روایتی بینکاری لائسنس کا اجرا روک دیاڈپٹی گورنرایس بی پی

اسلامی انٹربینک مارکیٹ کیلیے 2 ماڈلز زیر غور ہیں، ڈائریکٹر اسلامی بینکنگ ڈپارٹمنٹ

صحافیوں کیلیے ورکشاپ میں شرعی ایڈوائزرزنے اسلامی بینکاری کی آگہی فراہم کی ۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سعید احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اسلامی مالیاتی نظام کے فروغ کے لیے بھرپور اور متحرک کردار ادا کررہا ہے۔

میڈیا کے لیے تربیتی ورکشاپ بھی اسی مہم کا حصہ ہے، 2007-08 کے بین الاقوامی مالیاتی بحران کے بعد اسلامی بینکاری کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت صحافیوں کے لیے اسلامی بینکاری سے متعلق دو روزہ تربیتی ورکشاپ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شعبہ بینکاری کا شیئر 12فیصد تک پہنچ چکا ہے، ملک بھر کے 90 اضلاع میں 1300برانچیں اسلامی بینکاری کی سہولت فراہم کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے روایتی بینکاری کے لیے لائسنس کا اجرا روک دیا ہے البتہ روایتی بینکوں کی اسلامی بینکنگ کی طرف منتقلی کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملک میں مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے کوشاں ہے، ملک کے ہر طبقے کو مالیاتی خدمات کی فراہمی میں اسلامی بینکاری، مائیکروفنانس اور برانچ لیس بینکاری اہمیت کی حامل ہے۔


ورکشاپ کے افتتاحی اور اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے ڈائریکٹر اسلامی بینکنگ ڈپارٹمنٹ سلیم اﷲ نے کہا کہ اسلامی بینکوں کے لیے انٹربینک منی مارکیٹ کے قیام کے لیے 2ماڈلز زیر غور ہیں جس کی روشنی میں سفارشات جلد ہی اسٹیٹ بینک کے بورڈ کے سامنے پیش کی جائیں گی، اسی طرح اسلامی بینکوں کے ریئل سیکٹر میں سرگرمی کے لیے بھی اسسمنٹ کی جائے گی اور اسسمنٹ میں مثبت نتائج آنے پر اسلامی بینکوں کے لیے ریئل سیکٹر کو بھی کھولا جائے گا۔

تربیتی ورکشاپ کا افتتاح ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سعید احمد نے کیا، اسٹیٹ بینک کے اسلامک بینکنگ ڈپارٹمٹ کے سربراہ سلیم اﷲ، بینک اسلامی پاکستان کے شرعی ایڈوائزر مفتی ارشاد احمد اعجاز، سمٹ بینک کے مفتی احمد نجیب خان، حبیب بینک کے فیضان احمد میمن، مفتی خلیل احمد اعظمی، فرحان عثمانی، فیصل شیخ اور حسن بلگرامی نے مختلف سیشنز میں شرکا کو اسلامی بینکاری کے بنیادی فریم ورک، اسٹیٹ بینک کی ریگولیشنز، اسلامی بینکاری پراڈکٹس سے آگہی فراہم کی۔ اسلامی بینکاری کے ماہرین نے بتایا کہ ملک میں اسلامی بینکاری کے فروغ کے ساتھ حلال کاروبار اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے، بیک وقت اسلامی اور روایتی بینکاری کی خدمات فراہم کرنے والے بینکوں میں ٹریژری الگ الگ ہوتی ہے اس طرح اسلامی ڈپازٹس کا انتظام غیراسلامی ڈپازٹ سے الگ کیا جاتا ہے۔شرعی ایڈوائزرز نے کہا کہ اسلامی بینکاری کے ساتھ جلد ہی ٹریڈنگ کمپنیاں اور ٹریڈنگ سبسڈریز بھی وجود میں آئیں گی جس سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو گا۔
Load Next Story