شام کا بحران اور مسلم ممالک

شام کی حمایت ایران کر رہا ہے لیکن سعودی عرب بشار الاسد کی شامی حکومت کے خلاف ہے...

شام کی حمایت ایران کر رہا ہے لیکن سعودی عرب بشار الاسد کی شامی حکومت کے خلاف ہے فوٹو: فائل

اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں شام کی خانہ جنگی کے بارے میں حکومت پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی پر احتجاج کیا ہے۔ اخباری رپورٹوں میں یہ کہا گیا ہے کہ حکومت کے پاس اس احتراز کا جواب دینے کے لیے کوئی تیاری نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی طالبان کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں حکومت کسی آیندہ اقدام کی کوئی وضاحت پیش کر سکی۔ یوں قومی اسمبلی کے موسم بہار کے اجلاس کے آغاز میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں صدائے احتجاج بلند ہوتے سنی گئی۔ اخباری اطلاع کے مطابق ایک وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ حکومت متذکرہ دونوں ایشوز پر قومی اسمبلی کو اعتماد میں لے گی اور یکطرفہ طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔

سینیٹ میں قائد ایوان کا کہنا تھا کہ شام کے بارے میں حکومتی پالیسی میں تبدیلی کی افواہیں بے بنیاد ہیں، یہ محض مخالفین کا پراپیگنڈہ ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کے دورۂ پاکستان کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا' اس میں بعض تجزیہ کاروں کو پاکستان کی عدم مداخلت کی روایتی پالیسی میں تبدیلی کا شائبہ محسوس ہوا تھا۔ مشترکہ اعلامیہ میں شام میں ایک عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نیز بعض میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے شامی باغیوں کے لیے بعض ہتھیار طلب کیے ہیں۔


اخباری اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنی خارجہ پالیسی میں ''اباؤٹ ٹرن'' لیا ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان کو شام میں کسی ایک فریق کی طرفداری کرنے کے بجائے وہاں قیام امن کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر شام میں ہتھیار پہنچائے گئے تو وہ القاعدہ جنگجوؤں کے ہاتھ لگ جائیں گے جو شامی صدر بشار الاسد کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی حکومت پر ''اباوٹ ٹرن'' الزام لگایا۔ شام میں خانہ جنگی کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے اور اس دوران ایک لاکھ سے زیادہ شامی باشندے عورتوں بچوں سمیت لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ کئی لاکھ بے گھر ہو کر دیگر پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ شام کی حمایت ایران کر رہا ہے لیکن سعودی عرب بشار الاسد کی شامی حکومت کے خلاف ہے۔

ان حالات کا تقاضا یہ ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان مل کر شام کے حالات بہتر بنانے کے لیے مصالحت کنندہ کا اعلیٰ کردار ادا کریں تا کہ مسلمانوں کا خون ناحق بہنا بند ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی بشار الاسد پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے وطن کی سالمیت اور عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جراتمندانہ اقدامات کریں' اگر شامی حکومت ہٹ دھرمی پر قائم رہی تو حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے' عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں' وہ شام کے بحران سے اپنے مفادات پورے کر رہی ہیں' عراق اور لیبیا کی تازہ ترین تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ ان ممالک میں حکمرانوں نے زمینی حقائق کو نظر انداز کیا اور اپنی ضد پر اڑے رہے۔ اس کا نتیجہ صدام حسین اور معمر القذافی کی درد ناک موت کی صورت میں سامنے آئے گا' اس کا نقصان عراق اور لیبیا کے عوام کو ہوا اور دونوں ملکوں میں بے پناہ تباہی ہوئی۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلم ممالک شام کے بحران کے خاتمے کے لیے آگے بڑھیں۔
Load Next Story