بندرگاہوں پر پھنسی گاڑیاں چھڑانے کیلیے30 فیصد سر چارج کی پیشکش

ممبر کسٹمز اور چیئرمین ایف بی آر سے بھی رابطہ کرینگے، مسئلہ حل نہ ہونے پر احتجاج کیا جائے گا، متاثرین

ری کنڈیشنڈ کار امپورٹرز کا کراچی چیمبر سے رجوع، چیف کلکٹر، ممبر کسٹمز اور چیئرمین ایف بی آر سے بھی رابطہ کرینگے، مسئلہ حل نہ ہونے پر احتجاج کیا جائے گا، متاثرین۔ فوٹو فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایس آراوکلچر اور عدم تسلسل پر مبنی پالیسی نے 1ارب روپے سے زائد مالیت کی ریونیو وصولی اور رائج پالیسی کے مطابق ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی کاروباری سرگرمیوں کو منجمد کردیا ہے۔

کراچی کی بندرگاہوں پر کھڑی2500 سے زائد روکی گئی ری کنڈیشنڈ کاروں کے متاثرہ درآمدکنندگان نے ایف بی آر کی جانب سے یک جنبش قلم راتوں رات پالیسیاں تبدیل کرنے کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاج کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے، متاثرہ درآمدکنندگان کی تنظیم ری کنڈیشنڈ کارامپورٹرز ایکشن کمیٹی نے ابتدائی طور پر کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر عبداللہ ذکی سے رابطہ کرتے ہوئے کراچی چیمبر کے پلیٹ فارم سے مسائل حل کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد وہ چیف کلکٹرکسٹمز ناصرمسرور اوربعد ازاں ممبرکسٹمزایف بی آرنثارمحمد خان اور چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ سے رابطہ کریں گے جبکہ آخری مرحلے میں ملک گیر سطح پراحتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔


ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں فرخ جبار، محمد ظفر، حسن اقبال، حاجی عبدالصمد،عابد ہارون اور وسیم غفار نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ انہوں نے وزارت تجارت کے 25 فروری 2013 کے آفس میمورنڈم کے تحت ری کنڈیشنڈ کاریں ملک میں درآمد کیں لیکن کاروں کا کنسائنمنٹ پاکستان پہنچا تو محکمہ کسٹمز کراچی کے ایسٹ کلکٹریٹ نے نومبر2013 کے دوران 500 سے زائد گاڑیاں مذکورہ آفس میمورنڈم کے تحت ریلیز کردیں لیکن کراچی ویسٹ کلکٹریٹ کے حکام نے ایف آئی اے سے پاسپورٹ کی تصدیق کے نام پر تمام کنسائنمنٹس روک دیں جس کے بعد امپورٹرز کی بڑھتی ہوئی شکایات پر اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کی بندرگاہوں پر روکی گئی ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کو ون ٹائم 20 فیصد اضافی سرچارج کے ساتھ کلیئرنس دیدی جائے۔

متاثرہ درآمدکنندگان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر حکام نے وفاقی وزیرخزانہ کے فیصلے کے برعکس درآمدی گاڑیوں کی ویلیوکا 20 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کے بجائے84 فیصد ڈیوٹی وٹیکسز عائد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے نتیجے میں پاکستان میں درآمدی کاروں کی لاگت یکدم42 سے48 فیصد بڑھ گئی ہے اور مقامی مارکیٹ میں ان کی قیمتیں دگنی ہو گئیں۔ ری کنڈیشنڈ کارامپورٹرز ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک میں رائج پالیسی کے عین مطابق کاریں درآمد ہونے سے نہ صرف پاکستانی صارفین کو کم قیمت پر بہترین کوالٹی کی کاریں دستیاب ہورہی ہیں بلکہ مقامی اسمبلروں کی اجارہ داری کا خاتمہ اور نئی گاڑیوں کی بکنگ پر غیرقانونی اون منی کی وصولیاں بھی ختم ہوگئی ہیں۔

ری کنڈیشنڈ کاروں کی درآمد سے مقامی اسمبلرز نت نئے ماڈلز بھی متعارف کرانے پر مجبور ہوگئے ہیں اوربکنگ کے نام پر 6، 6 ماہ قبل وصولیوں کی پالیسی بھی ترک کردی تھی، اس طرح مقامی آٹوموبائل مارکیٹ میں ایک صحت مند مسابقت کا رحجان پیدا ہوگیا ہے۔ متاثرہ کارامپورٹرز نے وفاقی وزیرخزانہ اور چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کراچی کی بندرگاہوں پر روکی گئی کاروں پر 20 فیصد کے بجائے 30 فیصد یکمشت سرچارج عائد کرے تاکہ ان کنسائنمنٹس میں سیکڑوں درآمدکنندگان کے پھنسے ہوئے اربوں روپے مالیت کا سرمایہ بچ سکے اور ایف بی آر کو بھی 1ارب روپے سے زائد مالیت کا ریونیو حاصل ہو سکے بصورت دیگر ملک گیر سطح پر احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
Load Next Story