حمید نظامی … جدید صحافت کا بانی

میری خوش نصیبی کہ اردو صحافت کی عظمت نہایت فراخدلی کے ساتھ مجھ پر سایہ فگن رہی اور مجھ دیہاتی کو صحافی بنا دیا۔

Abdulqhasan@hotmail.com

میری خوش نصیبی کہ اردو صحافت کی عظمت نہایت فراخدلی کے ساتھ مجھ پر سایہ فگن رہی اور مجھ دیہاتی کو صحافی بنا دیا۔ عالی مرتبت حمید نظامی نے مجھے لکھنا سکھایا جیسے کسی بچے کو اس کی انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا جاتا ہے۔ میرے بھی قلم کو پکڑ کر اسے چلنا سکھایا گیا۔ آج میں اس قلم سے اس کی یاد میں یہ کالم لکھ رہا ہوں بلکہ جسارت کر رہا ہوں۔ اردو صحافت کے بلاشبہ سب سے بڑے ایڈیٹر نے بہت ہی تھوڑے عرصے میں یہ منفرد مقام حاصل کر لیا جو اب شاید کسی کو بھی حاصل نہ ہو سکے، زمانہ بہت بدل چکا ہے اور اردو صحافت اپنی بلوغت کے بعد بالکل نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ نظامی صاحب ایک مسلّمہ بہترین ایڈیٹر تھے، ان کے نظریاتی مخالفوں بلکہ دشمنوں نے ان کی زندگی میں ہی ان کی پیشہ ورانہ برتری کا اعتراف کیا۔ ہفت روزہ لیل و نہار کے دونوں ایڈیٹر جناب فیض احمد فیضؔ اور سید سبط حسن جب ایک دن ادارئیے کے لیے موضوع تلاش کر رہے تھے تو انھوں نے مایوس ہو کر کہا کہ نظامی حالات حاضرہ کا کوئی موضوع جانے ہی نہیں دیتا جس پر کوئی لکھ سکے۔ روز مرہ کے حالات کو اپنے اخبار میں پوری طرح سمیٹ لینے کا ہنر نظامی صاحب کو حاصل تھا جب کہ ان کی معاصر اور ان سے پہلے کی صحافت روز مرہ کے موضوعات پر زیادہ توجہ نہیں دیتی تھی۔ مضامین لکھے جاتے تھے۔ نظامی صاحب نے صاف اور سیدھی عام فہم زبان میں آج کی بات آج کرنے کا آغاز کیا اور صحافت کو جدید ترین بنا دیا، اردو اخبار کے بے وقعت اداریوں کو پہلی بار ان کی وجہ سے وقعت ملی اور ان کے اخبار کا اداریہ حکمرانوں کی بھی ایک مجبوری بن گئی۔

اب میں اپنے ذاتی تجربے کے حوالے سے کچھ عرض کرتا ہوں۔ میں نے گاؤں سے انھیں صحافت میں آنے کے ارادے سے خط لکھا حسب عادت انھوں نے فوری جواب دیا اور کہا کہ یہ پیشہ باہر سے جو دکھائی دیتا ہے اندر سے ایسا نہیں، بہت مشکل اور جاں گداز ہے، سخت محنت لیکن معمولی معاوضہ۔ وہ مجھے لاہور میں کچھ وقت کے لیے میری ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے جانتے تھے اور کافی ہاؤس میں آنے جانے کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی شکل سے شناسا تھے۔ میں خط کا جواب دینے کے بجائے خود ہی حاضر ہو گیا۔ وہ اپنی کوٹھی کے لان میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ پھر آ ہی گئے، تشریف رکھئے اور ساتھ ہی لان میں کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھ کر کہا، عارف چائے کا کہو۔ کچھ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد جب چائے ختم ہوئی تو کہا کہ کل دفتر میں شیخ حامد صاحب سے مل لیں۔ حامد محمود ان کے حصہ دار بھی تھے۔ میں حاضر ہوا تو اس سے پہلے حسب معمول صبح کی ملاقات میں نظامی صاحب ان سے بات کر چکے تھے۔ پھر عجیب بات ہوئی جیسے شیخ حامد محمود میرے بزرگ ہیں اور مجھے پڑھنے کے لیے شہر بھیج رہے ہیں۔ انھوں نے میرے روز مرہ کے اخراجات معلوم کیے۔ میں وائی ایم سی اے کے ہوسٹل میں مقیم تھا۔ کرائے کے علاوہ صبح ناشتے سے لے کر رات کے کھانے اور پھر دھوبی اور حجام کے خرچے تک کے اخراجات جمع کیے تو یہ کوئی ایک سو روپے کے قریب بنے، اس پر انھوں نے بیس روپے میرا جیب خرچ مقرر کیا اور یوں ایک چھوٹے موٹے فیوڈل لارڈ کے بیٹے نے صرف ایک سو بیس روپے ماہوار کی تنخواہ میں کام شروع کر دیا۔ اس سے قبل نظامی صاحب مجھ سے پوچھ چکے تھے کہ میرے پاس سائیکل ہے یا نہیں۔

