ایک ارب ڈالر قسط کیلیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آغاز
مذاکرات میں اگلے مالی سال کیلئے بجٹ کی تیاری اور 7 ہزار ارب روپے ٹیکس محصولات پر بات چیت ہوگی
مذاکرات میں آئی ایم ایف کی جانب سے نئی حکومت کے تحفظات، سبسڈیز، ایمنسٹی اور نئی شرائط پر غور ہو گا، ذرائع۔ فوٹو: فائل
DETROIT:
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے ساتھ پروگرام دوبارہ بحال کرانے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ساتویں اقتصادی جائزہ پر مذاکرات شروع ہوگئے ہیں، جو 24 اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مذاکرات کی کامیابی پر پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط ملنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر واشنگٹن میں موجود ہیں، جو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کریں گے اور اس موقع پر آئی ایم ایف حکام سمیت دیگر رہنماوں سے اہم سائیڈ لائن میٹنگز بھی کریں گے جس میں آئی ایم ایف حکام کے ساتھ ساتویں اقتصادی جائزہ پر مذاکرات بارے تبادلہ خیال ہوگا جبکہ پالیسی سطح کے مذاکرات میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آن شریک ہوں گے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ پہلے ہی کی جاچکی ہے اور تازہ ترین اعدادوشمار بھی شیئر کئے جاچکے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام ٹریک پر لانے کیلئے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ زیادہ تر اہداف پورے کرلئے گئے ہیں البتہ سبسڈیز سمیت دیگر معاملات پرنظر ثانی کیلئے بات چیت ہوگی اور پچھلی حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف کے ساتھ طے کی جانے والی غیر حقیقی شرائط میں نرمی لانے کے ساتھ ساتھ بعض بنچ مارک سے عارضی استثنی لینے کی بھی کوشش کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے ہونیوالے مذاکرات میں اگلے مالی سال کیلئے بجٹ کی تیاری کے ابتدائی خدوخال پر بھی تبادلہ خیال ہوگا اور بجٹ میں آئی ایم ایف کو سات ہزار ارب سے زائد کے ٹیکس محصولات سے آگاہ کیا جائے گا۔ بجٹ میں وفاقی حکومت کے اخراجات کے ابتدائی تخمینے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا پاکستان اور آئی ایم ایف جاری قرض پروگرام پر بھی بات چیت کی جائے گی جبکہ پاکستان قرض پروگرام کی انگلی قسط کے لیے چند رعایتیں طلب کرے گا۔
ذرائع کے مطابق نئی حکومت بجلی اور پٹرول مہنگا کرنے اور پٹرولیم لیوی سمیت آئی ایم ایف کے دیگر مطالبات پر نظر ثانی کرکے نرمی کی بھی درخواست کرے گی۔ ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن کو بڑھا کر خسارہ قابو کرنے کا متبادل راستہ پلان دیا جائے گا ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئی حکومت کی کوشش ہے کہ اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کی بجائے مئی میں پیش کیا جائے۔
وزراتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں چھ ماہ کا عرصہ ضائع کیا تھا، موجودہ حکومت کی ترجیحات میں معاشی استحکام سر فہرست ہے، مذاکرات میں آئی ایم ایف کی جانب سے نئی حکومت کے تحفظات پر گفتگو کے علاوہ سبسڈیز، ایمنسٹی اور نئی شرائط پر غور ہوگا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے ساتھ پروگرام دوبارہ بحال کرانے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ساتویں اقتصادی جائزہ پر مذاکرات شروع ہوگئے ہیں، جو 24 اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مذاکرات کی کامیابی پر پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط ملنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر واشنگٹن میں موجود ہیں، جو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کریں گے اور اس موقع پر آئی ایم ایف حکام سمیت دیگر رہنماوں سے اہم سائیڈ لائن میٹنگز بھی کریں گے جس میں آئی ایم ایف حکام کے ساتھ ساتویں اقتصادی جائزہ پر مذاکرات بارے تبادلہ خیال ہوگا جبکہ پالیسی سطح کے مذاکرات میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آن شریک ہوں گے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ پہلے ہی کی جاچکی ہے اور تازہ ترین اعدادوشمار بھی شیئر کئے جاچکے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام ٹریک پر لانے کیلئے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ زیادہ تر اہداف پورے کرلئے گئے ہیں البتہ سبسڈیز سمیت دیگر معاملات پرنظر ثانی کیلئے بات چیت ہوگی اور پچھلی حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف کے ساتھ طے کی جانے والی غیر حقیقی شرائط میں نرمی لانے کے ساتھ ساتھ بعض بنچ مارک سے عارضی استثنی لینے کی بھی کوشش کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے ہونیوالے مذاکرات میں اگلے مالی سال کیلئے بجٹ کی تیاری کے ابتدائی خدوخال پر بھی تبادلہ خیال ہوگا اور بجٹ میں آئی ایم ایف کو سات ہزار ارب سے زائد کے ٹیکس محصولات سے آگاہ کیا جائے گا۔ بجٹ میں وفاقی حکومت کے اخراجات کے ابتدائی تخمینے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا پاکستان اور آئی ایم ایف جاری قرض پروگرام پر بھی بات چیت کی جائے گی جبکہ پاکستان قرض پروگرام کی انگلی قسط کے لیے چند رعایتیں طلب کرے گا۔
ذرائع کے مطابق نئی حکومت بجلی اور پٹرول مہنگا کرنے اور پٹرولیم لیوی سمیت آئی ایم ایف کے دیگر مطالبات پر نظر ثانی کرکے نرمی کی بھی درخواست کرے گی۔ ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن کو بڑھا کر خسارہ قابو کرنے کا متبادل راستہ پلان دیا جائے گا ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئی حکومت کی کوشش ہے کہ اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کی بجائے مئی میں پیش کیا جائے۔
وزراتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں چھ ماہ کا عرصہ ضائع کیا تھا، موجودہ حکومت کی ترجیحات میں معاشی استحکام سر فہرست ہے، مذاکرات میں آئی ایم ایف کی جانب سے نئی حکومت کے تحفظات پر گفتگو کے علاوہ سبسڈیز، ایمنسٹی اور نئی شرائط پر غور ہوگا۔