ہم کہاں ہیں
آج وہی والدین ہیں وہی بیٹا ہے مگر ان سب کا وطن بہت بدلا ہوا ہے یا یوں کہیں کہ اسے بدل دیا گیا ہے۔۔۔
Abdulqhasan@hotmail.com
اصل خرابی کہاں ہے۔ جب ایک پاکستانی دوسرے سے یہ سوال کرتا ہے تو جواب ملتا ہے کہاں نہیں ہے اور یہ خرابی بڑھتے بڑھتے اور پھیلتے پھیلتے قوم کے پورے وجود میں سرائیت کر گئی ہے۔ پولیس کے ایک سپاہی سے پولیس کے بڑے سے بڑے افسر تک اور دفتر کے ایک کلرک سے لے کر دفتر کے سربراہ تک اور گھر کی خاتون خانہ سے لے کر گھر کے سربراہ تک کون ہے جو اس قومی خرابی سے بچا ہوا ہے۔ اگلے دن جب میں نے ایک والد سے یہ سنا کہ کسی غیر ملک میں تعلیم پانے والا اس کا بیٹا اگر اسی ملک میں اپنا ٹھکانہ بنا لے تو وہ دل پر پتھر رکھ کر اسے برداشت کر لے گا جب کہ اس نے بیٹے کی خواہش پر کچھ بیچ کر اس کے اخراجات کی کفالت کی ہے۔ اس بیٹے کی ماں نے کہا ہے کہ شکر ہے سونے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ میرے زیور بھی کسی کام آ سکیں گے۔ جب ان کا بیٹا باہر جا رہا تھا تو باتوں باتوں میں اس سے وعدہ لیا جا رہا تھا کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن لوٹ آئے گا مگر اب وہی والدین ہیں وہی بیٹا ہے اور ان کا وہی پیار ہے مگر وہ وطن ویسا نہیں ہے جس میں لوٹ آنے کو انھوں نے ضد کی تھی اور بیٹے نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی مٹی سے جدا نہیں ہو گا۔
آج وہی والدین ہیں وہی بیٹا ہے مگر ان سب کا وطن بہت بدلا ہوا ہے یا یوں کہیں کہ اسے بدل دیا گیا ہے ورنہ اس کی مٹی کی دولت وہی ہے جو پہلے تھی۔ وہ سونا اگلتی ہے اور سکون دیتی ہے، اپنے بیٹوں کو پریشان نہیں کرتی اور انھیں بھوکا نہیں رہنے دیتی۔ جب ملک کی اجتماعی زندگی میں بگاڑ شروع ہوا اور یہ سلسلہ روکے نہ رکا تو کسی نے کہا کہ لگتا ہے ہم مسلمان ایک جدید ملک چلانے کے اہل نہیں ہیں اور کسی نے کہا کہ ہمیں اس کی تربیت ہی نہیں دی گئی اور جب کام پڑا تو سب کچھ بگڑ گیا۔ اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے سیاسی حکمرانوں اور افسر شاہی کو چلانے کے لیے کسی ''انگریز'' کی ضرورت تھی کیونکہ یہ انگریز کی تربیت یافتہ تھی اور اس کی سرپرستی اور رہنمائی میں چلتی تھی۔ وہ چلا گیا تو یہ سب جیسے بے لگام اور بے گھر ہو گئے، راستے گم ہو گئے اور منزلیں بے نشان ہو گئیں پھر جس کے جو جی میں آیا وہ وہی کرتا گیا۔ اسی حالت میں ذاتی مفاد پرستی بھی پیدا ہوئی اور ذاتی اور خاندانی تعلقات ریاست کے مفادات پر غالب آ گئے۔ فوج جو علیحدہ اپنی بیرکوں میں بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی اور دو تین بار جنگ کر کے ملک کو بچا چکی تھی اس نے جب لٹ مار دیکھی تو اپنی خصوصی اہمیت کو سامنے رکھ کر ملک پر قابض ہو گئی اور پھر اس کا قبضہ مدتوں تک جاری رہا اس دوران فوج کو سیاستدانوں کا بھرپور تعاون حاصل رہا اور وہ بے فکر ہو کر حکمرانی کے مزے لوٹتی رہی۔ فوجی حکومت میں عہد حاضر کا رائج حکومتی طریق کار یعنی جمہوریت ختم ہو گئی اور جب کبھی بحال بھی ہوئی تو بے حد کمزور اور گھڑی بھر کی مہمان۔
