سادہ لباس پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کو حراست میں لینے کا سلسلہ جاری
کورنگی سو کوارٹرزمیں سادہ لباس اہلکار دروازہ توڑکر گھر میں گھسے اور نوجوان کو ساتھ لے گئے۔
نوجوان کی والدہ نے ہائیکورٹ اورپولیس دفاتر میں بازیابی کے حوالے سے درخواستیں جمع کرادیں، قائم مقام آئی جی کے آفس میں بھی شنوائی نہیں ہوئی۔ فوٹو: فائل
سادہ لباس پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کوحراست میں لینے سلسلہ جاری ہے جس میں بغیر نمبر پلیٹ کی پولیس موبائلوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔
کراچی پولیس نے اپنے سربراہ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دیں، کورنگی سو کوارٹرز میں سادہ لباس پولیس اہلکار ایک گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہوئے اور اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے گھر میں موجود کاشان احمد عرف کاشف کو گرفتار کر کے اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد اس کی والدہ نے سندھ ہائی کورٹ ، ڈی آئی جی ایسٹ اور ایس آئی یو جمشید کوارٹرز میں اپنے بیٹے کی بازیابی کے حوالے سے درخواستیں جمع کرائیں،خاتون سینٹرل پولیس آفس کے باہر قائم مقام آئی جی سندھ اقبال محمود سے ملنے کی خواہش لیے کئی گھنٹے تک باہر کھڑی رہی جہاں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی،تفصیلات کے مطابق کورنگی سو کوارٹرز سیکٹر 51-D جمعہ گوٹھ کے قریب رہائش پذیر شگفتہ نے سندھ ہائی کورٹ ، ڈی آئی جی ایسٹ اور ایس آئی یو جمشید کوارٹرز میں درخواست جمع کرائی جس میں انھوں نے فریاد کی ہے کہ 26 فروری کو رات گئے چار بجے کے قریب سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے داخل ہوئے اور اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے جواں سال بیٹے کاشان احمد عرف کاشف کو بلاجواز گھیسٹتے ہوئے پولیس موبائل میں ڈال کر نامعلوم مقام پر لے گئے، جاتے ہوئے ایک اہلکار نے انھیں کہا کہ زمان ٹاؤن تھانے لے جا رہے ہیں اور جب انھوں نے وہاں رابطہ کیا تو پولیس نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ایس آئی یو جمشید کوارٹرز بھیج دیا جہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا وہاں بھی نہیں ہے۔
تاہم انھوں نے فوری طور پر ایک درخواست تحریر کر کے ڈی آئی جی ایسٹ منیر شیخ دفتر میں جمع کرانے کے بعد سندھ ہائی کورٹ اور ایس آئی یو جمشید کوارٹر میں بھی درخواست جمع کرا دی تاہم ان کے بیٹے کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ، بیٹے کی محبت میں پاگل ماں دیوانہ وار آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع سینٹرل پولیس آفس پہنچی جہاں اس نے استقبالیہ پر قائم مقام آئی جی سندھ اقبال محمود سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی جہاں پر تعینات عملے نے خاتون سے اتنے سوالات کیے کہ وہ بوکھلا گئی اور بعدازاں درخواست ہی ان تک پہنچنے میں عافیت جانی، خاتون نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں اس کے بیٹے کو جعلی پولیس مقابلے کی نذر نہ کر دیا جائے ، خاتون نے بتایا کہ میرا شوہر معذور ہے جبکہ بیٹا گھر کا واحد کفیل اور پرائیویٹ نوکری کرتا ہے انھوں بتایا کہ اگر میرے بیٹے نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے یا پولیس کے پاس کوئی ثبوت ہے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے کم از کم ہمیں یہ تو بتایا جائے کہ اسے کہاں رکھا گیا ہے، دریں اثنا ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات کی جانب سے چند روز قبل ایک حکم نامہ جاری کیا تھا کہ شہر میں کسی بھی چھاپے یا گرفتاری کے لیے جانے والے پولیس افسران و اہلکار وردی پہن کر اور نمبر پلیٹ لگی ہوئی پولیس موبائلیں استعمال کریں گے تاہم کراچی پولیس نے اپنے سربراہ کے احکامات کی نہ صرف دھجیاں اڑا دیں۔
