سیکڑوں نئے سیاروں کی دریافت
ناسا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہمارے شمسی نظام کے باہر 715 نئے سیارے دریافت کر لیے گئے ہیں۔
ناسا امریکا کا خلائی تحقیقات کا ادارہ ہے جس کا بجٹ اربوں کھربوں ڈالر میں ہے، جس کی سرگرمیوں کو اسٹار وارز کا نام بھی دیا جاتا ہے۔فوٹو:فائل
شاعر نے نہ جانے کس حوالے سے کہا تھا کہ:
یاران تیز گام نے محمل کو جا لیا
ہم محو نالۂ جرس کارواں رہے
تاہم جب ہم دوسری اقوام کی سائنس اور دیگر شعبوں میں ترقی کی حیرت انگیز کہانیاں پڑھتے ہیں تو ذہن میں اسی قسم کے احساسات ابھرتے ہیں جن کی متذکرہ شعر میں عکاسی کی گئی ہے۔ امریکا کے خلائی تحقیقات کے ادارے ناسا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہمارے شمسی نظام کے باہر 715 نئے سیارے دریافت کر لیے گئے ہیں۔ ناسا امریکا کا خلائی تحقیقات کا ادارہ ہے جس کا بجٹ اربوں کھربوں ڈالر میں ہے، جس کی سرگرمیوں کو اسٹار وارز کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اس ادارے نے خلا میں مختلف مصنوعی سیارچے چھوڑ رکھے ہیں جو امریکا کو دنیا کے کونے کونے کی تصویری معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں جس سے امریکا کی طاقت اور دنیا پر بالادستی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ناسا نے خلائی اسٹیشن پر کئی نہایت طاقتور دوربینیں بھی چھوڑ رکھی جن میں ہبل اور کیپلر نامی دوربینیں زیادہ معروف ہیں۔ کیپلر دوربین کا اصل کام خلائے بسیط میں کوئی ایسا سیارہ تلاش کرنا ہے جس پر ہماری زمین کی مانند زندگی کی موجودگی کے آثار مل سکیں تا کہ ضرورت پڑنے پر دنیا کی اضافی آبادی کو وہاں منتقل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
715 نئے سیاروں کی کہ دریافت خلا میں زندگی کے امکانات کی تلاش کے حوالے سے ایک بہت اہم اقدام ہے۔ نئے دریافت کیے جانے والے 715 سیاروں میں سے زیادہ کا حجم ہماری زمین کے برابر ہے' ان میں سے چار کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہاں پانی موجود ہو سکتا ہے جو زندگی کی نمو کے لیے ناگزیر ہے۔ ان چاروں کا حجم ہماری زمین سے دگنا ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ممکن ہے وہاں زمین کی مانند مٹی اور چٹانیں نہ ہوں بلکہ یہ محض گیسوں پر مشتمل ہوں۔ پاکستان کے اہل اقتدار کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کر کے سائنس کی ترقی کے لیے زیادہ رقم مختص کریں تاکہ وطن عزیز بھی اقوام عالم میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوسکے۔
یاران تیز گام نے محمل کو جا لیا
ہم محو نالۂ جرس کارواں رہے
تاہم جب ہم دوسری اقوام کی سائنس اور دیگر شعبوں میں ترقی کی حیرت انگیز کہانیاں پڑھتے ہیں تو ذہن میں اسی قسم کے احساسات ابھرتے ہیں جن کی متذکرہ شعر میں عکاسی کی گئی ہے۔ امریکا کے خلائی تحقیقات کے ادارے ناسا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہمارے شمسی نظام کے باہر 715 نئے سیارے دریافت کر لیے گئے ہیں۔ ناسا امریکا کا خلائی تحقیقات کا ادارہ ہے جس کا بجٹ اربوں کھربوں ڈالر میں ہے، جس کی سرگرمیوں کو اسٹار وارز کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اس ادارے نے خلا میں مختلف مصنوعی سیارچے چھوڑ رکھے ہیں جو امریکا کو دنیا کے کونے کونے کی تصویری معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں جس سے امریکا کی طاقت اور دنیا پر بالادستی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ناسا نے خلائی اسٹیشن پر کئی نہایت طاقتور دوربینیں بھی چھوڑ رکھی جن میں ہبل اور کیپلر نامی دوربینیں زیادہ معروف ہیں۔ کیپلر دوربین کا اصل کام خلائے بسیط میں کوئی ایسا سیارہ تلاش کرنا ہے جس پر ہماری زمین کی مانند زندگی کی موجودگی کے آثار مل سکیں تا کہ ضرورت پڑنے پر دنیا کی اضافی آبادی کو وہاں منتقل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
715 نئے سیاروں کی کہ دریافت خلا میں زندگی کے امکانات کی تلاش کے حوالے سے ایک بہت اہم اقدام ہے۔ نئے دریافت کیے جانے والے 715 سیاروں میں سے زیادہ کا حجم ہماری زمین کے برابر ہے' ان میں سے چار کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہاں پانی موجود ہو سکتا ہے جو زندگی کی نمو کے لیے ناگزیر ہے۔ ان چاروں کا حجم ہماری زمین سے دگنا ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ممکن ہے وہاں زمین کی مانند مٹی اور چٹانیں نہ ہوں بلکہ یہ محض گیسوں پر مشتمل ہوں۔ پاکستان کے اہل اقتدار کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کر کے سائنس کی ترقی کے لیے زیادہ رقم مختص کریں تاکہ وطن عزیز بھی اقوام عالم میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوسکے۔