وفاقی حکومت کا تمام مکتبہ فکر کے علما کا کنونشن بلانے کا فیصلہ

خودکش حملوں کوتعلیمات اسلامی کے منافی قراردینے کیلیے قرارداد منظورکی جائیگی

خودکش حملوں کوتعلیمات اسلامی کے منافی قراردینے کیلیے قرارداد منظورکی جائیگی. فوٹو فائل

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں خود کش حملوں کو اسلامی تعلیمات کے منافی قراردینے اور امن و بھائی چارگی کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کوعام کرنے کے لیے تمام مکاتب فکرکے علمائے کرام کا کنونشن بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔


یہ کنونشن اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا ،حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان اور وفاقی وزیر مذہبی امورسردارمحمد یوسف اہم ٹاسک سپرد کردیا گیا ہے وہ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سے رابطہ کریں اورکنونشن کے حوالے سے سفارشات کریں،وزیراعظم کی منظوری سے علماکنونشن کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا،اس کنونشن میں ایک متفقہ قرارداد منظورکرائی جائے گی ،جس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام خود کش حملوں کواسلامی تعلیمات کے منافی قراردینے کے علاوہ امن کو پیغام کوعام کرنے کے لیے سفارشات پیش کریں گے،ان سفارشات کی روشنی میں وفاقی حکومت چاروں صوبائی حکومتوں اور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے تعاون سے ایک آگہی مہم چلائے گی ،کنونشن کے اعلامیے کا تمام زبانوں میں ترجمہ کیاجائے گا اور اسے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے گھر گھر تقسیم کیا جائے گا۔

اس اعلامیے کے ذریعے امن وبھائی چارگی کے اسلامی پیغام کوفروغ دیاجائے گا جبکہ اس کنونشن میں حکومت علمائے کرام سے اپیل کرے گی کہ وہ جمعے کے خطبات اور مذہبی اجتماعات میں دہشت گردی اورخودکش حملوں کی پرزور مذمت کریں اور لوگوں میں اس حوالے سے شعور اجاگر کریں کہ خودکش حملے اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں اور ایسے حملے کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ علما کنونشن کے حوالے سے وفاقی وزرا چند روز میں اپنے رابطوں کا آغاز کریں گے اور مارچ کے وسط میں علما کنونشن بلایا جاسکتا ہے۔
Load Next Story