بلوچ لاپتہ افراد مجرم ہیں تو عدالت میں لاکر سزا دی جائے ماما قدیر

حقوق مانگتے ہیں تو غدار کہاجاتا ہے، وزیراعظم اور عدلیہ سے شنوائی کی کوئی امید نہیں، ماما قدیر

حقوق مانگتے ہیں تو غدار کہاجاتا ہے، وزیراعظم اور عدلیہ سے شنوائی کی کوئی امید نہیں، ماما قدیر. فوٹو: فائل

VEHARI:
بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ہونے والے لانگ مارچ کے روح رواں ماما قدیر بلوچ نے کہا ہے کہ جب تک ہمارے بھائیوں، بیٹوں، بچوں کو رہا نہیں کیا جاتا، تب تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے، اگر ہمارے بچوں نے کچھ غلط کیا ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق سزادی جائے۔


ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''کل تک'' میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ خواجہ آصف سپریم کورٹ کے کہنے پر عدالت میں آئے اور کہا کہ ہم بہت جلد لاپتہ افراد کو پیش کردیں گے لیکن جب وہ واپس گئے اور نواز شریف سے ملے تو انہوں نے بیان دے دیا کہ ان کے پاس تو کوئی لاپتہ افراد نہیں۔ہمیں تو آج وزیراعظم اورعدلیہ سے امید نہیں رہی کہ کوئی ہماری شنوائی کریگا، ہم اب تک 28 سوکلومیٹر پیدل سفر طے کرچکے ہیں ، اسلام آباد تک یہ سفر تین ہزار کلومیٹر بنتا ہے، اسلام آباد پہنچ کر ہم یواین او کے دفتر کے سامنے دھرنا دیں گے اوروہاں قراردادپیش کریں گے۔آج بھی بلوچستان کے مختلف اضلاع سے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے ۔اگر کوئی کسی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اس کو مار ہی دیا جائے، اگر ہم اپنے حقوق مانگتے ہیں تو غدار کہا جاتا ہے، الطاف حسین نے الگ ملک کی بات کی ،چوہدری پرویزالٰہی نے بھارت میں گریٹر پنجاب کی بات کی تو کیا وہ غدار نہیں ہیں؟ ۔

میرے بیٹے جلیل ریکی کو آئی ایس آئی نے اٹھایا اور پھر تین سال بعد اس کی مسخ شدہ لاش ملی ۔ فرزانہ بلوچ نے کہا کہ میرے بھائی ذاکر مجید بلوچ کو خفیہ اداروں نے اٹھایا وہ سٹوڈنٹ لیڈر تھا اور وہ ریاست کامجرم ہے تو اس کو ریاست کی عدالت میں پیش کیا جائے، ریاست کے قانون کے مطابق سزادی جائے۔یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کوئی کسی کو اٹھا کر لے جائے اور بعد میں اس کی مسخ شدہ لاش ملے ۔ جلیل ریکی کے کم سن بیٹے نے کہا کہ ہم بلوچ بھائیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں ۔کم عمر علی بلوچ نے کہا کہ میرے والد کو 14 جولائی 2010 کو ایجنسیاں اٹھا کر لے گئی تھیں ،وہ گوادر میں مزدوری کرتے تھے، پھر ان کا کو ئی پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں۔سمی بلوچ نے کہا کہ میرے والد سرکاری ہسپتال میں ملازم تھے، خفیہ اداروں والے آئے اور انہوں نے ان پر تشدد کیا اور اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کرلے گئے، پھر آج تک ان کا کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔
Load Next Story