ہمارے قومی استحکام اور اتحاد کا ایک اور ذریعہ تھا وہ نظریہ جس پر ہم نے یہ ملک قائم کیا تھا۔ بڑے ہی طمطراق کے ساتھ ہم نے ہندوستان میں دو قومی نظریہ کی تحریک چلائی یعنی ہندو اور مسلمان ہر لحاظ سے دو الگ الگ قومیں ہیں ان کی تاریخ ان کا کلچر اور ان کا مزاج جداگانہ ہے۔ ہمیں ایک غلط فہمی بھی تھی کہ ہم نے ہندو پر حکومت کی ہے اور پھر بھی کوئی ایسا مرحلہ آ سکتا ہے۔ انگریزوں نے ہندوستان ایک مسلمان حکومت سے چھینا تھا ہم اس کی واپسی کی امید بھی رکھتے تھے۔ ہمارا دو قومی نظریہ جو قیام پاکستان کی اساس تھا اسلام پر مبنی تھا اور ہماری سیاسی قیادت نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان ایک مکمل اسلامی ملک ہو گا۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ ابتدائے پاکستان میں پوری دنیا کے مسلمانوں نے پاکستان کو اپنا قائد تسلیم کر لیا ایک تازہ دم مسلمان ملک جو اسلامی نظام حکومت کا پیاسا تھا اور اپنی کھوئی ہوئی دانش واپس لینا چاہتا تھا۔ ایک مشہور کہاوت تھی کہ قرآن پاک سرزمین عرب پر اترا قاہرہ میں پڑھا گیا اور استنبول میں چھاپا گیا۔ یعنی اس کے قاری مصر میں ظاہر ہوئے اور استنبول کے چھاپہ خانوں میں اسے چھاپا گیا اس پر یہ اضافہ کیا گیا کہ یہ سمجھا ہندوستان میں گیا۔ گویا دین کا صحیح مفہوم ہندوستان کے مسلمانوں کے ذہنوں میں پیدا ہوا اور یہی وہ مفہوم تھا جس پر پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ صاف الفاظ میں کہا گیا کہ پاکستان کا مطلب کیا ''لا الہ الا اللہ'' تحریک پاکستان کا یہ سب سے بڑا نعرہ تھا۔
بانی پاکستان کے نظریات بڑے واضح تھے اور قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں ان کی لاتعداد تقریروں میں اسلامی نظریات کو پاکستان کی اساس قرار دیا گیا لیکن قدرت کو ہمارا ایک امتحان مقصود تھا۔ قائداعظم تو جلد ہی اپنی زندگی کا عظیم مقصد حاصل کر کے چلے گئے اور اپنے تمام تر نظریات کے ساتھ پاکستان ہمارے حوالے کر گئے۔ ہم نے اللہ و رسولؐ کے ساتھ لا الہ الا اللہ کا جو وعدہ کیا تھا اس سے بے وفائی کی۔ یہانتک کہ خود پاکستان کے اندر اسلام کے نفاذ کے مطالبے شروع ہو گئے جو کسی مطالبے کا محتاج نہیں تھا خود بخود یہ سب ہو جانا تھا۔ یہ سب ہماری نسل کا دیکھا بھالا ہے اور یہ مختصر سی تاریخ ہمارے سامنے ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کس طرح اسلام سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔ یہ کوشش اب تک جاری ہے اور اس کے ساتھ خدا اور رسولؐ سے بدعہدی اور بے وفائی کی سزا بھی۔
ذرا غور کریں کہ ہماری جو حالت ہے وہ ہماری اسی بے وفائی دھوکے اور بد عہدی کی سزا ہے۔ حیرت ہے کہ خود پاکستانی' پاکستان کے خلاف حالت جنگ میں ہیں اور ہمارا گھر بیرونی دشمنوں کی مداخلت کے لیے کھلا ہے اور پوری قوم پر گھبراہٹ طاری ہے۔
آج وہی والدین ہیں وہی بیٹا ہے مگر ان سب کا وطن بہت بدلا ہوا ہے یا یوں کہیں کہ اسے بدل دیا گیا ہے ورنہ اس کی مٹی کی دولت وہی ہے جو پہلے تھی۔ وہ سونا اگلتی ہے اور سکون دیتی ہے، اپنے بیٹوں کو پریشان نہیں کرتی اور انھیں بھوکا نہیں رہنے دیتی۔ جب ملک کی اجتماعی زندگی میں بگاڑ شروع ہوا اور یہ سلسلہ روکے نہ رکا تو کسی نے کہا کہ لگتا ہے ہم مسلمان ایک جدید ملک چلانے کے اہل نہیں ہیں اور کسی نے کہا کہ ہمیں اس کی تربیت ہی نہیں دی گئی اور جب کام پڑا تو سب کچھ بگڑ گیا۔ اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے سیاسی حکمرانوں اور افسر شاہی کو چلانے کے لیے کسی ''انگریز'' کی ضرورت تھی کیونکہ یہ انگریز کی تربیت یافتہ تھی اور اس کی سرپرستی اور رہنمائی میں چلتی تھی۔ وہ چلا گیا تو یہ سب جیسے بے لگام اور بے گھر ہو گئے، راستے گم ہو گئے اور منزلیں بے نشان ہو گئیں پھر جس کے جو جی میں آیا وہ وہی کرتا گیا۔ اسی حالت میں ذاتی مفاد پرستی بھی پیدا ہوئی اور ذاتی اور خاندانی تعلقات ریاست کے مفادات پر غالب آ گئے۔ فوج جو علیحدہ اپنی بیرکوں میں بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی اور دو تین بار جنگ کر کے ملک کو بچا چکی تھی اس نے جب لٹ مار دیکھی تو اپنی خصوصی اہمیت کو سامنے رکھ کر ملک پر قابض ہو گئی اور پھر اس کا قبضہ مدتوں تک جاری رہا اس دوران فوج کو سیاستدانوں کا بھرپور تعاون حاصل رہا اور وہ بے فکر ہو کر حکمرانی کے مزے لوٹتی رہی۔ فوجی حکومت میں عہد حاضر کا رائج حکومتی طریق کار یعنی جمہوریت ختم ہو گئی اور جب کبھی بحال بھی ہوئی تو بے حد کمزور اور گھڑی بھر کی مہمان۔
ہمارے قومی استحکام اور اتحاد کا ایک اور ذریعہ تھا وہ نظریہ جس پر ہم نے یہ ملک قائم کیا تھا۔ بڑے ہی طمطراق کے ساتھ ہم نے ہندوستان میں دو قومی نظریہ کی تحریک چلائی یعنی ہندو اور مسلمان ہر لحاظ سے دو الگ الگ قومیں ہیں ان کی تاریخ ان کا کلچر اور ان کا مزاج جداگانہ ہے۔ ہمیں ایک غلط فہمی بھی تھی کہ ہم نے ہندو پر حکومت کی ہے اور پھر بھی کوئی ایسا مرحلہ آ سکتا ہے۔ انگریزوں نے ہندوستان ایک مسلمان حکومت سے چھینا تھا ہم اس کی واپسی کی امید بھی رکھتے تھے۔ ہمارا دو قومی نظریہ جو قیام پاکستان کی اساس تھا اسلام پر مبنی تھا اور ہماری سیاسی قیادت نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان ایک مکمل اسلامی ملک ہو گا۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ ابتدائے پاکستان میں پوری دنیا کے مسلمانوں نے پاکستان کو اپنا قائد تسلیم کر لیا ایک تازہ دم مسلمان ملک جو اسلامی نظام حکومت کا پیاسا تھا اور اپنی کھوئی ہوئی دانش واپس لینا چاہتا تھا۔ ایک مشہور کہاوت تھی کہ قرآن پاک سرزمین عرب پر اترا قاہرہ میں پڑھا گیا اور استنبول میں چھاپا گیا۔ یعنی اس کے قاری مصر میں ظاہر ہوئے اور استنبول کے چھاپہ خانوں میں اسے چھاپا گیا اس پر یہ اضافہ کیا گیا کہ یہ سمجھا ہندوستان میں گیا۔ گویا دین کا صحیح مفہوم ہندوستان کے مسلمانوں کے ذہنوں میں پیدا ہوا اور یہی وہ مفہوم تھا جس پر پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ صاف الفاظ میں کہا گیا کہ پاکستان کا مطلب کیا ''لا الہ الا اللہ'' تحریک پاکستان کا یہ سب سے بڑا نعرہ تھا۔
بانی پاکستان کے نظریات بڑے واضح تھے اور قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں ان کی لاتعداد تقریروں میں اسلامی نظریات کو پاکستان کی اساس قرار دیا گیا لیکن قدرت کو ہمارا ایک امتحان مقصود تھا۔ قائداعظم تو جلد ہی اپنی زندگی کا عظیم مقصد حاصل کر کے چلے گئے اور اپنے تمام تر نظریات کے ساتھ پاکستان ہمارے حوالے کر گئے۔ ہم نے اللہ و رسولؐ کے ساتھ لا الہ الا اللہ کا جو وعدہ کیا تھا اس سے بے وفائی کی۔ یہانتک کہ خود پاکستان کے اندر اسلام کے نفاذ کے مطالبے شروع ہو گئے جو کسی مطالبے کا محتاج نہیں تھا خود بخود یہ سب ہو جانا تھا۔ یہ سب ہماری نسل کا دیکھا بھالا ہے اور یہ مختصر سی تاریخ ہمارے سامنے ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کس طرح اسلام سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔ یہ کوشش اب تک جاری ہے اور اس کے ساتھ خدا اور رسولؐ سے بدعہدی اور بے وفائی کی سزا بھی۔
ذرا غور کریں کہ ہماری جو حالت ہے وہ ہماری اسی بے وفائی دھوکے اور بد عہدی کی سزا ہے۔ حیرت ہے کہ خود پاکستانی' پاکستان کے خلاف حالت جنگ میں ہیں اور ہمارا گھر بیرونی دشمنوں کی مداخلت کے لیے کھلا ہے اور پوری قوم پر گھبراہٹ طاری ہے۔