تشدد کا خاتمہ اہم ضرورت
بلوچستان میں پر تشدد واقعات کا گراف بڑھا ہے، گزشتہ روز شہر قائد میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا جن پھر سے بے قابو ہو گیا
کراچی پر جرائم پیشہ افراد اور مافیاز کا قبضہ ہے، ایسا لگتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا سدباب کرنے میں ناکام ہیں۔ فوٹو: فائل
ملکی سلامتی کے استحکام اور خطے کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال میں قوم جہاں حکمرانوں سے درست سیاسی فیصلوں اور ان پر عمل درآمد کی توقع رکھتی ہے وہاں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت میں مائل بہ جنگ عناصر پر غلبے کے حصول میں مکمل ذہنی، عملی اور معروضی ہم آہنگی ہو، ہر قدم تدبر و حکمت ، دور اندیشی اور وسیع تر تزویراتی ویژن کے ساتھ اٹھایا جائے۔ پاک افغان سرحد پر نئے زمینی حقائق ابھرنے والے ہیں، ایک بار پھر ایک بڑی نقل مکانی کا خدشہ ہے اور جس سے نمٹنا بھی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اس ضمن میں حکومت نے اب تک جو اقدامات کیے ہیں وہ مستحسن ہیں، ہو سکتا ہے آیندہ چند روز میں سرجیکل اسٹرائیکس کے نتیجہ میں شمالی وزیرستان سے آبادی کی نقل مکانی کا دباؤ مزید شدت اختیار کر جائے، چنانچہ دفتر خارجہ نے بر وقت اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس کی جانب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیے جانے کی صورت میں افغانستان ہمارے قبائلی علاقے سے فرار ہونے والوں کو پناہ نہیں دے گا، یہ عالمی قوانین اور باہمی ''انڈرسٹینڈنگ'' کی رو سے افغان حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان نے اپنے پڑوسی ممالک کو یقین دلایا ہے کہ اس کی سر زمین ان کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہو گی، اسی طرح ان ممالک کی بھی یہی ذمے داری بنتی ہے جب کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ اب تک فضائی کارروائیاں بہت موثر ثابت ہوئی ہیں، انھوں نے کہا کہ اسلام امن اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، معاشرے سے تشدد کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے، نائن الیون کے بعد پورا خطہ تشدد کا شکار ہے، تاہم 18کروڑ عوام میں چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے، موجودہ حکومت کو معاشرے سے تشدد کے خاتمے کا مینڈیٹ ملا ہے، سرتاج عزیز نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں کیے جانے والے فضائی حملے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا۔ مگر ایک بنیادی حقیقت ہم سب کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ ملک کو کثیر جہتی بدامنی اور لاقانونیت کا سامنا ہے۔ سیاسی استقامت اور شفاف عسکری سٹریٹجی پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو بلاشبہ تشدد اور غیر انسانی واقعات کی پیچیدگیوں اور چیلنجوں کا احساس ہے لیکن نوشتہ دیوار یہ ہے کہ ملک کا معاشی حب کراچی مافیاؤں کی چیرہ دستی، فرقہ وارانہ اور بھتہ خوری پر مبنی ٹارگٹ کلنگ کی آگ میں جل رہا ہے۔
بلوچستان میں پر تشدد واقعات کا گراف بڑھا ہے، گزشتہ روز شہر قائد میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا جن پھر سے بے قابو ہو گیا اور مختلف علاقوں میں فائرنگ اور پرتشدد واقعات کے دوران مدرسہ مفتی العلوم کے مہتمم، ان کے بیٹے اور معروف عالم دین پروفیسر علامہ تقی ہادی نقوی سمیت 9 افراد جاں بحق، متعدد زخمی ہو گئے۔ منی پاکستان میں جرائم کی اندوہ ناک صورتحال کا حوالہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے بھی دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ عوام کے تعاون سے کامیاب ہو گی، کراچی پر جرائم پیشہ افراد اور مافیاز کا قبضہ ہے، ایسا لگتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا سدباب کرنے میں ناکام ہیں، ان خیالات کا اظہار جمعرات کو چیف جسٹس نے کراچی بار کے نو منتخب عہدیداروں کی حلف برادری کی تقریب میں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہم نے قائد کے شہر کے ساتھ کیا کر دیا، ایک وقت تھا کہ اس شہر میں امن تھا، ہر شہری آزادی سے گھوم سکتا تھا، لیکن افسوس کہ اب سب تبدیل ہو چکا ہے، مافیازنے اس شہر کا انتخاب اس لیے کیا ہے کہ اس ملک کو معاشرتی، ثقافتی اور معاشی طور پر تباہ کیا جائے وہ جانتے ہیں کہ کراچی پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے، سیاسی، مذہبی اور انڈر ورلڈ کی ذاتی دشمنیوں نے بے شمار انمول زندگیوں کے چراغ گل کیے ہیں۔ ان فرمودات میں اہل اقتدار کے لیے رہنمائی کے کئی امکانات موجود ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ شمالی علاقوں میں ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے ایسے افراد کی رجسٹریشن سندھ کے لیے خطرہ ہے، ادھر پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹ کمیشن کا اجلاس وزیر اعلیٰ کی معاون خصوصی برائے سماجی بہبود مہر تاج روغانی کی زیر صدارت ہوا جس میں بتایا گیا کہ پشاور کی آبادی 4 ملین کے قریب ہے اور روزانہ تقریباً 20 ہزار افغان باشندے سرحد کے آر پار سفر کرتے ہیں جس کی وجہ سے دہشتگردی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں جب کہ سیکریٹری داخلہ کی طرف سے صوبے بھر کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں کمانڈوز دستوں کے ذریعے ٹارگٹڈ سرچ آپریشن شروع کیا جائے، ادھر شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریبا پانچ ہزار خاندان بنوں، لکی مروت، ڈی ائی اور دیگر مختلف پر امن علاقوں میں منتقل ہو چکے، زیادہ تر لوگ بنوں پہنچ رہے ہیں جہاں کرائے کے مکانات کم پڑ گئے، متاثرین نے سڑکوں پر ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی رٹ کے قیام کے اس اعصاب شکن و نازک مرحلہ میں شورش زدہ علاقوں سے خاندانوں کی ہجرت اور ان کی بحالی کے معاملات کا فوری ادراک کیا جائے، اس وقت ملک کی تمام سیاسی، جمہوری اور مذہبی قوتوں کو ابہام، تضادات اور محاذ آرائی پر مبنی غلط مبحث سے گریز کرنا چاہیے۔ حکومت کی رہنمائی کی جائے جس نے اپنی طرف سے واضح کر دیا ہے کہ جو بات کرنا چاہے اس سے بات ہو گی ورنہ ملکی سالمیت اور داخلی امن کے قیام کے لیے فورسز بالکل تیار ہیں۔
جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان نے اپنے پڑوسی ممالک کو یقین دلایا ہے کہ اس کی سر زمین ان کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہو گی، اسی طرح ان ممالک کی بھی یہی ذمے داری بنتی ہے جب کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ اب تک فضائی کارروائیاں بہت موثر ثابت ہوئی ہیں، انھوں نے کہا کہ اسلام امن اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، معاشرے سے تشدد کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے، نائن الیون کے بعد پورا خطہ تشدد کا شکار ہے، تاہم 18کروڑ عوام میں چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے، موجودہ حکومت کو معاشرے سے تشدد کے خاتمے کا مینڈیٹ ملا ہے، سرتاج عزیز نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں کیے جانے والے فضائی حملے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا۔ مگر ایک بنیادی حقیقت ہم سب کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ ملک کو کثیر جہتی بدامنی اور لاقانونیت کا سامنا ہے۔ سیاسی استقامت اور شفاف عسکری سٹریٹجی پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو بلاشبہ تشدد اور غیر انسانی واقعات کی پیچیدگیوں اور چیلنجوں کا احساس ہے لیکن نوشتہ دیوار یہ ہے کہ ملک کا معاشی حب کراچی مافیاؤں کی چیرہ دستی، فرقہ وارانہ اور بھتہ خوری پر مبنی ٹارگٹ کلنگ کی آگ میں جل رہا ہے۔