میں یہاں نوائے وقت میں اپنے سینئر کے بارے میں کچھ عرض نہیں کروں گا کہ وہ سب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ مجھے سب سے پہلے رپورٹنگ میں ڈال دیا گیا۔ شکر ہے کہ ایک معقول آدمی زاہد چوہدری چیف رپورٹر تھے، انھوں نے مجھ نا تجربہ کار اور اناڑی کو سنبھال لیا۔ اخبار میں آ کر پتہ چلا کہ یہ پیشہ کس قدر مشکل ہے۔ لاہور کی گرمی اور مئی کا مہینہ تھا۔ ڈیوٹی شہر بھر کی کرائم کی خبریں جمع کرنا۔ بہر کیف سب مرحلے طے ہو گئے اور میں اخبار میں سینئر کی مخالفت کے باوجود گھس گیا۔ نظامی صاحب کو جب پتہ چلا کہ مجھے رپورٹنگ دی گئی ہے تو انھوں نے کہا کہ میں تو اسے لکھنے کا کام دینا چاہتا تھا۔ حبیب اللہ اوج صاحب ڈپٹی ایڈیٹر تھے ان کے ساتھ لگا دیا۔ اداریہ کے صفحے اور خبروں کے ایک صفحے پر کام شروع کیا۔ ایک بار ادارتی صفحہ پر اپنا ایک مضمون چھاپ دیا۔ فوراً ہی چٹ آ گئی کہ یہ مضمون اخبار کا نہیں تھا کسی رسالے وغیرہ کا تھا جو کسی بھی دن بلکہ کسی بھی سال چھاپا جا سکتا تھا۔ روزنامہ اخبار کے مضامین تو تازہ حالات کے ہوتے ہیں۔


میں اخبار میں آپرنٹس تھا اور شوق تھا باقاعدہ صحافی بننے کا چنانچہ جب نوائے وقت راولپنڈی میں سب ایڈیٹر کی جگہ خالی ہوئی تو میں نے درخواست دے دی۔ نظامی صاحب نے بلا کر کہا کہ میں تمہیں آج ہی وہاں بھیج دیتا ہوں مگر وہاں تم ہمیشہ سب ایڈیٹر ہی رہو گے، لاہور میں کام کرتے رہے تو ترقی کر سکوں گے۔ یہ ان کی خصوصی مہربانی تھی۔ انھی دنوں ایک اور واقعہ بھی ہوا اور میں نظامی صاحب کی مہربانیوں کا لحاظ نہ کرتے ہوئے ترقی کے شوق میں لیل و نہار میں چلا گیا۔ نظامی صاحب کے شدید ترین مخالف اخباری ادارے میں۔ جب ایوب خان نے اس ادارے کو پریس ٹرسٹ میں لے لیا تو کئی لوگوں نے استعفے دے دیے، میں نے بھی اور اعلان کیا کہ میں واپس نوائے وقت میں جا رہا ہوں۔ ہر ایک نے کہا کہ حمید نظامی تمہیں اب کسی صورت میں بھی قبول نہیں کر سکتا لیکن میں نے انھیں خط لکھا اور دوسرے دن بلا لیا گیا صرف اتنا پوچھا کہ کہیں کمیونسٹ تو نہیں ہو گئے، میرے انکار پر کہا کہ کل سے کام شروع کر دو، اس وقت یہ واقعہ لاہور کی اخباری دنیا کی شہہ سرخی تھی۔ نظامی صاحب کے اس رویے پر ہر کوئی حیران تھا۔

نظامی صاحب سے میرے جیسے جونیئر کی ملاقات نہیں ہوتی تھی لیکن وہ کسی غلطی پر فوراً ہی گرفت کر لیتے تھے۔ ایک چٹ موصول ہوتی جسے لو لیٹر کہا جاتا تھا، اس میں غلطی کی نشاندہی اور اس کی جگہ صحیح بات کیا ہونی چاہیے تھی اس کا اندراج۔ یہی رقعے ان کی تربیت کا ذریعہ تھے۔ بڑے ہی بد خط تھے اور ایک خاص کاتب ہی ان کی اخباری تحریر کی کتابت کر سکتا تھا۔ وہ بظاہر بہت ہی سخت گیر تھے لیکن اللہ جانے کیوں وہ میرے معاملے میں نرم دل تھے جب کہ وہ کٹر مسلم لیگی اور میں ان کی مخالف جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا تھا۔ میرا ان کے ساتھ کوئی نظریاتی یا طبقاتی تعلق بھی نہیں تھا لیکن جیسے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی گئی تھی کہ اس لڑکے کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کرنا ہے اور اسے سکھانا بھی ہے۔

نظامی صاحب کی سیاسی زندگی سب کے سامنے ہے، میں صرف ان کی صحافت کی بات کر رہا ہوں جیسا کہ عرض کیا ہے وہ اپنے دور کے سب سے بڑے بلکہ صحافت کے نئے دور کے بانی تھے۔ ایسے لوگوں کو اپنے خاندان میں سے صحیح جانشین نہیں ملا کرتے لیکن عجیب بات ہے کہ اس عظیم المرتبت صحافی کو ان کا نعم البدل مل گیا، ان کا چھوٹا بھائی مجید نظامی۔ مرحوم نظامی صاحب کے بعد مجید صاحب نے اس اخبار کو زندہ رکھنے میں کمال حاصل کر لیا بلکہ بدلتے زمانے میں اس اخبار کے معیار کو وقت کے ساتھ ساتھ بدل بھی دیا۔ میں نے ایک طویل عرصہ تک مجید صاحب کی نگرانی میں بھی کام کیا۔ بلا تکلف یہ کہہ سکتا ہوں کہ اپنے اپنے وقت میں ان دونوں بھائیوں سے بڑا ایڈیٹر میں نے نہیں دیکھا، میں شاید وہ واحد زندہ صحافی ہوں جس نے دونوں کے ساتھ کام کیا ہے اور میں اپنے تجربے اور مشاہدے کے مطابق یہ سب کہہ سکتا ہوں۔

نظامی صاحب کا جب جنازہ جا رہا تھا تو لوگوں کا ہجوم دیکھ کر کسی نے پوچھا کہ کس کا جنازہ ہے، پاس کھڑے ایک صاحب نے کہا کہتے ہیں یہ اخبار نویسوں کا پیر تھا۔
Load Next Story