راشد نے ٹیلنٹ کی تلاش کا بیڑا اٹھالیا بطور چیف سلیکٹر تقرر
یکم اپریل سے کام شروع،ورلڈ کپ تک فرائض نبھائیں گے،اینٹی کرپشن معاملات پرلیکچرز بھی ذمہ داریوں میں شامل
بورڈ نے مکمل اختیارات دیے،کام میں مداخلت کا خدشہ نہیں،میرٹ اورفٹنس پہلی ترجیح ہوگی،فوٹو: فائل
راشد لطیف نے ٹیلنٹ کی تلاش کا بیڑا اٹھالیا، سابق کپتان کی رضامندی کے بعد بورڈ نے بطور چیف سلیکٹر ان کے تقرر کا اعلان کردیا، وہ یکم اپریل سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے، انھیں اینٹی کرپشن معاملات پر لیکچرز دینے کا ٹاسک بھی دیا گیا ہے ۔
سابق مایہ ناز وکٹ کیپر کا کہنا ہے کہ بورڈ چیئرمین نے مکمل اختیارات دیے ہیں، کام میں مداخلت کا خدشہ نہیں، سلیکشن کمیٹی میں نوجوان اور متحرک افراد کو شامل کروں گا، میرٹ اور فٹنس پہلی ترجیح ہوگی،کھلاڑیوں کی ناراضی کی پروا نہیں،کسی مصلحت سے کام نہیں لوں گا، صرف اچھی کارکردگی دکھانے والا ہی ٹیم کی نمائندگی کرے گا، ذمہ داری سنبھالنے کیلیے آمادہ کرنے میں ہیڈ کوچ معین خان نے اہم کردار ادا کیا،دونوں مل کر دیانتداری سے کام کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ کا سنہری دور واپس لائیںگے۔ تفصیلات کے مطابق راشد لطیف کو کچھ عرصے قبل سابق چیئرمین ذکا اشرف نے سلیکشن کمیٹی کا سربراہ بننے کی پیشکش کی تھی، بعدازاں بعض معاملات پر عدم اتفاق کے سبب انھوں نے عہدہ نہیں سنبھالا، نئے بورڈ چیف نجم سیٹھی نے بھی راشد لطیف کی خدمات لینے میں دلچسپی ظاہر کی، مکمل اختیارات کی یقین دہانی کرانے پر بات بن گئی، بورڈ نے گذشتہ روز راشد لطیف کی بطور چیف سلیکٹر تقرری کا اعلان کردیا، وہ اپنے ادارے پورٹ قاسم سے ڈیپوٹیشن پر پی سی بی کو جوائن کریں گے۔
سابق کپتان نے یکم اپریل سے ذمہ داریاں سنبھالنے کا اعلان کیا ہے، وہ اینٹی کرپشن معاملات پر لیکچر بھی دیا کریں گے۔ واضح رہے کہ راشد لطیف کو37ٹیسٹ اور166ون ڈے میچز میں ملک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے، وہ افغانستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی رہ چکے ہیں۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے راشد لطیف نے کہا کہ میں نے ورلڈ کپ 2015 تک چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سنبھالنے پر رضامندی ظاہر کردی، پی سی بی میں کوئی بھی عہدہ چیلنج سے کم نہیں ہوتا، خاص طور پر موجودہ حالات میں بگ تھری ایشو اور ٹیم پرفارمنس سمیت کئی مسائل سامنے ہیں، مجھ پر بھی بھاری ذمہ داری ہوگی، پورے پاکستان کی نظریں ہماری کارکردگی پر ہوں گی، سلیکشن کمیٹی میں پی سی بی کی مشاورت سے نوجوان اورمتحرک ارکان لائوں گا جوگرائونڈز میں جا کر میچ اور کھلاڑیوں کی پرفارمنس کا جائزہ لے سکیں، سلیکٹرز کی نوکری 9 سے 5 بجے تک دفتر میں حاضری نہیں ہوتی،انھیں 24 گھنٹے سرگرم رہتے ہوئے ایک ایک چیز پر نظر رکھناہوتی ہے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہاکہ ماضی میں پی سی بی کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں رہے مگر اب مجھے بورڈ میں آنے پر قائل کرنے میں معین خان نے اہم کردار ادا کیا،ہیڈ کوچ کے ساتھ مل کر کام کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، دونوں سابق کپتان مل کر اپنے تجربے کی بدولت پاکستان کرکٹ کا سنہری دور واپس لانے کی کوشش کریں گے۔ راشد لطیف نے کہا کہ چیئرمین نجم سیٹھی سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے مکمل اختیارات دیے،کام میں مداخلت والی کوئی بات نہیں ہوگی،کوچ اور کپتان کا کردار اہم ہے،ان کی مشاورت سے بہتری کی جانب گامزن ہوںگے، سلیکشن کے حوالے سے تمام فیصلوں میں میرٹ اور فٹنس اولین ترجیح ہوگی، کسی مصلحت سے کام نہیں لوں گا، مینجمنٹ سے مشورہ اور ملکی مفاد میں فیصلے اپنی جگہ کھلاڑیوں کی ناراضی علیحدہ معاملہ ہے جس کی پروا نہیں جو پرفارم کرے وہی کھیلے گا۔
انھوں نے کہا کہ مشکلات اور مسائل ضرور ہیں تاہم دیانتداری اور خلوص نیت سے کام کیا جائے تو کچھ بھی ناممکن نہیں،کیریئر میں بھی چیلنج خوش دلی سے قبل کرتا رہا،اس ذمہ داری کو اٹھانے میں بھی کوئی الجھن نہیں ہوگی، ورلڈ کپ کیلیے مضبوط اسکواڈ تشکیل دینے کی پوری کوشش کرینگے۔ انھوں نے کہاکہ بدقسمتی سے وکٹ کیپنگ کے شعبے میں مقابلے کی وہ فضا نہیں جو میرے اور معین خان کے دور میں ہوتی تھی،اس وقت کامران اکمل، ذوالقرنین حیدر اور عدنان اکمل کی ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی اچھی ہے،عمر اکمل بھی بہتر کھیل کا مظاہرہ کررہے ہیں،جو اچھا پرفارم کرے وہی منتخب ہوگا۔
