حصص مارکیٹ پھر مندی کا شکار214 پوائنٹس کی کمی
غیرملکی سرمائے کا انخلا، انڈیکس 25 ہزار59 پربند ہوا، 367 میں سے 262 کمپنیوں کی قیمتیں گرگئیں
سرمایہ کاروں کو 55 ارب 31 کروڑ روپے کا نقصان، کاروباری حجم 20 فیصد کم ہوگیا۔ فوٹو: آن لائن/فائل
ملک میں جاری امن و امان، معاشی وسیاسی صورتحال کے تناظر میں سرمایہ کاروں کے محتاط طرز عمل اور تکنیکی درستگی کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو ایک بارپھر مندی کے اثرات غالب رہے۔
جس سے انڈیکس کی 25700 اور 25600 کی 2حدیں بیک وقت گرگئیں، 71.38 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 55 ارب31 کروڑ82 لاکھ52 ہزارروپے ڈوب گئے، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 28.70 پوائنٹس کے اضافے سے انڈیکس کی25800 کی حد بحال ہو گئی تھی لیکن غیریقینی صورتحال اور مختصرمدتی سرمایہ کاری ماحول کی وجہ سے مذکورہ حد زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور مارکیٹ مندی کے گرداب میں چلی گئی، ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر31 لاکھ19 ہزار50 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ غیرملکیوں کی جانب سے12 لاکھ 68 ہزار667 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے4 لاکھ 86 ہزار313 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 13 لاکھ64 ہزار70 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 214.20 پوائنٹس کی کمی سے 25559.76 ہو گیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 108.99 پوائنٹس کی کمی سے18645.76 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 88.20 پوائنٹس کی کمی سے 42502.08 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 20.02 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر22 کروڑ66 لاکھ 62 ہزار 20 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 367 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں83 کے بھاؤ میں اضافہ، 262 کے داموں میں کمی اور22 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں وائتھ پاکستان کے بھاؤ 130 روپے بڑھ کر 4794 روپے اور فضل ٹیکسٹائل کے بھاؤ 27 روپے بڑھ کر 582 روپے ہوگئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھاؤ 128 روپے کم ہوکر8869 روپے اور باٹا پاکستان کے بھاؤ 85 روپے کم ہوکر2890 روپے ہو گئے۔
جس سے انڈیکس کی 25700 اور 25600 کی 2حدیں بیک وقت گرگئیں، 71.38 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 55 ارب31 کروڑ82 لاکھ52 ہزارروپے ڈوب گئے، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 28.70 پوائنٹس کے اضافے سے انڈیکس کی25800 کی حد بحال ہو گئی تھی لیکن غیریقینی صورتحال اور مختصرمدتی سرمایہ کاری ماحول کی وجہ سے مذکورہ حد زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور مارکیٹ مندی کے گرداب میں چلی گئی، ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر31 لاکھ19 ہزار50 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ غیرملکیوں کی جانب سے12 لاکھ 68 ہزار667 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے4 لاکھ 86 ہزار313 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 13 لاکھ64 ہزار70 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 214.20 پوائنٹس کی کمی سے 25559.76 ہو گیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 108.99 پوائنٹس کی کمی سے18645.76 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 88.20 پوائنٹس کی کمی سے 42502.08 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 20.02 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر22 کروڑ66 لاکھ 62 ہزار 20 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 367 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں83 کے بھاؤ میں اضافہ، 262 کے داموں میں کمی اور22 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں وائتھ پاکستان کے بھاؤ 130 روپے بڑھ کر 4794 روپے اور فضل ٹیکسٹائل کے بھاؤ 27 روپے بڑھ کر 582 روپے ہوگئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھاؤ 128 روپے کم ہوکر8869 روپے اور باٹا پاکستان کے بھاؤ 85 روپے کم ہوکر2890 روپے ہو گئے۔