حکام کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی آپریشن میں 9 ہزار افراد گرفتار صرف 393 ہی دہشت گرد نکلے

صرف 37 مجرموں کو سزا مل سکی،دوران آپریشن بھتہ خوری اور دیگروارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا

کراچی پولیس کے سربراہ شاہد حیات کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں اعتراف۔ فوٹو :ایکسپریس ۔فائل

آپریشن کے دوران حکام کی جانب سے کیے گئے دہشت گردوں کی گرفتاری کے بلند و بانگ دعوے بے اثر ہوگئے ، ماہ ستمبر سے شروع ہونے والے آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے 9 ہزار افراد میں سے صرف393 ہی دہشت گردی میں ملوث نکلے اور ان میں سے بھی صرف 37 کو ہی سزا مل سکی۔


مذکورہ دورانیے میں بھتہ خوری کی وارداتیں بڑھ گئیں، تفصیلات کے مطابق کراچی کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے کی غرض سے 5 ستمبر 2013 سے آپریشن کا آغاز کیا گیا اور روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں آپریشن کیے جاتے اور سیکڑوں ملزمان کی گرفتاری کے دعوے کیے جاتے ، کئی ایسے ملزمان بھی تھے جن کی گرفتاری پر اعلیٰ حکام پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے اور ان کی دہشت گردی کی کارروائیوں کو بڑھ چڑھ کر بتاتے لیکن حکام کے یہ بلند و بانگ دعوے زمین پر آگرے ، حکام کا دعویٰ تھا کہ کراچی آپریشن کے دوران 9 ہزار 195 ملزمان کو گرفتار کیا گیا لیکن ان ملزمان میں صرف 393 افراد کو ہی انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں پیش کیا گیا اور ان میں سے بھی اب تک محض 37 کو ہی سزا مل سکی ہے۔

یہ اعتراف خود کراچی پولیس کے سربراہ شاہد حیات نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیا ہے، آپریشن کے دوران جہاں دیگر کئی جرائم کی وارداتیں رونما ہوتی رہیں تو وہیں بھتہ خوری کا بڑھتا ہوا گراف بھی پولیس حکام کی کارکردگی کا منہ چڑاتا رہا ، سب سے زیادہ ستمبر 2013 میں ہی بھتہ خوری کی 74 وارداتیں رونما ہوئیں جبکہ اس سے قبل اگست 2013 میں 50 وارداتیں ہوئی تھیں ، سپریم کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں شاہد حیات نے مزید اعتراف کیا کہ آپریشن کے دوران بھتہ خوری کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں ، رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی پولیس کی نفری 25 ہزار 279 پر مشتمل ہے جس میں سے 5 ہزار 746 وی آئی پی شخصیات کی سیکیورٹی پر مامور ہے ۔
Load Next Story