو تاجکستان تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔
پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ اس اعتبار سے خوش آیند ہے اور حوصلہ افزا ہے کہ اس سے دونوں برادر اور ہمسایہ ملکوں کے اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں ایک دوسرے سے مل کر ترقی کی راہ پر سفر کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کا محل وقوع ایسا ہے کہ دونوں ملک چاہیں تو راہداری کے عوض ہی اربوں ڈالر سالانہ کما سکتے ہیں جس سے عوامی فلاح کے کئی منصوبے مکمل کیے جاسکتے ہیں۔ کابل میں ہونے والے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان بجلی کی ترسیل اور تجارت کے پراجیکٹ' ترکمانستان' افغانستان' پاکستان' بھارت گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اس پر عملدرآمد کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے' یہ انتہائی اہم منصوبے ہیں۔ اگر یہ مکمل ہو جاتے ہیں تو اس سے پورے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی آ جائے گی۔
افغانستان کی ایک اہمیت یہ ہے کہ یہ وسط ایشیا میں تجارت کا پہلا دروازہ ہے' خصوصاً جنوبی ایشیاء کے ممالک پاکستان اور افغانستان سے گزرے بغیر وسط ایشیا تک نہیں پہنچ سکتے۔بھارت سے برما تک کے تاجروں کو وسط ایشیائی ریاستوں تک جانے کے لیے پاکستان اور افغانستان سے گزرنا لازمی ہے' اگر اس خطے میں امن قائم ہو جائے اور یہ خطہ ایک اقتصادی بلاک کی صورت اختیار کر جائے تو قازقستان سے برما تک کا سارا خطہ تعمیر و ترقی کے نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔ وسط ایشیا کو جنوبی ایشیا کے علاوہ بحر ہند تک پہنچنے کے لیے بھی آسان ترین راستہ پاکستان ہی ہے۔ گو وسط ایشیا کی ریاستیں ایران کے ذریعے بھی بحر ہند تک پہنچ سکتی ہیں لیکن افغانستان' تاجکستان' کرغیزیہ اور قازقستان تک کے علاقے کے لیے پاکستان کی راہ داری زیادہ بہتر ہے۔ یوں اس سارے منظرنامے میں افغانستان اور پاکستان سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ممالک ہیں۔ اس وقت بہت سے معاملات پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات موجود ہیں' افغانستان کا ایک بڑا مسئلہ وہاں امن و امان کے معاملات ہیں' اس ملک میں غیر ملکی افواج بھی موجود ہیں اور ان افواج کے خلاف طالبان مزاحمت کر رہے ہیں' ادھر پاکستان کے قبائلی علاقے بھی اس صورت حال سے بے حد متاثر ہوتے ہیں' قبائلی علاقوں اور افغانستان کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہو رہے ہیں۔
لہٰذا پاکستان میں بھی امن و امان کا قیام بہت ضروری ہے۔ پاکستان افغانستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ملک ہے لیکن یہاں اقتصادی سرگرمیاں اس لیے ماند پڑی ہوئی ہیں کہ امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہے' اگر افغانستان میں امن قائم ہو جاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ یہ ایک منطقی بات ہے کہ اگر ترکمانستان سے گیس لائن نے بھارت تک جانا ہے تو یہ کام اسی صورت مکمل ہو سکتا ہے جب افغانستان اور پاکستان میں امن قائم ہو جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے اختلافی معاملات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے طے کر لیں' ابھی دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے ایسے معاملات موجود ہیں جو حالات کی بہتری میں رکاوٹ ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کے آر پار جو مسائل موجود ہیں' دونوں ملکوں کی قیادت کو انھیں حل کرنا چاہیے۔ اس سرحد پر جو غیر قانونی آمدورفت ہوتی ہے اور اس کے ذریعے جو غیر قانونی تجارت ہو رہی ہے' اسے روکا جانا چاہیے اور جو کچھ بھی ہو' وہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستانیوں کو باقاعدہ ویزا لے کر افغانستان جانا چاہیے اور اس طرح افغانستان کے لوگوں کو بھی ویزا لے پاکستان آنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ڈیورنڈ لائن پر چیک اینڈ بیلنس قائم ہونا چاہیے۔ امید ہے کہ دونوں ملک اس جانب نتیجہ خیز اقدامات کریں گے۔
