ماہ فروری19پولیس اہلکاروں سمیت192افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا
جاں بحق افرادمیں مذہبی شخصیات،سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان بھی شامل ہیں
ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود شہر میں گاڑیوں کی چھینا جھپٹی کے واقعات میں بھی کوئی نمایاں کمی نہیں آسکی ، فوٹو: فائل
شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے بعد قتل کر کے لاشیں پھینکنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ فروری میں بھی جاری رہا، رواں سال کے دوسرے مہینے میں بھی نہ صرف قتل و غارت گری کا بازار گرم رہا بلکہ پولیس اور رینجرز کو بم اور خودکش حملے کے ذریعے نشانہ بھی بنایا گیا، فروری میں شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں 19 پولیس اہلکاروں سمیت 192 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
جاں بحق ہونیوالوں میں مذہبی شخصیات ، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عہدیداران اور کارکنان بھی شامل ہیں، شہر کے مختلف علاقے دستی بم ، بال بم ، کریکر اور آوان گولوں سے گونجتے رہے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے والے جب خود دہشت گردی کا شکار ہونے لگیں تو شہریوں کا تحفظ کون کرے گا؟، پولیس اور رینجرز کے درمیان گرفتار ملزمان کے اعداد و شمار کا مقابلہ جاری ہے اور اس میں بڑھ چڑھ کر گرفتاریاں اور ان سے برآمد ہونے والے جدید اسلحے اور گولا بارود کی برآمدگی ظاہر کرنے کے باوجود ٹارگٹ کلرز اور دہشت گرد فروری میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے، اعداد و شمار کے مطابق یکم فروری کو 7 افراد ، 2 فروری کو 2 افراد ، 3 فروری کو 9 افراد ، 4 فروری کو 5 افراد ، فروری کو 5 افراد ، 6 فروری کو 5 افراد ، 7 فروری کو 4 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، 8 فروری کو 8 افراد ، 9 فروری کو 11 افراد ، 10 فروری کو 10 افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا ، 11 فروری کو 3 افراد ، 12 فروری کو 7 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ، 13 فروری کو شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے میں پولیس بس کو بارود سے بھری ہوئی گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ۔
جس میں 13 زیر تربیت پولیس کمانڈوز جاں بحق جبکہ 57 اہلکار زخمی ہوگئے اس دوران شہر کے مختلف واقعات میں 2 افراد کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ، 14 فروری کو قیوم آباد کے قریب رینجرز کے سیکٹر کمانڈر خودکش حملے میں بال بال بچ گئے تاہم دھماکے میں ان کی گاڑی تباہ ہوگئی جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں 5 افراد کو ابدی نیند سلا دیا گیا ، 15 فروری کو 8 افراد ، 16 فروری کو 4 افراد ، 17 فروری کو 9 افراد ، 18 فروری کو 14 افراد ، 19 فروری کو ایک شخص ، 20 فروری کو 11 افراد ، 21 فروری کو 2 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، 22 فروری کو 6 افراد ، 23 فروری کو 5 افراد ، 24 فروری کو 9 افراد ، 25 فروری کو 7 افراد ، 26 فروری کو 2 افراد ، 27 فروری کو 9 افراد جبکہ 28 فروری کو ناظم آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے 2 کارکنان اور رینجرز کی فائرنگ سے ایک شخص سمیت 8 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، فروری میں شہر میں جہاں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے بعد لاشیں پھینکنے کا سلسلہ جاری رہا وہیں پر ملزمان کی جانب سے دستی بم ، کریکر ، بال بم اور اوان گولے داغے جانے کا بھی نہ رکنے والا سلسلہ جاری رہا اور اس دوران شہر کے مختلف علاقوں میں 25 سے زائد دستی بم ، بال بم ، کریکر اور اوان گولوں کے حملے کیے گئے جس میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود شہر میں گاڑیوں کی چھینا جھپٹی کے واقعات میں بھی کوئی نمایاں کمی نہیں آسکی ، شہریوں سے گزشتہ فروری کے28 روز میں کروڑوں روپے مالیت کی 353 گاڑیاں ، 1618 موٹر سائیکلیں اور 2 ہزار موبائل فون چوری و چھین لیے گئے جبکہ گزشتہ ماہ 3 بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں ڈاکو 50 لاکھ روپے سے زائد رقم لوٹ کر فرار ہوگئے جبکہ پولیس ان وارداتوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ، پولیس اور رینجرز کی جانب سے شہر میں بھتہ خوروں کے خلاف کارروائیوں کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود گزشتہ ماہ بھتہ خوروں کی جانب سے تاجروں ، دکانداروں اور دیگر شہریوں کو بھتے کی 72 پرچیاں بھیجی گئیں جس میں انھیں بھتہ نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں ۔
