لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی محض تجاویز طلب کیں ہائیکورٹ

12 خاندانوں کو فی کس 5 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا، سرکاری وکیل، معاوضہ دینے سے متعلق سمری عدالت میں پیش

معاوضہ عدالت طے کرے گی، وکیل درخواست گزار، ہائی کورٹ کی لاپتا افراد کی بازیابی کیلیے کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت ۔ فوٹو : فائل

KHUSHAB:
سندھ ہائی کورٹ میں لاپتا افراد کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی سے متعلق درخواستوں پر سندھ حکومت نے جواب جمع کرا دیا جب کہ عدالت عالیہ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں لاپتا افراد کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ سندھ حکومت نے 12 جبری لاپتا افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے سے متعلق سمری عدالت میں پیش کردی۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ 12 خاندانوں کو فی کس 5 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا، سمری محکمہ داخلہ سندھ نے وزیر اعلی سندھ کو ارسال کردی ہے۔

سمری منظور ہونے کے بعد جبری لاپتا افراد کے اہلخانہ کو رقم ادا کردی جائے گی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری لاپتا افراد کے اہلخانہ کو ماہانہ رقم ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپیریم کورٹ نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔


جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ ہم معاوضہ دینے سے متعلق صوبائی حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔ سمری کی منظوری کے بعد عدالت اپنا حکم نامہ جاری کرے گی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ جبری گمشدگیوں سے متعلق حکومت یکمشت معاوضے کا تعین کیسے کرسکتی ہے۔

فوکل پرسن محکمہ داخلہ نے بتایا کہ سندھ حکومت 2018 میں بھی اسی طرح اہلخانہ کو معاوضہ ادا کرچکی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص 5 سال سے لاپتا ہے اس کو بھی 5 لاکھ اور جو 8 سال سے لاپتا ہے اسے بھی 5 لاکھ روپے ادا کیے جائیں۔ عدالت کو طے کرنا ہے کہ متاثرہ خاندان کو کتنا معاوضہ ادا کرنا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم نے محض تجاویز طلب کی ہیں حتمی حکم نامہ خود جاری کریں گے۔ عدالت نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق کو کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت یکم جون تک ملتوی کر دی۔
Load Next Story