بلوچستان میں پر تشدد واقعات کا گراف بڑھا ہے، گزشتہ روز شہر قائد میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا جن پھر سے بے قابو ہو گیا اور مختلف علاقوں میں فائرنگ اور پرتشدد واقعات کے دوران مدرسہ مفتی العلوم کے مہتمم، ان کے بیٹے اور معروف عالم دین پروفیسر علامہ تقی ہادی نقوی سمیت 9 افراد جاں بحق، متعدد زخمی ہو گئے۔ منی پاکستان میں جرائم کی اندوہ ناک صورتحال کا حوالہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے بھی دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ عوام کے تعاون سے کامیاب ہو گی، کراچی پر جرائم پیشہ افراد اور مافیاز کا قبضہ ہے، ایسا لگتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا سدباب کرنے میں ناکام ہیں، ان خیالات کا اظہار جمعرات کو چیف جسٹس نے کراچی بار کے نو منتخب عہدیداروں کی حلف برادری کی تقریب میں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہم نے قائد کے شہر کے ساتھ کیا کر دیا، ایک وقت تھا کہ اس شہر میں امن تھا، ہر شہری آزادی سے گھوم سکتا تھا، لیکن افسوس کہ اب سب تبدیل ہو چکا ہے، مافیازنے اس شہر کا انتخاب اس لیے کیا ہے کہ اس ملک کو معاشرتی، ثقافتی اور معاشی طور پر تباہ کیا جائے وہ جانتے ہیں کہ کراچی پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے، سیاسی، مذہبی اور انڈر ورلڈ کی ذاتی دشمنیوں نے بے شمار انمول زندگیوں کے چراغ گل کیے ہیں۔ ان فرمودات میں اہل اقتدار کے لیے رہنمائی کے کئی امکانات موجود ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ شمالی علاقوں میں ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے ایسے افراد کی رجسٹریشن سندھ کے لیے خطرہ ہے، ادھر پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹ کمیشن کا اجلاس وزیر اعلیٰ کی معاون خصوصی برائے سماجی بہبود مہر تاج روغانی کی زیر صدارت ہوا جس میں بتایا گیا کہ پشاور کی آبادی 4 ملین کے قریب ہے اور روزانہ تقریباً 20 ہزار افغان باشندے سرحد کے آر پار سفر کرتے ہیں جس کی وجہ سے دہشتگردی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں جب کہ سیکریٹری داخلہ کی طرف سے صوبے بھر کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں کمانڈوز دستوں کے ذریعے ٹارگٹڈ سرچ آپریشن شروع کیا جائے، ادھر شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریبا پانچ ہزار خاندان بنوں، لکی مروت، ڈی ائی اور دیگر مختلف پر امن علاقوں میں منتقل ہو چکے، زیادہ تر لوگ بنوں پہنچ رہے ہیں جہاں کرائے کے مکانات کم پڑ گئے، متاثرین نے سڑکوں پر ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی رٹ کے قیام کے اس اعصاب شکن و نازک مرحلہ میں شورش زدہ علاقوں سے خاندانوں کی ہجرت اور ان کی بحالی کے معاملات کا فوری ادراک کیا جائے، اس وقت ملک کی تمام سیاسی، جمہوری اور مذہبی قوتوں کو ابہام، تضادات اور محاذ آرائی پر مبنی غلط مبحث سے گریز کرنا چاہیے۔ حکومت کی رہنمائی کی جائے جس نے اپنی طرف سے واضح کر دیا ہے کہ جو بات کرنا چاہے اس سے بات ہو گی ورنہ ملکی سالمیت اور داخلی امن کے قیام کے لیے فورسز بالکل تیار ہیں۔