سیاسی بحران کی بنیادی وجہ
جمہوریت میں اختلاف ہر جماعت کا بنیادی حق ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جھوٹا، غلیظ اور شرانگیز پراپیگنڈا کیا جائے
جمہوریت میں اختلاف ہر جماعت کا بنیادی حق ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جھوٹا، غلیظ اور شرانگیز پراپیگنڈا کیا جائے۔ فوٹو:فائل
کراچی:
سیاسیات کے اساتذہ ہوں، طالب علم ہوں، شاعر و ادیب ہوں یا سیاستدان ہوں ، سب یہ کہتے ہیں کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتا ہے ، اس سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے۔
آمریت اسی لیے ناکام ہوتی ہے کہ اس میں اختلاف رائے کی گنجائش نہیں ہوتی جب کہ جمہوری نظام اسی لیے قائم و دائم ہے کہ یہاں اختلاف رائے کی گنجائش ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں اختلاف رائے کے معنی مخالفت اور دشمنی لیے جارہے ہیں۔
اس کا مشاہدہ پاکستان کی معاشرت اور سیاست میں بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ اختلاف رائے کیا ہے، اسے سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت سیاسی جماعتوں کی قیادت کو ہے ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام میں سیاسی اختلافات آئین و قانون کے اندر رہ کر ہوتے ہیں ،سیاسی قیادت ایک دوسرے سے اختلاف ذاتی یا گروہی مفادات کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی غلط پالیسی کی نشاندہی کے لیے کیے جاتے ہیں تاکہ جہاں غلطی ہے ، اسے درست کرلیا جائے ۔
تاہم جب سیاسی اختلافات منتخب جمہوری اداروں کی حدود سے نکل کر سڑکوں میں آجائیں، سیاسی حریف کو دشمن کی طرح مخاطب کیا جائے، سیاسی قیادت زہریلے نعروں اور بیانیے کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ملک میں انارکی اور عدم استحکام پیدا ہوجائے تو یہ صورتحال جمہوری نظام کی بقا و استحکام کے لیے خطرناک ہوجاتی اور اسے کسی طور بھی جمہوری اخلاق نہیں کہا جاسکتا ہے ۔
اس وقت ملک کے سب سے بڑے اور اہم صوبے پنجاب میں تقریباً دو ہفتے سے سیاسی اور انتظامی بحران جاری ہے ، نو منتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کی حلف برداری قانون الجھنوں میں پھنس چکی ہے ، معاملہ بار بار عدالت کے روبر جا رہا ہے ، حالانکہ صوبائی اسمبلی میں موجود قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے انھیں حلف اٹھا کر اپنے کام کے آغاز کرنے کا جمہوری اور آئینی راستہ دیا جانا چاہیے ۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے خلاف ریفرنسز سماعت کے لیے مقرر کردیے ہیں۔
اس کے علاوہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس بھی زیر سماعت ہے۔ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوچکی ہے لیکن سابق عمران خان اسے جمہوری تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہیں اور اپنی حکومت کے خاتمے کو سازش کے بیانیے سے منسلک کرکے احتجاج کی سیاست کررہے ہیں اورایک بار پھر اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔
ملک میں پارلیمنٹ بطور ایک سپریم ادارہ اپنا وجود رکھتا ہے ، جس کے قواعد و ضوابط بھی درج ہیں ، سیاسی مسائل کا حل پارلیمنٹ کے ذریعے کرنے کے بجائے انھیں عدالتوں میں لے جانا پارلیمنٹ کو انڈرمائن کرنے کے مترادف ہے اور یہ سب کچھ سیاسی قیادت کرہی ہے جو خود کو پارلیمانی جمہوریت کی محافظ قرار دیتی ہے۔ ملک کی سیاسی قیادت اور عوام کے منتخب نمایندے جو کچھ کررہے ہیں، وہ سب کے سامنے ہے۔جو پارلیمان ریاست اور عوام کے مفادات ، ملکی سلامتی اور ترقی کے ضامن سمجھے جاتے ہیں۔
وہاں ہمارے پارلیمنٹیرنز کیا گل کھلا رہے ہیں، وہ سب کچھ ٹی وی اسکرین پر دکھایا جارہا ہے اور اخبارات میں شایع ہورہا ہے۔ عوام کے منتخب نمایندوں کے کرپشن اسکینڈلز اخبارات کی زینت بنتے ہیں اور ٹی وی چینلز پر نشر ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ شرمندہ ہونے کے بجائے مسکراتے چہروں کے ساتھ معاشرے میں اپنا سیاسی چورن بیچتے نظر آتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے سوشل میڈیا ونگز بنا رکھے ہیں، یہ ونگز سوشل میڈیا پر مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، حتی کے ملک کے اہم اداروں اور شخصیات کے حوالے سے شرانگیز پراپیگنڈا کیا جاتا ہے اور سیاسی قیادت اس کی حوصلہ افزائی کرتی نظر آرہی ہے ۔ ملک کے باشعور لوگ ان غلط پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں توان کو بھی گالیوں اور بے عزتی کے ساتھ ساتھ دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