کراچی پولیس نے اپنے سربراہ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دیں، کورنگی سو کوارٹرز میں سادہ لباس پولیس اہلکار ایک گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہوئے اور اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے گھر میں موجود کاشان احمد عرف کاشف کو گرفتار کر کے اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد اس کی والدہ نے سندھ ہائی کورٹ ، ڈی آئی جی ایسٹ اور ایس آئی یو جمشید کوارٹرز میں اپنے بیٹے کی بازیابی کے حوالے سے درخواستیں جمع کرائیں،خاتون سینٹرل پولیس آفس کے باہر قائم مقام آئی جی سندھ اقبال محمود سے ملنے کی خواہش لیے کئی گھنٹے تک باہر کھڑی رہی جہاں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی،تفصیلات کے مطابق کورنگی سو کوارٹرز سیکٹر 51-D جمعہ گوٹھ کے قریب رہائش پذیر شگفتہ نے سندھ ہائی کورٹ ، ڈی آئی جی ایسٹ اور ایس آئی یو جمشید کوارٹرز میں درخواست جمع کرائی جس میں انھوں نے فریاد کی ہے کہ 26 فروری کو رات گئے چار بجے کے قریب سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے داخل ہوئے اور اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے جواں سال بیٹے کاشان احمد عرف کاشف کو بلاجواز گھیسٹتے ہوئے پولیس موبائل میں ڈال کر نامعلوم مقام پر لے گئے، جاتے ہوئے ایک اہلکار نے انھیں کہا کہ زمان ٹاؤن تھانے لے جا رہے ہیں اور جب انھوں نے وہاں رابطہ کیا تو پولیس نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ایس آئی یو جمشید کوارٹرز بھیج دیا جہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا وہاں بھی نہیں ہے۔
تاہم انھوں نے فوری طور پر ایک درخواست تحریر کر کے ڈی آئی جی ایسٹ منیر شیخ دفتر میں جمع کرانے کے بعد سندھ ہائی کورٹ اور ایس آئی یو جمشید کوارٹر میں بھی درخواست جمع کرا دی تاہم ان کے بیٹے کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ، بیٹے کی محبت میں پاگل ماں دیوانہ وار آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع سینٹرل پولیس آفس پہنچی جہاں اس نے استقبالیہ پر قائم مقام آئی جی سندھ اقبال محمود سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی جہاں پر تعینات عملے نے خاتون سے اتنے سوالات کیے کہ وہ بوکھلا گئی اور بعدازاں درخواست ہی ان تک پہنچنے میں عافیت جانی، خاتون نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں اس کے بیٹے کو جعلی پولیس مقابلے کی نذر نہ کر دیا جائے ، خاتون نے بتایا کہ میرا شوہر معذور ہے جبکہ بیٹا گھر کا واحد کفیل اور پرائیویٹ نوکری کرتا ہے انھوں بتایا کہ اگر میرے بیٹے نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے یا پولیس کے پاس کوئی ثبوت ہے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے کم از کم ہمیں یہ تو بتایا جائے کہ اسے کہاں رکھا گیا ہے، دریں اثنا ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات کی جانب سے چند روز قبل ایک حکم نامہ جاری کیا تھا کہ شہر میں کسی بھی چھاپے یا گرفتاری کے لیے جانے والے پولیس افسران و اہلکار وردی پہن کر اور نمبر پلیٹ لگی ہوئی پولیس موبائلیں استعمال کریں گے تاہم کراچی پولیس نے اپنے سربراہ کے احکامات کی نہ صرف دھجیاں اڑا دیں۔