واٹربورڈکی ماہانہ آمدنی50کروڑاخراجات ایک ارب سے تجاوز

آبادی میں اضافے کے باعث 400ملین گیلن پانی کی کمی کاسامنا ہے،ایم ڈی واٹربورڈ

حکومت فنڈنہیں دیتی،واٹر بورڈ اخراجات خودپورے کر تاہے،جائیکاکے نمائندے سے ملاقات ۔ فوٹو: فائل

KUT:
جاپان انٹر نیشنل کارپوریشن ایجنسی کے نمائندہ ستوشی ہامانو نے ایم ڈی واٹر بورڈ قطب الدین شیخ اور افسران سے ملاقات کی۔


ملاقات کا مقصد واٹر بورڈ کے اخراجات وآمدنی کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا تھا،اس موقع پر ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر فنانس خلیق احمد،ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ریونیومحمد اسلم خان،ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر پلاننگ مشکور الحسنین ، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ٹیکنیکل سر وسز نجم عالم صدیقی،چیف انجینئرحسن اعجاز کاظمی،محمد ایوب شیخ ، نور محمد ، اسد اللہ اور دیگر افسران موجود تھے،اس موقع پر ایم ڈی واٹر بورڈ نے جائیکا کے نمائندے کو بتایا کہ واٹر بورڈ کراچی شہر کی 2کروڑ سے زائد آبادی کوپانی وسیو ریج کی سہولت بغیر کسی نفع و نقصان کی پالیسی کے تحت فراہم کرتا ہے،اس وقت واٹر بورڈ کے اخراجات ایک ارب روپے ماہانہ سے تجاوز کرگئے ہیں، آمدنی کی مد میں 50 سے 55 کروڑ وصول ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ پانی کے نر خ میں کمی ہے ،بجلی کے بلوں کی مد میں کثیر رقم ادا کرنا ہوتی ہے ،پاکستان کے دوسرے شہروں کے واساز کے بجلی کے بلز کی ادائیگی گورنمنٹ کر تی ہے ۔

ادارہ کی جانب سے حکو مت سے درخواست کی جاچکی ہے کہ دوسرے واساز کی طرح بجلی کے بلوں کی ادائیگی حکو مت کرے تاکہ واٹر بورڈ کو ریلیف حاصل ہو سکے،انھوں نے بتایا کہ شہر کی آبادی میں اضافہ کے باعث پانی کی طلب و رسد میں واضح فرق آگیا ہے،اس وقت 400 ملین گیلن پانی کی کمی کاسامنا ہے جس کو پورا کر نے کے لیے K-iv کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے ایکنیک اور حکومت کی منظوری کے بعد مکمل ہونے سے 260ملین گیلن اضافی پانی فراہم کیاجائے گا،جبکہ دوسرے منصوبہ S-111 کے ذریعے گھریلو سیوریج کو ٹریٹ کرکے سمندر بر د کیاجا سکے گا،واٹر بورڈ بلک صارفین سے میٹر ریڈنگ کے زریعے جبکہ گھریلو صارفین سے بلنگ کے ذریعے وصول کر تا ہے 60 گز سے 81روپے ماہانہ،جبکہ 120 گز سے 111روپے ماہانہ وصول کر تا ہے بلک صارفین سے 1000 گیلن پانی کے 130 روپے وصول کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے واٹر بورڈ کو اخراجات پر قابو پانے میں دشواری کا سامنا کر نا پڑتا ہے جبکہ اس سلسلے میں گورنمنٹ کی جانب سے کو ئی فنڈنگ نہیں ہے واٹر بورڈ اپنے زرائع سے تمام اخراجات پورے کر تا ہے۔
Load Next Story