جمہوریت میں اختلاف ہر جماعت کا بنیادی حق ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جھوٹا، غلیظ اور شرانگیز پراپیگنڈا کیا جائے،معاشرتی اقدار سے عار ہوکر گند اچھالا جائے ۔ سیاسی رہنماؤں سے ان کے کارکنان اور عوام بہت کچھ سیکھتے ہیں ، اس لیے سیاسی رہنماؤں کو جلسے جلوسوں کے دوران تقریرکرتے ہوئے یا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی مخالفت میں ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے، جس سے اشتعال اور عدم برداشت کی سوچ جنم لے۔
اپنی گفتگو میں غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے کے بجائے بہتر الفاظ کا چناؤ کر کے بھی سیاسی مخالفت کی جا سکتی ہے۔ کسی بھی فرد سے سیاسی اختلافات یا کسی بھی جماعت کی پالیسی کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کے لیے بہت سارے مہذب طریقے ہیں۔ کسی بھی جماعت کی جانب سے اپنے رہنماؤں اورکارکنوں کو سیاسی مخالفین کے خلاف غیر اخلاقی گفتگو اور غیر شائستہ عمل کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور نہ ہی انھیں غیرقانونی کاموں پر اکسانا اور ہلہ شیری دینی چاہیے۔
ماضی میں ایسی صورت حال سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی گزر چکی ہیں ، یہ جماعتیں ایک دوسرے کے بارے میں ناقابل برداشت رویوں کے باعث دو دو مرتبہ اقتدار میں آنے کے باوجود ایک بار بھی آئینی مدت پوری نہیں کر پائی تھیں۔
البتہ میثاق جمہوریت پر آمادہ ہو کر اگلی دو ٹرمز میں پوری کرنے کے لیے ایک دوسرے کی ممد و معاون ثابت ہوئیں ، اگرچہ دونوں پارٹیوں کو ایک دوسرے کے اقتدار میں فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے سننے پڑے، مگر جمہوریت کے تسلسل کا پہیہ رواں دواں رہا۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف اور آج کی حکمران جماعتوں کے درمیان چپقلش بڑھ رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے غلطیاں دہرانے کی روش اپنا رکھی ہے جس کا ناقابل تلافی نقصان سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام کو اُٹھانا پڑے گا۔
جمہوری معاشروں میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہ نکالیں جس سے ان کی پیروی کرنے والے سیاسی کارکنوں میں اشتعال پھیلے ، اگر اس منفی رویے کا فوری سدباب نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفت میں اشتعال انگیزی اور گالم گلوچ کی حوصلہ افزائی کی گئی تو معاملہ بڑھتے بڑھتے اس نہج پر پہنچ جائے گا جہاں اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
ہمیں ان سیاسی رویوں کی فکرکرنی چاہیے جن سے ہماری نسل میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور ان میں سے اہم رویہ عدم برداشت ہے ، سیاسی بحث مباحثے میں جس طرح کی زبان استعمال کی جارہی ہے اور جس طرح کے الزامات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے اور ہر گفتگوکا اختتام لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ پر ہوتا ہے، اس کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے ۔
بظاہر پڑھے لکھے،مہذب نظر آنے والے حضرات جب سیاست ، معاشرت یا فقہی معاملات پر بات کرتے ہیں تو ان کی ذہنی و علمیت سطحی نظر آتی ہے اور وہ اختلافات برداشت کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور فوری ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہرحد سے گزر جاتے ہیں۔ یہ صورتحال ہمیں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے کہ اس خطرناک روش کی وجہ سے سادہ لوح عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے جارہے ہیں اور ہمارا معاشرہ ایسے موڑ کی طرف رواں دواں ہے جہاں اپنی بات کو سچ اور دوسرے کی بات کو جھوٹ سمجھا جاتا ہے جس کی روشن دلیل موجودہ سیاسی بحران ہے جس کی بنا پر کس کس طرح کے الزامات اور زبان استعمال کی جاتی ہے جس کا اثر برائے راست طور پر ہماری نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔
ہمارے ہاں لوگ ہر طرح کی معاشرتی و اخلاقی اقدارکو پامال کرتے ہوئے مخالف نقطہ نظر رکھنے والے کو نیچا دکھانے کے لیے گھٹیا پن کی آخری حدوں کو چھوتے نظر آتے ہیں۔حکمرانوں کے کارناموں کی وجہ سے دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور ہم ایک انتہا پسند معاشرے کے طور پر جانے جا رہے ہیں۔ دنیا ہمیں غیر مہذب ملک سمجھتی جارہی ہے اور ہم پر عالمی انسانی قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر قطعہ تعلق کر ہی ہے۔ اس تشویش ناک صورتحال میں ملک کی سیاسی قیادت اور ریاستی مشینری چلانے والے بابوؤں روایتی استحقاقی اور مراعات کلچر سے باہر آنا ہوگا۔
ایسے قوانیں کو تبدیل کرنا پڑے جو ریاستی منصاب پر فائز افراد کو صوابدیدی اختیارات کے دیتے ہیں۔ پاکستان میں بڑے سے بڑے ریاستی عہدیدار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ غیرملکی تحائف کو خود رکھے یا کسی اور دے، اسے یہ بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ریاست کی ملکیت زمین کسی کو صوابیدی اختیار کے کسی کو الاٹ کردے، اس قسم کے اختیارات انگریز راج میں دیے گئے تھے ، مالی فوائد اور مراعات وہی ملنی چاہیں جو تنخواہ کی مد میں ہوں۔
جس ملک کی قیادت شہریوں کو بنیادی انسانی حققوق کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتی، وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ اخلاقی زوال اور عدم برداشت کے خاتمہ کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر خود کو بدلنے کی ضرورت ہے جب تک ہم اپنی اخلاقیات کو درست نہیں کر لیتے اور اپنے رویوں مثبت تبدیلی نہیں لاتے ، تب تک ہم کبھی بھی دنیا کے مہذب معاشروں کی صف میں جگہ بنانے کے اہل نہیں ہو سکتے۔
ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر مثال بنتے ہوئے اس کی شروعات کرنے کی سعی کرنی چاہیے جس میں میڈیا اور ملکی سیاستدان اپنے عمل سے معاشرے میں اس خطرناک رجحان کے خاتمہ کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے عدم برداشت کے رویوں کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
سیاسیات کے اساتذہ ہوں، طالب علم ہوں، شاعر و ادیب ہوں یا سیاستدان ہوں ، سب یہ کہتے ہیں کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتا ہے ، اس سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے۔
آمریت اسی لیے ناکام ہوتی ہے کہ اس میں اختلاف رائے کی گنجائش نہیں ہوتی جب کہ جمہوری نظام اسی لیے قائم و دائم ہے کہ یہاں اختلاف رائے کی گنجائش ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں اختلاف رائے کے معنی مخالفت اور دشمنی لیے جارہے ہیں۔
اس کا مشاہدہ پاکستان کی معاشرت اور سیاست میں بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ اختلاف رائے کیا ہے، اسے سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت سیاسی جماعتوں کی قیادت کو ہے ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام میں سیاسی اختلافات آئین و قانون کے اندر رہ کر ہوتے ہیں ،سیاسی قیادت ایک دوسرے سے اختلاف ذاتی یا گروہی مفادات کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی غلط پالیسی کی نشاندہی کے لیے کیے جاتے ہیں تاکہ جہاں غلطی ہے ، اسے درست کرلیا جائے ۔
تاہم جب سیاسی اختلافات منتخب جمہوری اداروں کی حدود سے نکل کر سڑکوں میں آجائیں، سیاسی حریف کو دشمن کی طرح مخاطب کیا جائے، سیاسی قیادت زہریلے نعروں اور بیانیے کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ملک میں انارکی اور عدم استحکام پیدا ہوجائے تو یہ صورتحال جمہوری نظام کی بقا و استحکام کے لیے خطرناک ہوجاتی اور اسے کسی طور بھی جمہوری اخلاق نہیں کہا جاسکتا ہے ۔
اس وقت ملک کے سب سے بڑے اور اہم صوبے پنجاب میں تقریباً دو ہفتے سے سیاسی اور انتظامی بحران جاری ہے ، نو منتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کی حلف برداری قانون الجھنوں میں پھنس چکی ہے ، معاملہ بار بار عدالت کے روبر جا رہا ہے ، حالانکہ صوبائی اسمبلی میں موجود قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے انھیں حلف اٹھا کر اپنے کام کے آغاز کرنے کا جمہوری اور آئینی راستہ دیا جانا چاہیے ۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے خلاف ریفرنسز سماعت کے لیے مقرر کردیے ہیں۔
