پاکستان نے فتح کا سنہری موقع گنوا دیا راشد لطیف
عمر اکمل تھکاوٹ کا شکار نظر آئے، وکٹ کیپنگ اضافی بوجھ محسوس ہونے لگی
ٹیل اینڈرز نے بھی سمجھداری کے بجائے جلد بازی کا مظاہرہ کیا، سابق کپتان۔ فوٹو: فائل
سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان نے جلد بازی کا شکار ہو کر سری لنکا کو ہرانے کا سنہری موقع گنوا دیا۔
مصباح الحق یا عمر اکمل اننگز کے اختتام تک وکٹ پر رہتے تو کامیابی حاصل ہو سکتی تھی، نوجوان بیٹسمین تھکاوٹ کا شکار نظر آئے، وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری اضافی بوجھ محسوس ہونے لگی۔ تفصیلات کے مطابق راشد لطیف نے ''ایکسپریس نیوز'' سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایشیا کپ کے افتتاحی میچ میں پاکستان کے بیٹسمین جیت کے امکانات روشن کرنے کے بعد جلد بازی کا شکار ہو گئے، عمر اکمل وکٹ کیپنگ کی اضافی ذمہ داری کے سبب تھکاوٹ کا شکار نظر آئے، شائد اسی وجہ سے غیر محتاط انداز میں جارحانہ ا سٹروکس کھیلنے لگے تھے، بہتر ہو گا کہ انھیں بطور بیٹسمین ہی کھلایا جائے، مصباح الحق اننگز کے آخر تک وکٹ پرکھڑے رہتے تو شاید دیگر بیٹسمین بھی فتح کی منزل تک پہنچانے میں مددگار رہتے، ٹیل اینڈرز نے بھی سمجھداری کے بجائے جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔
راشد لطیف نے کہا کہ کوچ اور مینجمنٹ کو بنگلہ دیشی پچز سامنے رکھتے ہوئے پہلے ہی پلیئنگ الیون اور حکمت عملی طے کر لینی چاہیے تھی، تھریمانے اور سنگاکارا نے وکٹ پر قیام کرتے ہوئے دیگر کا کام بھی آسان بنایا، ہمارے اوپنرز اور ٹاپ آرڈرز میں سے کوئی ایک بھی ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا تو آخر میں دبائو کم ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ سری لنکا کے پاس مالنگا کی صورت میں ایک ہی تجربہ کار بولر تھا، اس کا بھی انجیلو میتھیوز نے بھرپور فائدہ اٹھایا، پہلے سے زیادہ فٹ اور فارم میں نظر آنے والے پیسر نے ٹیم کی توقعات کے مطابق پرفارم کیا،راشد لطیف نے کہا کہ سعید اجمل کی سال میں سب سے زیادہ وکٹوں سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق پرفارم کرکے کتنے میچ جتواتے ہیں، 40 یا 50 رنز دے کر ایک وکٹ تو پارٹ ٹائم اسپنر بھی لے سکتا ہے۔
مصباح الحق یا عمر اکمل اننگز کے اختتام تک وکٹ پر رہتے تو کامیابی حاصل ہو سکتی تھی، نوجوان بیٹسمین تھکاوٹ کا شکار نظر آئے، وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری اضافی بوجھ محسوس ہونے لگی۔ تفصیلات کے مطابق راشد لطیف نے ''ایکسپریس نیوز'' سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایشیا کپ کے افتتاحی میچ میں پاکستان کے بیٹسمین جیت کے امکانات روشن کرنے کے بعد جلد بازی کا شکار ہو گئے، عمر اکمل وکٹ کیپنگ کی اضافی ذمہ داری کے سبب تھکاوٹ کا شکار نظر آئے، شائد اسی وجہ سے غیر محتاط انداز میں جارحانہ ا سٹروکس کھیلنے لگے تھے، بہتر ہو گا کہ انھیں بطور بیٹسمین ہی کھلایا جائے، مصباح الحق اننگز کے آخر تک وکٹ پرکھڑے رہتے تو شاید دیگر بیٹسمین بھی فتح کی منزل تک پہنچانے میں مددگار رہتے، ٹیل اینڈرز نے بھی سمجھداری کے بجائے جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔
راشد لطیف نے کہا کہ کوچ اور مینجمنٹ کو بنگلہ دیشی پچز سامنے رکھتے ہوئے پہلے ہی پلیئنگ الیون اور حکمت عملی طے کر لینی چاہیے تھی، تھریمانے اور سنگاکارا نے وکٹ پر قیام کرتے ہوئے دیگر کا کام بھی آسان بنایا، ہمارے اوپنرز اور ٹاپ آرڈرز میں سے کوئی ایک بھی ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا تو آخر میں دبائو کم ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ سری لنکا کے پاس مالنگا کی صورت میں ایک ہی تجربہ کار بولر تھا، اس کا بھی انجیلو میتھیوز نے بھرپور فائدہ اٹھایا، پہلے سے زیادہ فٹ اور فارم میں نظر آنے والے پیسر نے ٹیم کی توقعات کے مطابق پرفارم کیا،راشد لطیف نے کہا کہ سعید اجمل کی سال میں سب سے زیادہ وکٹوں سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق پرفارم کرکے کتنے میچ جتواتے ہیں، 40 یا 50 رنز دے کر ایک وکٹ تو پارٹ ٹائم اسپنر بھی لے سکتا ہے۔