کینسر کی تشخیص کے غیرمعیاری انجکشنوں سے متعلق ازخود نوٹس
سپریم کورٹ نے حکومت سے رپورٹ طلب کرلی، میڈیا پرآنیوالی خبروں کا نوٹس لیا
سابق چیف جسٹس نے انکوائری کا حکم دیا تھا لیکن رٹائرمنٹ کے بعدمعاملہ سردخانے کی نذرہوگیا۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ملک میں کینسر کی روک تھام کیلیے استعمال ہونیوالے غیرمعیاری انجکشنزکی سپلائی کا ازخود نوٹس لیتے حکومت سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔
سپریم کورٹ سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ نے میڈیا پرآنے والی ان خبروں کا نوٹس لیا ہے جن میں نشاندہی کی گئی تھی کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلئیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت تیار ہونے والے تشخیصی انجکشنزمضرصحت ہیں۔جن میں خطرناک ریڈیونیوکلائیاڈ مواد شامل ہے۔ یہ مواد کینسر کی تشخیص کے بجائے اس کے پھیلائو کا سبب بن سکتا ہے۔ ہرسال تقریبا 20 ملین ریڈو نیوکلائیڈ ڈیٹیکٹرکینسرکی تشخیص کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جن کے ذریعے دماغ، دل، پٹھوں،پھیپھڑوں اور انسانی جسم کے دیگر حصوں کے اعضا میں کینسر کے جراثیم کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
لیکن ادارے کی جانب سے مختلف اسپتالوں کوسپلائی کیے جانے والے انجیکشنز میں مضرصحت ریڈو نیوکلئیاڈ مواد شامل ہے جس کے استعمال سے ہڈیوں میں کیلشیم کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔خبر کے مطابق تابکار مادے کی موجودگی کی وجہ مطلوبہ معیار کو پورا کرنے کے لیے نتائج کو تبدیل کرنا ہے تاکہ حکام بالا کو خوش کیا جاسکے۔اس معیار پر پورا نہ اترنے والے انجیکشنز مختلف کینسر اسپتالوں کو بھی فراہم کیے گئے ہیں، میڈیا رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انکوائری کا حکم دیاتھا لیکن ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ معاملہ پھرسردخانے کی نذرہوگیا،چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے خبرپرازخود نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل کوبدھ26فروری کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے اورسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
سپریم کورٹ سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ نے میڈیا پرآنے والی ان خبروں کا نوٹس لیا ہے جن میں نشاندہی کی گئی تھی کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلئیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت تیار ہونے والے تشخیصی انجکشنزمضرصحت ہیں۔جن میں خطرناک ریڈیونیوکلائیاڈ مواد شامل ہے۔ یہ مواد کینسر کی تشخیص کے بجائے اس کے پھیلائو کا سبب بن سکتا ہے۔ ہرسال تقریبا 20 ملین ریڈو نیوکلائیڈ ڈیٹیکٹرکینسرکی تشخیص کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جن کے ذریعے دماغ، دل، پٹھوں،پھیپھڑوں اور انسانی جسم کے دیگر حصوں کے اعضا میں کینسر کے جراثیم کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
لیکن ادارے کی جانب سے مختلف اسپتالوں کوسپلائی کیے جانے والے انجیکشنز میں مضرصحت ریڈو نیوکلئیاڈ مواد شامل ہے جس کے استعمال سے ہڈیوں میں کیلشیم کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔خبر کے مطابق تابکار مادے کی موجودگی کی وجہ مطلوبہ معیار کو پورا کرنے کے لیے نتائج کو تبدیل کرنا ہے تاکہ حکام بالا کو خوش کیا جاسکے۔اس معیار پر پورا نہ اترنے والے انجیکشنز مختلف کینسر اسپتالوں کو بھی فراہم کیے گئے ہیں، میڈیا رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انکوائری کا حکم دیاتھا لیکن ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ معاملہ پھرسردخانے کی نذرہوگیا،چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے خبرپرازخود نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل کوبدھ26فروری کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے اورسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