اس کے علاوہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس بھی زیر سماعت ہے۔ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوچکی ہے لیکن سابق عمران خان اسے جمہوری تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہیں اور اپنی حکومت کے خاتمے کو سازش کے بیانیے سے منسلک کرکے احتجاج کی سیاست کررہے ہیں اورایک بار پھر اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔
ملک میں پارلیمنٹ بطور ایک سپریم ادارہ اپنا وجود رکھتا ہے ، جس کے قواعد و ضوابط بھی درج ہیں ، سیاسی مسائل کا حل پارلیمنٹ کے ذریعے کرنے کے بجائے انھیں عدالتوں میں لے جانا پارلیمنٹ کو انڈرمائن کرنے کے مترادف ہے اور یہ سب کچھ سیاسی قیادت کرہی ہے جو خود کو پارلیمانی جمہوریت کی محافظ قرار دیتی ہے۔ ملک کی سیاسی قیادت اور عوام کے منتخب نمایندے جو کچھ کررہے ہیں، وہ سب کے سامنے ہے۔جو پارلیمان ریاست اور عوام کے مفادات ، ملکی سلامتی اور ترقی کے ضامن سمجھے جاتے ہیں۔
وہاں ہمارے پارلیمنٹیرنز کیا گل کھلا رہے ہیں، وہ سب کچھ ٹی وی اسکرین پر دکھایا جارہا ہے اور اخبارات میں شایع ہورہا ہے۔ عوام کے منتخب نمایندوں کے کرپشن اسکینڈلز اخبارات کی زینت بنتے ہیں اور ٹی وی چینلز پر نشر ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ شرمندہ ہونے کے بجائے مسکراتے چہروں کے ساتھ معاشرے میں اپنا سیاسی چورن بیچتے نظر آتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے سوشل میڈیا ونگز بنا رکھے ہیں، یہ ونگز سوشل میڈیا پر مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، حتی کے ملک کے اہم اداروں اور شخصیات کے حوالے سے شرانگیز پراپیگنڈا کیا جاتا ہے اور سیاسی قیادت اس کی حوصلہ افزائی کرتی نظر آرہی ہے ۔ ملک کے باشعور لوگ ان غلط پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں توان کو بھی گالیوں اور بے عزتی کے ساتھ ساتھ دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
جمہوریت میں اختلاف ہر جماعت کا بنیادی حق ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جھوٹا، غلیظ اور شرانگیز پراپیگنڈا کیا جائے،معاشرتی اقدار سے عار ہوکر گند اچھالا جائے ۔ سیاسی رہنماؤں سے ان کے کارکنان اور عوام بہت کچھ سیکھتے ہیں ، اس لیے سیاسی رہنماؤں کو جلسے جلوسوں کے دوران تقریرکرتے ہوئے یا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی مخالفت میں ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے، جس سے اشتعال اور عدم برداشت کی سوچ جنم لے۔
اپنی گفتگو میں غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے کے بجائے بہتر الفاظ کا چناؤ کر کے بھی سیاسی مخالفت کی جا سکتی ہے۔ کسی بھی فرد سے سیاسی اختلافات یا کسی بھی جماعت کی پالیسی کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کے لیے بہت سارے مہذب طریقے ہیں۔ کسی بھی جماعت کی جانب سے اپنے رہنماؤں اورکارکنوں کو سیاسی مخالفین کے خلاف غیر اخلاقی گفتگو اور غیر شائستہ عمل کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور نہ ہی انھیں غیرقانونی کاموں پر اکسانا اور ہلہ شیری دینی چاہیے۔
ماضی میں ایسی صورت حال سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی گزر چکی ہیں ، یہ جماعتیں ایک دوسرے کے بارے میں ناقابل برداشت رویوں کے باعث دو دو مرتبہ اقتدار میں آنے کے باوجود ایک بار بھی آئینی مدت پوری نہیں کر پائی تھیں۔
البتہ میثاق جمہوریت پر آمادہ ہو کر اگلی دو ٹرمز میں پوری کرنے کے لیے ایک دوسرے کی ممد و معاون ثابت ہوئیں ، اگرچہ دونوں پارٹیوں کو ایک دوسرے کے اقتدار میں فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے سننے پڑے، مگر جمہوریت کے تسلسل کا پہیہ رواں دواں رہا۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف اور آج کی حکمران جماعتوں کے درمیان چپقلش بڑھ رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے غلطیاں دہرانے کی روش اپنا رکھی ہے جس کا ناقابل تلافی نقصان سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام کو اُٹھانا پڑے گا۔
