اساتذہ کو لائسنس دینے کیلیے مخصوص امتحان لینے کا فیصلہ
اجلاس میں تمام ممبران نے اساتذہ کی ٹریننگ اور لائسننگ کے لیے بنے اداروں میں اصلاحات تجویز کیں
سندھ ٹیچر ایجوکیشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی،پرونشل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن، ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کو ایک ہی ادارے اسٹیڈا میں ضم کیا جائے گا۔ فوٹو : فائل
کراچی:
اجلاس میں کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کردیں، اجلاس میں وزیر تعلیم و ثقافت سردار علی شاہ، سیکریٹری تعلیم غلام اکبر لغاری، سیکریٹری کالجز خالد حیدر شاہ، حیدرآباد بورڈ کے ڈاکٹر محمد میمن، آغا خان بورڈ ڈاکٹر ساجد علی، ڈاکٹر فرید پنجوانی اور شہزاد جیوا، زندگی ٹرسٹ کے شہزاد رائے، دوربین کی سلمیٰ عالم، ضیاالدین یونیورسٹی کی راعنا حسین، اسٹیڈا کے ہارون لغاری، ڈاکٹر فوزیہ خان اور دیگر کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔
اجلاس میں تمام ممبران نے اساتذہ کی ٹریننگ اور لائسننگ کے لیے بنے اداروں میں اصلاحات تجویز کیں،ڈاکٹر محمد میمن، شہزاد رائے، سلمیٰ عالم اور ساجد علی نے اپنے مجوزہ اصلاحی ماڈلز پیش کیے جن پر تفصیلی بحٹ و مباحثے کے بعد اہم فیصلے کیے گئے۔
وزیر تعلیم و ثقافت سردار علی شاہ کی صدارت میں اجلاس نے فیصلہ کیا کہ محکمے میں ایک ہی کام کے لیے بنے تین تین ادارے ، سندھ ٹیچر ایجوکیشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اسٹیڈا)، پرونشل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (پائیٹ) اور ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (ٹی ٹی آئی) کو ایک ہی ادارے اسٹیڈا میں ضم کردیا جائے گا جس کے لیے مجوزہ ڈرافٹ کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اساتذہ کو لائسنس دینے کے لیے ایک مخصوص امتحان لیا جائے گا جس کے لیے صرف پروفیشنل ڈگری ہولڈرز امیدواران ہی اہل ہوں گے اور ان لائسنس یافتہ ٹیچر ریکروٹمنٹ کے بعد ڈائریکٹ 16ویں گریڈ میں بھرتی کیا جائے گا جس کے لیے ریکروٹمنٹ رولز میں ترمیم کرکے سندھ کابینہ میں پیش کیا جائے گا، اس کے علاوہ موجود اساتذہ کو بھی آئندہ پروموشنز کے لیے پروفیشنل ڈگری اور تربیتی سرٹیفکیٹس لازمی حاصل کرنا ہوںگے، ری اسٹرکچرنگ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسٹیڈا کے سربراہ ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ہونگے۔
اس میں 11 رکنی بورڈ آف گورنرز فائنل اتھارٹی کی حیثیت رکھے گا، اسٹیڈا میں ایگزیکیٹو ڈائریکٹر کے ماتحت ڈائریکٹر اکیڈمک اینڈ ٹریننگ،ڈائریکٹر ٹیچر لائسنسنگ اینڈ کوالٹی انشورنس اور ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فائنانس ہونگے، اسٹیڈا کو مکمل طور پر ٹیچر مینجمنٹ سسٹم کے تحت ماڈرنائیز کیا جائے گا جس میں ایکریڈیٹیشن اور موٹی ویشن کا پہلو بھی شامل ہوگا، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پائیٹ کو ڈگری ایوارڈنگ انسٹی ٹیوٹ کی حیثیت دی جائے گی تاکہ آگے چل کر سندھ صوبے میں پہلی ٹیچر ایجوکیشن یونیورسٹی قائم ہوسکے۔
سردار علی شاہ نے کہا کہ حال ہی میں ہم نے لگ بھگ 50 ہزار اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ منعقد کیے ہیں لیکن میرا خیال تھا کہ ان کو اسکول میں جوائن کرانے سے پہلے انڈکشن ٹریننگ دینا لازمی ہے، اس حوالے سے نہ صرف محکمے میں موجود تربیتی اداورں میں اصلاحات ناگزیر تھے بلکہ اب ہمیں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں اساتذہ کی ایک ساتھ ٹریننگ کرانے کی جامع حکمت عملی بھی مرتب کرنی ہے۔
سید سردار علی شاہ نے اجلاس کے شرکا کو مخاطب ہوکر کہا کہ محکمہ تعلیم میں موجود افسران بھلے ہی اپنے کیریئر میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہوں لیکن پھر بھی اسٹیڈا کے ذریعے اساتذہ کی ٹریننگ اور لائسنسنگ کے لیے آپ جیسے پروفیشنل ادارے اور ایجوکیشنسٹ کی سفارشات درکار ہوئیں جن کو محکمہ جاتی کاروائی کے بعد اگلے اجلاس میں اسمبلی ڈرافٹ کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔
وزیر تعلیم و ثقافت سردار علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی تعلیم،تربیت ولائسنسنگ کے لیے بنے مخصوص اداروں اسٹیڈا، پائیٹ اور ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں اصلاحات کیلیے ری اسٹرکچرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کردیں، اجلاس میں وزیر تعلیم و ثقافت سردار علی شاہ، سیکریٹری تعلیم غلام اکبر لغاری، سیکریٹری کالجز خالد حیدر شاہ، حیدرآباد بورڈ کے ڈاکٹر محمد میمن، آغا خان بورڈ ڈاکٹر ساجد علی، ڈاکٹر فرید پنجوانی اور شہزاد جیوا، زندگی ٹرسٹ کے شہزاد رائے، دوربین کی سلمیٰ عالم، ضیاالدین یونیورسٹی کی راعنا حسین، اسٹیڈا کے ہارون لغاری، ڈاکٹر فوزیہ خان اور دیگر کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔
اجلاس میں تمام ممبران نے اساتذہ کی ٹریننگ اور لائسننگ کے لیے بنے اداروں میں اصلاحات تجویز کیں،ڈاکٹر محمد میمن، شہزاد رائے، سلمیٰ عالم اور ساجد علی نے اپنے مجوزہ اصلاحی ماڈلز پیش کیے جن پر تفصیلی بحٹ و مباحثے کے بعد اہم فیصلے کیے گئے۔
وزیر تعلیم و ثقافت سردار علی شاہ کی صدارت میں اجلاس نے فیصلہ کیا کہ محکمے میں ایک ہی کام کے لیے بنے تین تین ادارے ، سندھ ٹیچر ایجوکیشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اسٹیڈا)، پرونشل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (پائیٹ) اور ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (ٹی ٹی آئی) کو ایک ہی ادارے اسٹیڈا میں ضم کردیا جائے گا جس کے لیے مجوزہ ڈرافٹ کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اساتذہ کو لائسنس دینے کے لیے ایک مخصوص امتحان لیا جائے گا جس کے لیے صرف پروفیشنل ڈگری ہولڈرز امیدواران ہی اہل ہوں گے اور ان لائسنس یافتہ ٹیچر ریکروٹمنٹ کے بعد ڈائریکٹ 16ویں گریڈ میں بھرتی کیا جائے گا جس کے لیے ریکروٹمنٹ رولز میں ترمیم کرکے سندھ کابینہ میں پیش کیا جائے گا، اس کے علاوہ موجود اساتذہ کو بھی آئندہ پروموشنز کے لیے پروفیشنل ڈگری اور تربیتی سرٹیفکیٹس لازمی حاصل کرنا ہوںگے، ری اسٹرکچرنگ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسٹیڈا کے سربراہ ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ہونگے۔
اس میں 11 رکنی بورڈ آف گورنرز فائنل اتھارٹی کی حیثیت رکھے گا، اسٹیڈا میں ایگزیکیٹو ڈائریکٹر کے ماتحت ڈائریکٹر اکیڈمک اینڈ ٹریننگ،ڈائریکٹر ٹیچر لائسنسنگ اینڈ کوالٹی انشورنس اور ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فائنانس ہونگے، اسٹیڈا کو مکمل طور پر ٹیچر مینجمنٹ سسٹم کے تحت ماڈرنائیز کیا جائے گا جس میں ایکریڈیٹیشن اور موٹی ویشن کا پہلو بھی شامل ہوگا، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پائیٹ کو ڈگری ایوارڈنگ انسٹی ٹیوٹ کی حیثیت دی جائے گی تاکہ آگے چل کر سندھ صوبے میں پہلی ٹیچر ایجوکیشن یونیورسٹی قائم ہوسکے۔
سردار علی شاہ نے کہا کہ حال ہی میں ہم نے لگ بھگ 50 ہزار اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ منعقد کیے ہیں لیکن میرا خیال تھا کہ ان کو اسکول میں جوائن کرانے سے پہلے انڈکشن ٹریننگ دینا لازمی ہے، اس حوالے سے نہ صرف محکمے میں موجود تربیتی اداورں میں اصلاحات ناگزیر تھے بلکہ اب ہمیں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں اساتذہ کی ایک ساتھ ٹریننگ کرانے کی جامع حکمت عملی بھی مرتب کرنی ہے۔
سید سردار علی شاہ نے اجلاس کے شرکا کو مخاطب ہوکر کہا کہ محکمہ تعلیم میں موجود افسران بھلے ہی اپنے کیریئر میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہوں لیکن پھر بھی اسٹیڈا کے ذریعے اساتذہ کی ٹریننگ اور لائسنسنگ کے لیے آپ جیسے پروفیشنل ادارے اور ایجوکیشنسٹ کی سفارشات درکار ہوئیں جن کو محکمہ جاتی کاروائی کے بعد اگلے اجلاس میں اسمبلی ڈرافٹ کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