سابق مایہ ناز وکٹ کیپر کا کہنا ہے کہ بورڈ چیئرمین نے مکمل اختیارات دیے ہیں، کام میں مداخلت کا خدشہ نہیں، سلیکشن کمیٹی میں نوجوان اور متحرک افراد کو شامل کروں گا، میرٹ اور فٹنس پہلی ترجیح ہوگی،کھلاڑیوں کی ناراضی کی پروا نہیں،کسی مصلحت سے کام نہیں لوں گا، صرف اچھی کارکردگی دکھانے والا ہی ٹیم کی نمائندگی کرے گا، ذمہ داری سنبھالنے کیلیے آمادہ کرنے میں ہیڈ کوچ معین خان نے اہم کردار ادا کیا،دونوں مل کر دیانتداری سے کام کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ کا سنہری دور واپس لائیںگے۔ تفصیلات کے مطابق راشد لطیف کو کچھ عرصے قبل سابق چیئرمین ذکا اشرف نے سلیکشن کمیٹی کا سربراہ بننے کی پیشکش کی تھی، بعدازاں بعض معاملات پر عدم اتفاق کے سبب انھوں نے عہدہ نہیں سنبھالا، نئے بورڈ چیف نجم سیٹھی نے بھی راشد لطیف کی خدمات لینے میں دلچسپی ظاہر کی، مکمل اختیارات کی یقین دہانی کرانے پر بات بن گئی، بورڈ نے گذشتہ روز راشد لطیف کی بطور چیف سلیکٹر تقرری کا اعلان کردیا، وہ اپنے ادارے پورٹ قاسم سے ڈیپوٹیشن پر پی سی بی کو جوائن کریں گے۔
سابق کپتان نے یکم اپریل سے ذمہ داریاں سنبھالنے کا اعلان کیا ہے، وہ اینٹی کرپشن معاملات پر لیکچر بھی دیا کریں گے۔ واضح رہے کہ راشد لطیف کو37ٹیسٹ اور166ون ڈے میچز میں ملک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے، وہ افغانستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی رہ چکے ہیں۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے راشد لطیف نے کہا کہ میں نے ورلڈ کپ 2015 تک چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سنبھالنے پر رضامندی ظاہر کردی، پی سی بی میں کوئی بھی عہدہ چیلنج سے کم نہیں ہوتا، خاص طور پر موجودہ حالات میں بگ تھری ایشو اور ٹیم پرفارمنس سمیت کئی مسائل سامنے ہیں، مجھ پر بھی بھاری ذمہ داری ہوگی، پورے پاکستان کی نظریں ہماری کارکردگی پر ہوں گی، سلیکشن کمیٹی میں پی سی بی کی مشاورت سے نوجوان اورمتحرک ارکان لائوں گا جوگرائونڈز میں جا کر میچ اور کھلاڑیوں کی پرفارمنس کا جائزہ لے سکیں، سلیکٹرز کی نوکری 9 سے 5 بجے تک دفتر میں حاضری نہیں ہوتی،انھیں 24 گھنٹے سرگرم رہتے ہوئے ایک ایک چیز پر نظر رکھناہوتی ہے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہاکہ ماضی میں پی سی بی کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں رہے مگر اب مجھے بورڈ میں آنے پر قائل کرنے میں معین خان نے اہم کردار ادا کیا،ہیڈ کوچ کے ساتھ مل کر کام کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، دونوں سابق کپتان مل کر اپنے تجربے کی بدولت پاکستان کرکٹ کا سنہری دور واپس لانے کی کوشش کریں گے۔ راشد لطیف نے کہا کہ چیئرمین نجم سیٹھی سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے مکمل اختیارات دیے،کام میں مداخلت والی کوئی بات نہیں ہوگی،کوچ اور کپتان کا کردار اہم ہے،ان کی مشاورت سے بہتری کی جانب گامزن ہوںگے، سلیکشن کے حوالے سے تمام فیصلوں میں میرٹ اور فٹنس اولین ترجیح ہوگی، کسی مصلحت سے کام نہیں لوں گا، مینجمنٹ سے مشورہ اور ملکی مفاد میں فیصلے اپنی جگہ کھلاڑیوں کی ناراضی علیحدہ معاملہ ہے جس کی پروا نہیں جو پرفارم کرے وہی کھیلے گا۔
انھوں نے کہا کہ مشکلات اور مسائل ضرور ہیں تاہم دیانتداری اور خلوص نیت سے کام کیا جائے تو کچھ بھی ناممکن نہیں،کیریئر میں بھی چیلنج خوش دلی سے قبل کرتا رہا،اس ذمہ داری کو اٹھانے میں بھی کوئی الجھن نہیں ہوگی، ورلڈ کپ کیلیے مضبوط اسکواڈ تشکیل دینے کی پوری کوشش کرینگے۔ انھوں نے کہاکہ بدقسمتی سے وکٹ کیپنگ کے شعبے میں مقابلے کی وہ فضا نہیں جو میرے اور معین خان کے دور میں ہوتی تھی،اس وقت کامران اکمل، ذوالقرنین حیدر اور عدنان اکمل کی ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی اچھی ہے،عمر اکمل بھی بہتر کھیل کا مظاہرہ کررہے ہیں،جو اچھا پرفارم کرے وہی منتخب ہوگا۔