جمہوری معاشروں میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہ نکالیں جس سے ان کی پیروی کرنے والے سیاسی کارکنوں میں اشتعال پھیلے ، اگر اس منفی رویے کا فوری سدباب نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفت میں اشتعال انگیزی اور گالم گلوچ کی حوصلہ افزائی کی گئی تو معاملہ بڑھتے بڑھتے اس نہج پر پہنچ جائے گا جہاں اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
ہمیں ان سیاسی رویوں کی فکرکرنی چاہیے جن سے ہماری نسل میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور ان میں سے اہم رویہ عدم برداشت ہے ، سیاسی بحث مباحثے میں جس طرح کی زبان استعمال کی جارہی ہے اور جس طرح کے الزامات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے اور ہر گفتگوکا اختتام لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ پر ہوتا ہے، اس کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے ۔
بظاہر پڑھے لکھے،مہذب نظر آنے والے حضرات جب سیاست ، معاشرت یا فقہی معاملات پر بات کرتے ہیں تو ان کی ذہنی و علمیت سطحی نظر آتی ہے اور وہ اختلافات برداشت کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور فوری ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہرحد سے گزر جاتے ہیں۔ یہ صورتحال ہمیں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے کہ اس خطرناک روش کی وجہ سے سادہ لوح عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے جارہے ہیں اور ہمارا معاشرہ ایسے موڑ کی طرف رواں دواں ہے جہاں اپنی بات کو سچ اور دوسرے کی بات کو جھوٹ سمجھا جاتا ہے جس کی روشن دلیل موجودہ سیاسی بحران ہے جس کی بنا پر کس کس طرح کے الزامات اور زبان استعمال کی جاتی ہے جس کا اثر برائے راست طور پر ہماری نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔
ہمارے ہاں لوگ ہر طرح کی معاشرتی و اخلاقی اقدارکو پامال کرتے ہوئے مخالف نقطہ نظر رکھنے والے کو نیچا دکھانے کے لیے گھٹیا پن کی آخری حدوں کو چھوتے نظر آتے ہیں۔حکمرانوں کے کارناموں کی وجہ سے دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور ہم ایک انتہا پسند معاشرے کے طور پر جانے جا رہے ہیں۔ دنیا ہمیں غیر مہذب ملک سمجھتی جارہی ہے اور ہم پر عالمی انسانی قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر قطعہ تعلق کر ہی ہے۔ اس تشویش ناک صورتحال میں ملک کی سیاسی قیادت اور ریاستی مشینری چلانے والے بابوؤں روایتی استحقاقی اور مراعات کلچر سے باہر آنا ہوگا۔
ایسے قوانیں کو تبدیل کرنا پڑے جو ریاستی منصاب پر فائز افراد کو صوابدیدی اختیارات کے دیتے ہیں۔ پاکستان میں بڑے سے بڑے ریاستی عہدیدار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ غیرملکی تحائف کو خود رکھے یا کسی اور دے، اسے یہ بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ریاست کی ملکیت زمین کسی کو صوابیدی اختیار کے کسی کو الاٹ کردے، اس قسم کے اختیارات انگریز راج میں دیے گئے تھے ، مالی فوائد اور مراعات وہی ملنی چاہیں جو تنخواہ کی مد میں ہوں۔
جس ملک کی قیادت شہریوں کو بنیادی انسانی حققوق کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتی، وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ اخلاقی زوال اور عدم برداشت کے خاتمہ کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر خود کو بدلنے کی ضرورت ہے جب تک ہم اپنی اخلاقیات کو درست نہیں کر لیتے اور اپنے رویوں مثبت تبدیلی نہیں لاتے ، تب تک ہم کبھی بھی دنیا کے مہذب معاشروں کی صف میں جگہ بنانے کے اہل نہیں ہو سکتے۔
ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر مثال بنتے ہوئے اس کی شروعات کرنے کی سعی کرنی چاہیے جس میں میڈیا اور ملکی سیاستدان اپنے عمل سے معاشرے میں اس خطرناک رجحان کے خاتمہ کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے عدم برداشت کے رویوں کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