افغان کارگو لاجسٹک اداروں کوشامل تفتیش کیاجائے کسٹمزایجنٹس

کمرشل کارگوکاکوئی کنٹینرغائب نہیں ہوا،تحقیقات کی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔

ریلوے واین ایل سی کوتحقیقاتی عمل میں شامل کیاجائے،5رکنی وفد کی ڈی جی نیب سے ملاقات فوٹو: فائل

افغان کمرشل کارگو کی طویل دورانیے سے تحقیقات میں متعلقہ ذمے دار لاجسٹک اداروں کو شامل تفتیش نہ کرنے پر کسٹمز و بارڈر ایجنٹس نے تحفظات کا اظہار کردیا ہے، تحقیقاتی ادارے طویل دورانیے سے نیٹو و ایساف کے بجائے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کارگوکنٹینرزکی 450 کسٹمز وبارڈر ایجنٹس سیانکوائری کررہے ہیں ۔

جبکہ ان تحقیقات میں قومی اداروں کو شامل نہیں کیا جارہا جو افغان کمرشل کارگو کی ترسیل کے اصل ذمے دار تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کو طورخم اور پشاور کے کسٹمز وبارڈر ایجنٹس کے 5 رکنی وفدکی قومی احتساب بیوروکے ڈائریکٹر جنرل واجد درانی سے ملاقات ہوئی جس میں خیبرپختونخوا اور چمن کے کسٹمزکلیئرنگ اور بارڈر ایجنٹس کی جانب سے کراچی میں طویل دورانیے سے جاری تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ وفدمیں خیبرپختونخوا چیمبر پشاور کے سابق سینئر نائب صدر اور پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبرکے ڈائریکٹر ضیاء الحق سرحدی، پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ گروپ کے سربراہ فاروق احمد، شاہ افضل شنواری، تنویر پراچہ اور محمد آصف شامل تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ وفد کے سربراہ ضیاء الحق سرحدی کا موقف تھا کہ نیب کے جاری تحقیقاتی عمل میں پاکستان ریلوے اور این ایل سی کو بھی شامل کیا جائے جبکہ خیبرپختونخوا کے کسٹمزوبارڈرایجنٹس سے وہاں کے علاقائی نیب دفتر اور بلوچستان کے کسٹمزوبارڈرایجنٹس سے وہاں کے مقامی نیب علاقائی دفتر میں مقدمات کی سماعت کی جائے کیونکہ سندھ ہائیکورٹ میں کیس دائر ہونے سے خیبر پختونخوا اورچمن کے بارڈر ایجنٹس کو ہر مرحلے پر کراچی آکر پیشیاں بھگتنا پڑ رہی ہیں جو مشکلات میں اضافے کا باعث ہے۔


اس سلسلے میں فاروق احمد نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر بتایا کہ غائب ہونے والے کنٹینرز کی تحقیقات کی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس تحقیقاتی عمل کے مطلوبہ نتائج برآمد ہوسکیں۔ انہوں نے مختلف محکموں کی جانب سے غائب ہونے والے کنٹینرز کے اعدادوشمار پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحقیقات سال2007 سے2011 کے دوران نیٹو اور ایساف کے غائب ہونے والے کنٹینرزکے انکشاف پر شروع کی گئی تھی لیکن اب اس تحقیقات کا رخ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کمرشل کارگو کی جانب موڑ دیا گیا ہے جس کے بارے میں افغان وزارت تجارت نے پاکستانی حکام کو پہلے ہی بذریعہ خط آگاہ کردیا ہے کہ زیرتبصرہ مدت میں ان کے درآمدکنندگان کو اے ٹی ٹی کنٹینرز موصول ہوچکے ہیں، اسی طرح محکمہ کسٹمز پشاور کلکٹریٹ نے بھی ان کنٹینرز کے کراس بارڈر سرٹیفکیٹس فراہم کردیے ہیں۔

پشاور کسٹمز کلکٹریٹ کا صرف یہ موقف ہے کہ طورخم سرحد سے افغان کمرشل کارگو کے صرف28 تا30 کنٹینرغائب ہیں جبکہ چمن بارڈر سے تقریباً 300 کمرشل کارگوکنٹینرز غائب ہیں۔ فاروق احمد نے بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ زیرتبصرہ مدت کے دوران افغان کمرشل کا کوئی بھی کنٹینرغائب نہیں ہوا تاہم پرال کے سسٹم میں خرابیوں کی وجہ سے محدود پیمانے پر کنٹینرز کاغائب ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔ ایک سوال پر فاروق احمد نے بتایا کہ امان گڑھ نوشہرہ سے صرف 6 روز میں کنٹینر ڈیوٹی وٹیکسوں کی ادائیگیوں اور خالی ہونے کے بعد واپس کراچی پہنچ سکتا ہے لہٰذا یہ تاثر غلط ہے کہ 8 یوم میں افغان کمرشل کارگو کے کنٹینرزکراچی واپس نہیں پہنچ سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ طویل دورانیے سے اے ٹی ٹی کنسائمنٹس کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے اے ٹی ٹی کنٹینرز کی ہینڈلنگ 80 فیصد کم ہوگئی ہے اور اب افغان تاجر اپنے اے ٹی ٹی کنٹینرز کی بندرعباس کے توسط سے ہینڈلنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔
Load Next Story