کراچی اور لاہور کے دل خراش سانحے

فیکٹری میں اگر ایمرجنسی دروازے موجود ہوتے ،آگ بجھانے کا بندوبست ہوتا تو اتنی ہلاکتیں نہ ہوتیں

کراچی اور لاہور میں دو فیکٹریوں میں آگ لگی اور دونوں سانحات میں سوا تین سو سے زائد مرد وخواتین جھلس کر جاں بحق ہو گئے. فوٹو: اے ایف پی

منگل کا روز اہل پاکستان کے لیے دکھ اور الم لے کر طلوع ہوا۔

اس روز کراچی اور لاہور میں دو فیکٹریوں میں آگ لگی اور دونوں سانحات میں سوا تین سو سے زائد مرد وخواتین جھلس کر جاں بحق ہو گئے (انا للہ وانا الیہ راجعون) حالیہ چند برسوں میں بلند وبالا عمارتوں' کارخانوں اور فیکٹریوں میں آگ لگنے یا ان کے گرنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے' ان حادثات میں اموات کی تعداد بھی بہت زیاد ہ ہے۔

کراچی کے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 300 سے زائد ہوچکی ہے' یہ پاکستان کی تاریخ کا آتشزدگی کا بدترین حادثہ ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق یہ سانحہ کراچی کے علاقہ سعید آباد نمبر 2 میں قائم گارمنٹس کی ایک 3 منزلہ فیکٹری میں رونما ہوا۔ اطلاعات کے مطابق فیکٹری کی اس شفٹ میں 500 مرد وخواتین محنت کش کام کررہے تھے، مرنے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں ۔آگ اس قدر شدید بھی کہ کئی لاشیں کوئلہ بن چکی تھیں،تہہ خانہ میں سے بھی لاشیں ملنے کا اندیشہ ہے۔یہ آگ17 گھنٹے مسلسل بھڑکتی رہی۔ اس طرح عمارت کے گرنے کا بھی خطرہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ہولناک آتشزدگی کے پیش نظر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جب کہ صوبائی حکومت نے بھی واقعہ کی تحقیقات کے لیے دو رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔ ایم کیو ایم نے بھی اس سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ کراچی کے انڈسٹریل زون سائٹ اور دیگرگنجان آباد علاقوں میں قائم کارخانوں اور فیکٹریز میں آتشزدگی کے واقعات میں تسلسل اور اضافہ اس اعتبار سے تشویش ناک ہے کہ سندھ سمیت کراچی کے کسی بھی علاقے میں صنعتی یونٹوں، کارخانوں،اور ملوںکے حالات کار تسلی بخش نہیں۔

اب تک کئی رنگ ساز اداروں ،جھونپڑیوں،کیمیکلز کے گوداموں ، حتیٰ کہ تجارتی بینکوں میں آتشزدگی کے واقعات ہوچکے ہیں، مزید برآںرہائشی علاقوں میں آتش گیر مادے سے لبریز کنٹینرز میں آگ لگنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے کسی قسم کے اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ کراچی میں آتشزدگی کا یہ واقعہ انتہائی دردناک ہے ، غریب مزدوروں کی لاشیں نکالی جارہی ہیں اور کوئی ادارہ اس سانحے کی فوری ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ادھر لاہور میں بند روڈ کی ایک پسماندہ بستی شفیق آباد میں جوتے بنانے والی فیکٹری میں آگ لگی' اس حادثے میں فیکٹری کے مالک سمیت 21 افراد جاں بحق ہو گئے۔

اس حادثے میں بھی اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے'پنجاب کے حالات بھی سندھ یا کراچی سے مختلف نہیں ہے۔یہاں بھی فیکٹریوں اور کارخانوں میں صنعتی یا لیبر قوانیں کا نفاذ نہیں ہے۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تو صنعتی کلچر ہی نہیں ، وہاں قوانین کے نفاذ کی بات ہی بے معنی ہے۔لاہور کے سانحہ پر بھی وزیراعلیٰ پنجاب نے افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے مالی امداد کا اعلان بھی کیا ۔مرکزی حکومت بھی افسوس کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ یوں حکومتیں اپنا فرض پورا کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں ، مقدمے درج ہوجاتے ہیں اور تحقیقاتی کمیشن بن جاتے ہیں ، اس کے بعد سب کچھ معمول کے مطابق چلنے لگتا ہے۔