جاں بحق ہونیوالوں میں مذہبی شخصیات ، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عہدیداران اور کارکنان بھی شامل ہیں، شہر کے مختلف علاقے دستی بم ، بال بم ، کریکر اور آوان گولوں سے گونجتے رہے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے والے جب خود دہشت گردی کا شکار ہونے لگیں تو شہریوں کا تحفظ کون کرے گا؟، پولیس اور رینجرز کے درمیان گرفتار ملزمان کے اعداد و شمار کا مقابلہ جاری ہے اور اس میں بڑھ چڑھ کر گرفتاریاں اور ان سے برآمد ہونے والے جدید اسلحے اور گولا بارود کی برآمدگی ظاہر کرنے کے باوجود ٹارگٹ کلرز اور دہشت گرد فروری میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے، اعداد و شمار کے مطابق یکم فروری کو 7 افراد ، 2 فروری کو 2 افراد ، 3 فروری کو 9 افراد ، 4 فروری کو 5 افراد ، فروری کو 5 افراد ، 6 فروری کو 5 افراد ، 7 فروری کو 4 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، 8 فروری کو 8 افراد ، 9 فروری کو 11 افراد ، 10 فروری کو 10 افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا ، 11 فروری کو 3 افراد ، 12 فروری کو 7 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ، 13 فروری کو شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے میں پولیس بس کو بارود سے بھری ہوئی گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ۔
جس میں 13 زیر تربیت پولیس کمانڈوز جاں بحق جبکہ 57 اہلکار زخمی ہوگئے اس دوران شہر کے مختلف واقعات میں 2 افراد کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ، 14 فروری کو قیوم آباد کے قریب رینجرز کے سیکٹر کمانڈر خودکش حملے میں بال بال بچ گئے تاہم دھماکے میں ان کی گاڑی تباہ ہوگئی جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں 5 افراد کو ابدی نیند سلا دیا گیا ، 15 فروری کو 8 افراد ، 16 فروری کو 4 افراد ، 17 فروری کو 9 افراد ، 18 فروری کو 14 افراد ، 19 فروری کو ایک شخص ، 20 فروری کو 11 افراد ، 21 فروری کو 2 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، 22 فروری کو 6 افراد ، 23 فروری کو 5 افراد ، 24 فروری کو 9 افراد ، 25 فروری کو 7 افراد ، 26 فروری کو 2 افراد ، 27 فروری کو 9 افراد جبکہ 28 فروری کو ناظم آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے 2 کارکنان اور رینجرز کی فائرنگ سے ایک شخص سمیت 8 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، فروری میں شہر میں جہاں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے بعد لاشیں پھینکنے کا سلسلہ جاری رہا وہیں پر ملزمان کی جانب سے دستی بم ، کریکر ، بال بم اور اوان گولے داغے جانے کا بھی نہ رکنے والا سلسلہ جاری رہا اور اس دوران شہر کے مختلف علاقوں میں 25 سے زائد دستی بم ، بال بم ، کریکر اور اوان گولوں کے حملے کیے گئے جس میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود شہر میں گاڑیوں کی چھینا جھپٹی کے واقعات میں بھی کوئی نمایاں کمی نہیں آسکی ، شہریوں سے گزشتہ فروری کے28 روز میں کروڑوں روپے مالیت کی 353 گاڑیاں ، 1618 موٹر سائیکلیں اور 2 ہزار موبائل فون چوری و چھین لیے گئے جبکہ گزشتہ ماہ 3 بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں ڈاکو 50 لاکھ روپے سے زائد رقم لوٹ کر فرار ہوگئے جبکہ پولیس ان وارداتوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ، پولیس اور رینجرز کی جانب سے شہر میں بھتہ خوروں کے خلاف کارروائیوں کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود گزشتہ ماہ بھتہ خوروں کی جانب سے تاجروں ، دکانداروں اور دیگر شہریوں کو بھتے کی 72 پرچیاں بھیجی گئیں جس میں انھیں بھتہ نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں ۔