جاوید میانداد کو پی سی بی نے ’’اسٹمپڈ‘‘ کردیا
’’استعفیٰ‘‘ کا اسٹروک کھیلنے کیلیے کریز سے باہر نکلنے والے سابق کپتان کو واپسی کا موقع نہ مل سکا، ڈی جی کا عہدہ ختم
آئین پر نظر ثانی کیلیے سابق سپریم کورٹ ججز پر مشتمل 2 رکنی کمیٹی قائم، بگ تھری تنازع پر مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ فوٹو: فائل
کیریئر میں کئی یادگار اننگز کھیلنے والے جاوید میانداد کو پی سی بی نے ''اسٹمپڈ''کر دیا، ''استعفیٰ'' کا اسٹروک کھیلنے کیلیے کریز سے باہر نکلنے والے سابق کپتان کو مینجمنٹ کمیٹی نے واپسی کا موقع نہ دیا۔
انتظامی سیٹ اپ میں ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ ہی ختم کر دیا گیا، بورڈ کے آئین پر نظر ثانی کیلیے سپریم کورٹ کے سابق ججز پر مشتمل 2 رکنی کمیٹی بنا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہوا، چیئرمین نجم سیٹھی، ارکان شہر یار خان، نوید اکرم چیمہ، یوسف نسیم کھوکھر، شکیل شیخ، چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد، چیف فنانشنل آفیسر بدر منظور خان، سیکریٹری سلمان نصیر اور قانونی مشیر تفضل رضوی اس میں شریک ہوئے۔ ارکان نے اتفاق رائے سے چند روز قبل پیش کردہ جاوید میانداد کا استعفیٰ منظور کرنے کے ساتھ ان کی''خدمات'' کو خراج تحسین بھی پیش کیا، یوں عملی طور پر کوئی بڑی ذمہ داری نبھائے بغیر ہی ڈائریکٹر جنرل کی ملازمت ختم ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق سابق کپتان نے ''بے کاری'' سے تنگ آکر استعفیٰ دیا تو انھیں امید تھی کہ کرکٹ کیلیے جذبات کی قدر کرتے ہوئے کوئی ذمہ داری سونپ دی جائے گی لیکن مینجمنٹ کمیٹی نے شہرہ آفاق کرکٹر کے شاندار ماضی کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اسٹمپڈکر دیا۔
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سی او او سبحان احمد نے کہا کہ بورڈ کے سیٹ اپ سے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ ہی ختم کر دیا گیا،اجلاس میں آئین پر نظر ثانی کرکے اسے حقیقی جمہوری قدروں سے ہم آہنگ کرنے کیلیے 2 رکنی کمیٹی بھی قائم کی گئی جس میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس جمشید علی شاہ اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر شامل ہوں گے،ان کی معاونت کا فریضہ قانونی مشیر تفضل رضوی کو سونپا گیا ہے۔ سبحان احمد کے مطابق ریجنل سطح پر کوچنگ اور ٹریننگ کیلیے 4 زون تشکیل دیے جائیں گے، ان میں کھلاڑیوں کی رہنمائی کیلیے سابق کرکٹرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ میڈیا رائٹس کی فروخت اور بگ تھری کے معاملے پر آئندہ لائحہ عمل کی تیاری کیلیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، پی سی بی اور پاکستان کے مفاد میں فیصلہ کیے جائیں گے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں سامنے آنے والے میچ فکسنگ اسکینڈل کے بارے میں رپورٹ تیار ہے لیکن ہمیں موصول نہیں ہوئی۔
انتظامی سیٹ اپ میں ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ ہی ختم کر دیا گیا، بورڈ کے آئین پر نظر ثانی کیلیے سپریم کورٹ کے سابق ججز پر مشتمل 2 رکنی کمیٹی بنا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہوا، چیئرمین نجم سیٹھی، ارکان شہر یار خان، نوید اکرم چیمہ، یوسف نسیم کھوکھر، شکیل شیخ، چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد، چیف فنانشنل آفیسر بدر منظور خان، سیکریٹری سلمان نصیر اور قانونی مشیر تفضل رضوی اس میں شریک ہوئے۔ ارکان نے اتفاق رائے سے چند روز قبل پیش کردہ جاوید میانداد کا استعفیٰ منظور کرنے کے ساتھ ان کی''خدمات'' کو خراج تحسین بھی پیش کیا، یوں عملی طور پر کوئی بڑی ذمہ داری نبھائے بغیر ہی ڈائریکٹر جنرل کی ملازمت ختم ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق سابق کپتان نے ''بے کاری'' سے تنگ آکر استعفیٰ دیا تو انھیں امید تھی کہ کرکٹ کیلیے جذبات کی قدر کرتے ہوئے کوئی ذمہ داری سونپ دی جائے گی لیکن مینجمنٹ کمیٹی نے شہرہ آفاق کرکٹر کے شاندار ماضی کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اسٹمپڈکر دیا۔
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سی او او سبحان احمد نے کہا کہ بورڈ کے سیٹ اپ سے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ ہی ختم کر دیا گیا،اجلاس میں آئین پر نظر ثانی کرکے اسے حقیقی جمہوری قدروں سے ہم آہنگ کرنے کیلیے 2 رکنی کمیٹی بھی قائم کی گئی جس میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس جمشید علی شاہ اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر شامل ہوں گے،ان کی معاونت کا فریضہ قانونی مشیر تفضل رضوی کو سونپا گیا ہے۔ سبحان احمد کے مطابق ریجنل سطح پر کوچنگ اور ٹریننگ کیلیے 4 زون تشکیل دیے جائیں گے، ان میں کھلاڑیوں کی رہنمائی کیلیے سابق کرکٹرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ میڈیا رائٹس کی فروخت اور بگ تھری کے معاملے پر آئندہ لائحہ عمل کی تیاری کیلیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، پی سی بی اور پاکستان کے مفاد میں فیصلہ کیے جائیں گے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں سامنے آنے والے میچ فکسنگ اسکینڈل کے بارے میں رپورٹ تیار ہے لیکن ہمیں موصول نہیں ہوئی۔