ان سانحات نے پوری قوم کو دکھی کر دیا ہے' قوم کراچی میں آگ کی نذر ہو جانے والوں کا ماتم کرے یا لاہور میں مرنے والوں کے لیے آنسو بہائے، اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی' ایک جانب دہشت گردوں کے حملے ہیں تو دوسری جانب نااہلی' بدانتظامی' لا علمی اور بے حسی سے جنم لینے والے حادثات ہیں' ٹریفک حادثات نے وطن کی سڑکیں خون سے رنگین کر رکھی ہیں ، اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ حکمران ہوں یا سیاسی اشرافیہ کوئی اپنی ذمے داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حادثات کا شکار ہونے والی فیکٹریوں میں حالات کار شفاف ہوتے ،مزدوروں کو لاحق خطرات کا پیشگی انتظام ہوتا ، ایمرجنسی دروازے موجود ہوتے ،آگ بجھانے کا بندوبست ہوتا تو اتنی ہلاکتیں نہ ہوتیں ، کراچی میں تو بعض خواتین و مردوں نے جان بچانے کے لیے تیسری منزل سے چھلانگ لگائی اور ان کے ہاتھ پائوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں،جب کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک کے تمام بڑے چھوٹے شہروںمیںلاتعداد فیکٹریز میں محنت کشوں کو قرون وسطیٰ کے زمانے کے غلاموں جیسے سلوک کا سامنا ہے۔ سیکڑوں غیر قانونی یونٹ کام کررہے ہیں ، ان پر کوئی چیک نہیں،لیبر انسپکٹروں کے بھتے چل رہے ہیں۔

گنجان آبادیوں میں فیکٹریاں قائم ہیں۔ادھر حکومت اور اس کے اداروں کا حال یہ ہے کہ فائر بریگیڈ کا محکمہ قیام پاکستان کے چند برس بعد تک بہتر رہا لیکن ہمارے سیاستدان، فوجی جرنیل اور بیورو کریٹس طاقتور ہوتے گئے ، عوامی فلاح کے تمام محکمے زوال کا شکار ہوگئے، اب فائربریگیڈ بس نام کا محکمہ رہ گیا ہے۔یہ ملک میں انتظامی زوال کی بڑی نشانی ہے۔آج ملک بھر میں افراتفری کا عالم ہے۔اگر اس زوال کو روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو کوئی قومی سانحہ بھی رونما ہوسکتا ہے۔ کراچی کے سانحہ کے حوالے سے سندھ حکومت کا فرض ہے کہ وہ حادثہ کے اصل اسباب سامنے لائے ۔پنجاب حکومت پر یہی فرض عائد ہوتا ہے۔

محض سوگ کا اعلان کرنا یا افسوس ظاہر کرکے لواحقین کے مالی امداد کا اعلان کرنا کافی ہے۔اصل کام تحقیقات کرنا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جاسکے۔ارباب اختیار کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ حکومتی اداروںکی مجرمانہ غفلت اور صنعتی علاقے میں ٹھیکیداری سسٹم کے باعث بھی محنت کشوں کا استحصال عام ہے، عام طریقہ واردات یہ ہے کہ 80 دن کے لیے ملازم رکھا جاتا ہے،پھر ہٹاکر نئی بھرتی ہوتی ہے، ہزاروں اجرتی ملازمین کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا، کوئی میڈیکل نہیں،ای او بی آئی کی سہولت مہیا نہیں،فیکٹریز ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انڈسٹریل ایریا میں بجلی چوری کی شرح رہائشی علاقوں سے زیادہ ہے۔

اجرتی مزدوروں سے 12 گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے مگر ادائیگی 8 گھنٹوں کے حساب سے ہوتی ہے، کراچی میں آگ کی تباہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے جو حقائق اور چیزیں سامنے آئی ہیں وہ سخت تعجب انگیز ہیں۔اس وقت ملک میں جمہوری سیٹ اپ موجود ہے۔ جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی جماعتیں الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے کریں اور جب وہ جیت جائیں تو انھیں سرکاری محکموں میں ملازمتوں کے کوٹے الاٹ کردیے جائیںاور کروڑوں کے ترقیاتی فنڈ ان کی صوابدیدپر خرچ ہوں۔

جمہوریت کا مطلب منتخب ارکان اسمبلی کا خود آئین اور قانون کی پاسداری اور پابندی کرنااور پھر سرکاری اداروں کے افسروںاوراہلکاروں سے اس کی پابندی کرانا ہے۔کراچی اور لاہور کے سانحے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اگر اس ملک میں قوانین پر عملدرآمد ہوتا تو ایسے حادثے رونما نہیں ہوتے اور اگر خدانخواستہ ہوتے تو انتی جانیں ضایع نہ ہوتیں۔
Load Next Story