دونوں ملکوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان اہم منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ دونوں ممالک کے وفود نے اتفاق کیا کہ کنڑ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر مل کر کام کیا جائے اور اس سلسلے میں دوطرفہ تعاون کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے۔ فریقین نے رضا مندی ظاہر کی کہ افغانستان، پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے حوالے سے کابل نے جو معاملات اٹھائے ہیں ان پر پاکستان غور کرے گا، اس معاملے پر مارچ کے اواخر میں کسٹمز ماہرین کی ملاقات میں غور کیا جائے گا۔ پاکستانی وفد نے افغانستان میں شروع کردہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے اور اس سلسلے میں مالی تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا ، پاکستانی وفد نے افغان حکام کے ساتھ دہرے ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدے کے نئے مسودے پر بھی بات کی، اس کے علاوہ دونوں ممالک کے مابین توانائی کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیاگیا۔ پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے باہمی تجارت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی ٹرانزٹ ٹریڈ کو تاجکستان تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔
پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ اس اعتبار سے خوش آیند ہے اور حوصلہ افزا ہے کہ اس سے دونوں برادر اور ہمسایہ ملکوں کے اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں ایک دوسرے سے مل کر ترقی کی راہ پر سفر کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کا محل وقوع ایسا ہے کہ دونوں ملک چاہیں تو راہداری کے عوض ہی اربوں ڈالر سالانہ کما سکتے ہیں جس سے عوامی فلاح کے کئی منصوبے مکمل کیے جاسکتے ہیں۔ کابل میں ہونے والے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان بجلی کی ترسیل اور تجارت کے پراجیکٹ' ترکمانستان' افغانستان' پاکستان' بھارت گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اس پر عملدرآمد کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے' یہ انتہائی اہم منصوبے ہیں۔ اگر یہ مکمل ہو جاتے ہیں تو اس سے پورے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی آ جائے گی۔
افغانستان کی ایک اہمیت یہ ہے کہ یہ وسط ایشیا میں تجارت کا پہلا دروازہ ہے' خصوصاً جنوبی ایشیاء کے ممالک پاکستان اور افغانستان سے گزرے بغیر وسط ایشیا تک نہیں پہنچ سکتے۔بھارت سے برما تک کے تاجروں کو وسط ایشیائی ریاستوں تک جانے کے لیے پاکستان اور افغانستان سے گزرنا لازمی ہے' اگر اس خطے میں امن قائم ہو جائے اور یہ خطہ ایک اقتصادی بلاک کی صورت اختیار کر جائے تو قازقستان سے برما تک کا سارا خطہ تعمیر و ترقی کے نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔ وسط ایشیا کو جنوبی ایشیا کے علاوہ بحر ہند تک پہنچنے کے لیے بھی آسان ترین راستہ پاکستان ہی ہے۔ گو وسط ایشیا کی ریاستیں ایران کے ذریعے بھی بحر ہند تک پہنچ سکتی ہیں لیکن افغانستان' تاجکستان' کرغیزیہ اور قازقستان تک کے علاقے کے لیے پاکستان کی راہ داری زیادہ بہتر ہے۔ یوں اس سارے منظرنامے میں افغانستان اور پاکستان سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ممالک ہیں۔ اس وقت بہت سے معاملات پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات موجود ہیں' افغانستان کا ایک بڑا مسئلہ وہاں امن و امان کے معاملات ہیں' اس ملک میں غیر ملکی افواج بھی موجود ہیں اور ان افواج کے خلاف طالبان مزاحمت کر رہے ہیں' ادھر پاکستان کے قبائلی علاقے بھی اس صورت حال سے بے حد متاثر ہوتے ہیں' قبائلی علاقوں اور افغانستان کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہو رہے ہیں۔
لہٰذا پاکستان میں بھی امن و امان کا قیام بہت ضروری ہے۔ پاکستان افغانستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ملک ہے لیکن یہاں اقتصادی سرگرمیاں اس لیے ماند پڑی ہوئی ہیں کہ امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہے' اگر افغانستان میں امن قائم ہو جاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ یہ ایک منطقی بات ہے کہ اگر ترکمانستان سے گیس لائن نے بھارت تک جانا ہے تو یہ کام اسی صورت مکمل ہو سکتا ہے جب افغانستان اور پاکستان میں امن قائم ہو جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے اختلافی معاملات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے طے کر لیں' ابھی دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے ایسے معاملات موجود ہیں جو حالات کی بہتری میں رکاوٹ ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کے آر پار جو مسائل موجود ہیں' دونوں ملکوں کی قیادت کو انھیں حل کرنا چاہیے۔ اس سرحد پر جو غیر قانونی آمدورفت ہوتی ہے اور اس کے ذریعے جو غیر قانونی تجارت ہو رہی ہے' اسے روکا جانا چاہیے اور جو کچھ بھی ہو' وہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستانیوں کو باقاعدہ ویزا لے کر افغانستان جانا چاہیے اور اس طرح افغانستان کے لوگوں کو بھی ویزا لے پاکستان آنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ڈیورنڈ لائن پر چیک اینڈ بیلنس قائم ہونا چاہیے۔ امید ہے کہ دونوں ملک اس جانب نتیجہ خیز اقدامات کریں گے۔