قبائل پر فوج کشی نہیں ہونے جارہی خرم دستگیر

آپریشن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، طاہر اشرفی، پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، جاوید ہاشمی

دعاگو ہیں آپریشن نہ ہو، پروفیسر ابراہیم، ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ حکومت جانتی ہے کہ مسائل بہت زیادہ ہیں لیکن وہ ان مسائل سے نبردآزما ہونے کو تیار ہے۔


ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ 2004 کی طرز پر قبائل پر فو ج کشی نہیں ہونے جارہی جہاں جہاں محسوس ہوگا کہ ایسے گروہ موجود ہیں جو پاکستان کے امن کے لیے خطرہ ہیں وہاں پر کارروائی ہوگی۔نقل مکانی کیلیے آنیوالے لوگوں کیلیے کام شروع کردیا گیا ہے،اب بھی یہ ہی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو گروہ مذاکرات کریں گے ان سے مذاکرات ہوں گے۔ پاکستان کی روح کا فیصلہ ہونے جارہا ہے کہ کیا یہاں پرآئین کی حکمرانی ہوگی یا پھر گلوں پر چھریاں چلنے والا نظام ہوگا۔ مذاکرات کے دوران بنوں میں دھماکا اور ایف سی کے جوانوں کی شہادت ٹرننگ پوائنٹ تھا، پھر حکومت نے ردعمل کا اظہا رکیا،حکومت اب بھی اس نتیجے پر ہے کہ اگر وہ غیر مشروط سیز فائر کرتے ہیں تو ہم ان سے مذاکرات کیلیے تیار ہیں۔

مذہبی اسکالر علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ طالبان نے کہا تھا کہ ان میں چند گروہ ایسے ہیں جو مذاکرات کے خواہا ں نہیں ہیں اور ہم نے کہا تھا کہ جو گروہ پرچم پاکستان تلے مذاکرات کرنا چاہیں وہ کرلیں اور جو نہیں کریں گے ان کے ساتھ یہی ہوگا جو ہونے جارہا ہے۔آپریشن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ پچھلے 10 سال سے آپریشن ہورہا ہے، مجھے دکھ ہے کہ اس سے عام لوگ بھی مارے جائینگے۔ تحریک انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ حکومت نے اپنی منظور کی گئی پالیسی کے حوالے سے ابھی تک ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا،جتنے بھی حالات خراب کیوں نہ ہوں مارشل لاء کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہم اسی لیے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں، اگر پانچواں مارشل لاء لگا تو خدانخواستہ پھر یہ ملک بھی نہیں رہے گا،حکومت جو طریقہ اختیار کررہی ہے اس سے مسائل اوربھی بڑھیں گے۔ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں ان کے فیصلے کا ساتھ دیں گے،پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ ہم تو دعاگو ہیں کہ آپریشن نہ ہو کسی بھی آپریشن کے بعد آخر کار مذاکرات ہی ہوتے ہیں،دونوں اطراف سے صبر وتحمل سے کام لینے کی اشد ضرورت ہے۔
Load Next Story